بسنت کا تہوار !

ہندو مذہب میں تو ان گنت بھگوان ہیں جنہیں ذات پات میں تقسیم ہندو اپنے اپنے عقائد کے مطابق پوجتے ہیںاُن کے نام کے چڑھاوے دیتے ہیں اُن سے منتیں اور مدد طلب کرنا ان کی مذہبی رسومات میں شامل ہیں بسنت کا یہ موجودہ تہوار جس کا ہم مسلمان بڑے شورو غل سے استقبال کرتے ہیں اور اس تہوار کی مستی میں اس قدر مست ہوتے ہیں کہ اپنی جان کی بازی تک ہار جاتے ہیں مگر یہ بھیانک اموات دیگر دیکھنے والوں کے لئے کبھی سبق آموز نہیں ہوئیں کیونکہ بسنت کے تہوار کے لئے حکومت پنجاب نے بسنت کے انعقاد کے لئے خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے احکامات جاری کئے تا کہ شہر ِ لاہور میں بسنت کے رنگ آسمان پر بکھرتے رہیں ۔ایک شنید کے مطابق بسنت میلے کی گھنائونی اور سیاہ ترین تاریخ ہے جسے ایک بدبخت کی یاد میں منایا جاتا ہے بسنت کو سنسکرت زبان میں بہار کہا جاتا ہے اسے بسنت پنجمی بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ ماگھ کی پانچویں تاریخ کو منایا جاتا ہے جو فروری کے مہینے میں ہی آتی ہے ویدوں میں یہ بات درج ہے کہ یہ سرسوتی دیوی کا دن ہے اس روز کو خوشی کا دن قرار دیا گیا ہے ہندو مذہب کے حوالے سے اس دن سرسوتی دیوی کی پوجا کی جاتی ہے اس موقع پر نئے کپڑے پہنے جاتے ہیں پتنگیں اڑائی جاتی ہیں اور موسیقی سے لطف اندوز ہوا جاتا ہے ہندو لفظ میں لپٹے لوگ سرسوتی دیوی کو علم و دانش و فن موسیقی کی دیوی سمجھتے ہیں تاریخ اپنے اوراق میں بسنت کے حوالے سے حقائق بیان کرتی ہے جسے برصغیر کے موئرخ بخشش سنگھ نجر نے اپنی کتاب punjab under the later Mughalsمیں زیب ِ قرطاس کیا ہے لکھتے ہیں کہ حقیقت رائے باگھ مل پوری، سیالکوٹ کے ایک رہائشی ہندو کھتری کا اکلوتا لڑکا تھا جس نے ہمارے نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور بی بی سیدنا فاطمہ سلام اللہ علیہ کی شان ِ اْقدس میں نازیبا ،توہین آمیز الفاظ کہے جس پر اُسے گرفتار کر کے لاہور لایا گیا اور اسے پھانسی کی سزا دی گئی جس پر پنجاب کے ہندو سیخ پا ہو گئے انھوں نے گورنر پنجاب سے رحم کی نظر ثانی کی اپیل کی مگر گورنر زکریا خان نے اسے مسترد کر دیا جس دن اس حقیقت رائے کو پھانسی دی گئی اُس دن یہ بسنت کا تہوار تھا جس پر ہندئوں اسے قربانی کا رنگ دیتے ہوئے منانا شروع کر دیا حالانکہ یہ غیر مذہب ہندو فصل پکنے پر اس مہینے کی مخصوص تاریخ کو جشن منا کر اپنے بھگوان کا شکرادا کرتے اور موسیقی ،پتنگ بازی کی محفلیں جماتے ہیں اس ہندوانہ رسم کا عملی عکس آپ لاہور میں باسیوں میں دیکھ سکتے ہیںہندو مذہب سے وابستہ اس رسم سے مسلمانوں کی پیروی دیکھ کر دل ماتم کناں ہوتا ہے مگر جیسے وطن ِ عزیزمیں ملکی معیشت اسلام کے احکامات کے برخلاف رواں ہے اور ابھی تک کسی مسلمان رہنما نے کسی سیاسی جماعت کے قائد نے اس کی مخالفت نہیں کی ابھی حالیہ دنوں میں صوبہ سندھ کی اسمبلی میں اقلیتی ایم پی اے نے قراداد پیش کی کہ شراب کے کاروبار کو بند کیا جائے کیونکہ دنیا میں رائج مذائب میں کسی ایک میں بھی شراب پینے کی بنانے کی اس کی خرید و فروخت کی اجازت نہیں ہے مگر اس قرارداد کو جو ہم مسلمانوں کے مذہبی احکام کی ترجمان تھی اُسے تمام مسلمان ممبران سند ھ اسمبلی نے مسترد کر دیامسلمان ممبران کی اس حرکت کے بعد اب کوئی مسلمان ،رکن تبلیغی جماعت کیسے ان ہندؤں کو اسلامی احکام کی تبلیغ کرے گا ؟پھر ذرا مذہبی جماعتوں کو تو دیکھیں جو اپنی ریاست میں اسلام کے نام پر رات دن سیاست کرتے چلے آ رہے ہیں اُن عظیم رہنمائوں نے سندھ اسمبلی کی اتنی بڑی فاش غلطی کو ابھی تک نظر انداز کیا ہوا ہے شراب نوشی کے خلاف پورے ملک میں کوئی بھی بہتر اقدام کرنے والا نظر ہی نہیں آتا جہاں سچائی کی بنیاد پر سیاست نہ ہو جہاں ملاوٹ جرم نہ ہو مہنگائی کا بے لگام گھوڑا کسی صاحب ِ مسند کے اختیار میں نہ ہو جہاں عوام ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبی ہو مگر سہولیات ِ زندگی سےمحروم ہو قرضے حکومتیں لیں اور ادائیگی خلق ِ خدا کرے مگر حکومت سےجواب دہی کا اختیار اُس کے پاس نہ ہو تو ایسے ملک میں غیر مذہبی مافیاز کو اپنے ایجنڈے پر عمل کرنا خاصا سہل ہو جاتا ہے عوام کو خوشحال رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہوتی ہے مگر ہمارے یہاںاس رسم ِ سیاست پر عمل پیرائی نہیں ہوتی اس حوالے سے صرف وعدے سننے کو کئی دہائیوں سے مل رہے ہیں جن کی تکمیل کبھی نہیں ہوئی محرومیوں کے اس تسلسل نے عوام الناس کو گمراہ کر دیا ہے جس سے غیر مذہبی رسومات کا مسلم ریاست میں پھیلنا معاشرتی گمراہی کی واضح دلیل ہے ۔بسنت کے تہوار کو جتنی چاہت زندہ دلان ِ لاہور نے دی ہے شاید ہی وطن عزیز کے کسی دوسرے حصے میں اس ہندوانہ رسم بسنت کو اس شدت سے نہیں اپنایا گیا اہلیان ِ لاہور اور دیگر مسلمانوں کو چائیے کہ اپنے اسلامی بھائی چارے کو مضبوط کرنے کے لئے فرقہ واریت کے جال سے نکل کر یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ کی مضبوط رسی کو تھامیں اور ملک سے غیر اسلامی روایات کے خاتمے کے لئے اپنی مربوط کاوشیں کریں تا کہ پاکستان کی ریاست ایک مضبوط قوم کے تعارف سے جانی جائے البتہ ہندوانہ تہوار کا انعقاد ہمارے لئے بہتر آئینہ نہیں ہے ۔



