ہفتہ وار کالمز

میک ویسٹ گریٹ اگین!

سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو کی میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں تقریر ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ اس پلیٹ فارم کو اپنی خارجہ پالیسی کی تشہیر کے لیے استعمال کررہاہے۔ گذشتہ برس اسی کانفرنس میں نائب صدر جے ڈی وینس نے بغیر کسی لگی لپٹی کے یورپی ممالک کو انتباہ کیا تھا کہ وہ اپنی دفا عی ضروریات خود پوری کریں کیونکہ امریکہ اب یہ ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکتا۔ یورپی میڈیا نے اس تقریر کو طنزیہ اور تضحیک آمیز قرار دیا تھا۔ جے ڈی وینس نے یورپی لیڈروں کو مخاطب کرتے ہوے کہا تھا کہ اب یورپی سٹائل ڈیمو کریسی کا وقت گذر چکا ہے۔ اس جمہوریت نے ایک طرف یورپ کو لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین دئے ہیں تو دوسری طرف دائیں بازو کی جماعتوں کے اظہار خیال پر پابندی لگائی ہے۔ نائب صدر نے کہا تھا کہ یہ پالیسیاں نہ صرف یورپ کے لیے بلکہ پوری مغربی تہذیب کے لیے خطرہ ہیں۔ ایک ایسا خطرہ جو روس سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔ اس تقریر کو خاموشی اور بغیر کسی رد ِعمل کے سنا گیا تھا۔ اسکے بعد یورپی لیڈروں نے نہ صرف اس بات کا یقین کر لیا کہ انکے امریکہ سے گہرے تعلقات کا دور اختتام پذیر ہو رہا ہے بلکہ ا س کےفوراً بعد کئی یورپی ممالک نے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ بھی کر دیا۔ صدر ٹرمپ دس برس پہلے یہ مطالبہ کرچکے تھے کہ ہریورپی ملک کو اپنا دفاعی بجٹ دو فیصد سے بڑھا کر پانچ فیصد کرنا ہو گا
امریکہ کی دفاعی اسٹیبلشمنٹ کو جب یہ سمجھ آئی کہ امریکہ اور یورپ کے درمیان خلیج بہت وسیع ہو گئی ہے تو اسوقت بہت دیر ہو چکی تھی۔ صدر ٹرمپ کی ڈنمارک کے علاقے گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکیوں نے یورپی اقوام کو خوفزدہ کر دیا۔ چند ماہ پہلے برطانیہ‘ جرمنی اور فرانس کے رہنمائوں نے مشترکہ طور پر اعلان کیا کہ وہ گرین لینڈ کا دفاع کریں گے۔ جب امریکہ نے اسی برس پرانے اتحاد کی افادیت پر شک و شبے کا اظہار کر دیا تو پھر ہر کسی کو اپنا تحفظ خود کرنے کی فکر لاحق ہو گئی۔ روس کی چار سال پرانی یوکرین جنگ میں روس کی پیشقدمی یورپی اقوام کے خوف میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔
چودہ فروری کو جب امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ میونخ سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرنے آئے تو کسی کو معلوم نہ تھا کہ وہ کیا کہیں گے۔ وہ جے ڈی وینس کی ایک سال پہلے کی تقریر کو دہرا بھی سکتے تھے اور ایک نئی اور مثبت بات بھی کر سکتے تھے۔ مارکو روبیو کے خطاب نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ امریکہ یورپ کے زخموں پرمرہم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مارکو روبیو کا لب و لہجہ جے ڈی وینس کے طرز تخاطب سے نہایت مختلف تھا۔امریکی وزیر خارجہ نے امریکہ اور یورپ کے مشترکہ تہذیبی ‘ ثقافتی اور تاریخی ورثے کی حفاظت کو ایک اہم فریضہ قرار دیتے ہوے کہا مغربی ممالک اگر اپنی سرحدوں کی حفاظت نہیں کریں گے تو انکا تابناک ماضی بہت جلد دوسرے ممالک کی تہذیب و تمدن کے سامنے دم توڑ دے گا۔ مارکو روبیو نے کہا کہ یورپ جتنا جلد اس Civilazational Erasure یعنی تہذیبی تنسیخ کا ادراک کر لے اتنا بہتر ہو گا۔ انکی رائے میں امریکہ اور یورپ کا مشترکہ تہذیبی ورثہ ہی دونوں بر اعظموں کے تعلق کی اساس ہے۔ یورپ اگر اپنے کلچر ‘ تہذیب اور اخلاقی اقدار کی حفاظت نہیں کرے گا تو یہ تعلق قائم نہ رہ سکے گا۔ بہ الفاظ دیگر مارکو روبیو یورپ کو میک امریکہ گریٹ اگین کے فلسفے پر عمل کرتے ہوے میک یورپ گریٹ اگین کی پالیسیاں اختیار کرنے کی تلقین کر رہے تھے۔ اسکا مطلب لاکھوں کی تعداد میں تارکین وطن کی واپسی اور مزید مہاجرین کے داخلے پر پابندی تھا۔ اسکی تہہ میں چھپی ہوئی بات یہ ہے کہ امریکہ مغربی ممالک میںمکمل طور پر ایک مسیحی اور سفید فام کلچر کا تسلط چاہتا ہے۔ ا س اندازِ فکر کو پُر زور الفاظ میں بیان کرتے ہوے مارکو روبیو جن کے والدین کیوبا سے امریکہ آئے تھے نے کہا کہWe are bound to one another by the deepest bonds that nations could share اس بات کو بڑھاتے ہوے انہوں نے کہا کہ ہمارا تعلق صدیوں کی مشترکہ تاریخ‘ مسیحی عقیدے ‘ کلچر ‘ زبان اور بے شمار قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ سیکرٹری آف سٹیٹ نے انتباہ کیا کہ امریکہ یورپ کے موجودہ زوال میں کوئی کردار ادا نہیں کرنا چاہتا۔ اسکا مطلب یہی ہے کہ یورپ نے اگر میک امریکہ گریٹ اگین والی پالیسیاںاختیار نہ کیں تو انکے پرانے تعلقات کو برقرار رکھنا مشکل ہو گا۔
روبیو کے انداز فکر سے اختلاف رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ تہذیبی ورثہ‘ اخلاقی اقدار اور کلچر مشترکہ ہو سکتا ہے مگر دو بر اعظموں کے تعلقات کو نہ تو کسی جذباتی سوچ کے دھاگے میں باندھا جا سکتا ہے اور نہ ہی نئے حقائق اور بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ ہالینڈ کے مؤرخ اور سابقہ ڈپلومیٹLuuk Van Middelaar نے روبیو کی تقریر کو سوچی سمجھی پالیسی قرار دیتے ہوے کہا It is all the more dangerous for Europeans offering a new pact on the basis of a shared civilization. سنجیدہ فکر یورپی دانشور امریکہ کی اس خارجہ پالیسی کو خطرناک قرار دیتے ہوے کہہ رہے ہیں کہ امریکہ واضح طور پر یورپ کی پاپولسٹ جماعتوں کے MAGAسے الحاق کا تقاضا کر رہا ہے۔ جرمنی کے چانسلر Friedrich Merz کے اس تبصرے کو حرف آخرکہاجا سکتا ہے۔ The culture wars of the MAGA movement are not ours. یعنی میگا تحریک کی کلچر جنگ ہماری نہیں ہے۔ روبیو کی تقریر پر یورپی رد عمل کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ کے لیے میک ویسٹ گریٹ اگین کی پالیسیوں کو نافذ کرنا آسان نہ ہو گا۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button