کیا کسی ملک کا آرمی چیف اسقدر گھٹیا انسان بھی ہو سکتا ہے؟

پاکستان کے سابق وزیراعظم، تحریک انصاف کے رہبر اور پاکستان کے مقبول ترین لیڈر عمران خان کی دائیں آنکھ کو ضائع کرنے کے حوالے سے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے بارہا یہ بات کہہ چکے ہیں کہ پاکستان میں زمین پر کوئی پتہ ہل نہیں سکتا اور آسمان پر کوئی پرندہ پر نہیں مار سکتا کہ ہر چیز اس وقت پاکستان کے بادشاہ فیلڈ مارشل جنرل حافظ سید عاصم منیر شاہ کے کنٹرول میں ہے۔ پچھلے چار پانچ مہینوں سے ایک سسٹم کے تحت آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی کو استعمال کرتے ہوئے عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا گیا تاکہ ان کی طبی لحاظ سے کوئی شکایت باہر نہ چلی جائے اور لوگ اس بات سے آگاہ نہ ہو جائیں کہ عمران خان کو باقاعدہ ایک پلاننگ اور سازش کے تحت مرنے کے راستے پر ڈالا جارہا ہے۔ عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ بخاری، علیمہ خان اور نورین نیازی نے اس ہفتے پہلی بار لاہور میں زمان پارک کے گھر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ آخری ملاقات جو کئی ماہ بیشتر عمران خان سے ہوئی تھی اس وقت عمران خان نے انہیں کہا تھا جنرل عاصم منیر اور ٹولہ انہیں مار دیں گے اور یہ بات انہوں نے اس وقت لوگوں کے جذبات بھڑک جانے کی وجہ سے پبلک میں نہیں بتائی تھی ہاں البتہ انہوں نے یہ ذکر ضرور کیا تھا کہ اگر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو کچھ ہو گیا تو اس کا براہ راست ذمہ دار ذہنی مریض عاصم منیر ہو گا۔ آج عمران خان کی دائیں آنکھ ضائع ہونے کے بعد عمران خان کے الزام کو تقویت پہنچتی ہے۔ اس کے علاوہ عمران خان نے اپنی ملاقاتوں میں بارہا کہا کہ ان کے خون کا تفصیلی معائنہ اور لیب ٹیسٹ کرایا جائے۔ یقینا اس کے پیچھے وہی خدشہ تھا کہ شاید ان کو کھانے میں کچھ ایسا مواد ملا کر کھلایا جارہا ہے جو ان کے لئے مضر صحت ہو۔ عمران خان نے بار بار کہا کہ ان کے خون کے نمونوں کا ٹیسٹ باہر سے غیر سرکاری لیب سے کرایا جائے اور ان کے ذاتی معالجین فیصل سلطان اور عاصم یوسف سے ملایا جائے تاکہ وہ اصل تشخیص کر سکیں۔ عمران خان کو بھی ان سرکاری ڈاکٹروں پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔
دوسری طرف حکومت کا یہ حال ہے کہ پہلے یہ کہا گیا کہ عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی ختم ہو چکی ہے اور صرف 15فیصد تک رہ گئی ہے۔ پھر اس کے بعد انہیں پمز ہاسپٹل لیجایا گیا جہاں آنکھ میں ایک انجکشن لگایا گیا، عمران خان کی آنکھ میں ریٹنا (RETNA)کی بیماری اسقدر گھمبیر ہے کہ اس کیلئے آٹھ مختلف خصوصی ڈاکٹرز ہوتے ہیں کوئی ایک اسپیشلسٹ اس کا علاج نہیں کر سکتا جبکہ پمز ہاسپٹل میں تو اس کا کوئی خصوصی شعبہ تک نہیں ہے۔ تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ اڈیالہ جیل میں امراض چشم کی مختلف مشینیں لائی گئیں اور سرکاری ڈاکٹروں نے ایک مرتبہ پھر معائنہ کیا اور رپورٹ جاری کی ہے کہ دو ہفتوں کے اندر اندر اب عمران خان کی آنکھ کی بینائی پندرہ فیصد سے بہتر ہو کر پچانوے فیصد ہو گئی ہے اور ان کو نہ صرف اب دیوار پرلگی گھڑی نظرآرہی ہے بلکہ گھڑی کی سوئیاں بھی چلتی ہوئی نظر آرہی ہیں یعنی دنیا بھر میں آنکھوں کے ٹیسٹ کے مروجہ طریقہ کار جس میں کمرے میں اندھیرا کر کے سامنے کی دیوار پر ایک خاص فاصلے پر لگے ہوئے لیٹرز کے چارٹ کو پڑھوا کر ٹیسٹ کروایا جاتا ہے، عمران خان کی آنکھوں کا ٹیسٹ، دیوار پر لگے کلاک سے اور اس کی سوئیاں دیکھ کر کیا گیا ہے۔ ایک اس بات سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ آنکھوں کے ٹیسٹ یا امتحان کے ڈاکٹرز کس قدر پروفیشنل ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر جنرل عاصم منیر واقعی سچے ہیں اور ٹیسٹوں اور علاج میں مخلص ہیں تو پھر اس تمام پروسیجر میں عمران خان کے معالجین کو ساتھ ساتھ کیوں شامل نہیں کرتے، پھر پوری دنیا میں یہ طریقہ ہے کہ مریض کے اہل خانہ کو ہاسپٹل میں ساتھ رکھا جاتا ہے اور پل پل کی خبر سے انہیں آگاہ رکھا جاتا ہے تو پھر عمران خان کی ایک بہن ڈاکٹر عظمیٰ اور دیگر دونوں بہنوں علیمہ خان اور نورین نیازی کو کیوں دور رکھا گیا؟ ان دو سادہ باتوں سے ہی یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ڈاکٹر جنرل عاصم منیر کس قدر کاذب، گھٹیا فوجی ہے جو میڈیکل رپورٹس بھی اپنے حساب سے بنوانا چاہتا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ اب یہ شخص فیلڈ مارشل کے بعد اپنے نام کیساتھ سینیٹ اور قومی اسمبلی سے منظور کروا کر ڈاکٹر بھی لکھنا شروع کر دے گا۔ سوال یہ ہے کہ یہ عاصم منیر نامی ذہنی مریض کب تک نہ صرف اپنے ملک کے شہریوں بلکہ اب بیرونی ممالک میں بھی پاکستانی فوج کی کھلی اڑواتا رہے گا، کیا گھٹیا پن کی کوئی حد نہیں ہوتی؟



