ہفتہ وار کالمز

خود کش دھماکہ اور بسنت!

دو دہائی قبل ایک مضمون لکھا تھا ڈاکے،فاقے اور دھماکے کے عنوان سے،تب سے آج تک حالات تبدیل نہیں ہوئے گو کہ آپریشن ضربِ عصب اور آپریشن رداالفساد بھی ہوایہ دونوں کامیاب آپریشن تھے مگر دہشت گردی کو ختم کرنے کی نیت نہ تھی اس لئے نیشنل ایکشن پلان پر عمل روک دیا گیااب پختون خواہ اور بلوچستان میں دہشت گردی کی مضبوط اور تازہ لہر آئی مگر سیکیورٹی فورسز نے مؤثر جواب دیاگوریلا وار میں دشمن اپنے اہداف کا فیصلہ اپنے حساب سے کرتا ہے اس دوران وقفے بھی آجاتے ہیں ان وقفوں کو عوام امن سمجھ لیتے ہیں دراصل یہ وقفے امن نہیں ہوتے دہشت گرد پھرتیاری کرتا ہے اور ایک نئے ہدف کا تعین کرتا ہے اور دھماکہ کر دیا جاتا ہے،ایسے ہی حالات بیس سال قبل تھے ان میں تبدیلی نہیں آئی ،یہ صورت حال اس وقت صرف پاکستان کی ہے کبھی کبھار کوئی دھماکہ ایران اور افغانستان میں بھی ہو جاتا ہے افغانستان کے اندر دھماکوں کے افغانستان کے اندرونی حالات سے جوڑ دیا جاتا ہے یوں بھی کوئی پڑوسی ملک افغانستان میں دھماکے کرکے کیا حاصل کر سکتا ہے،رہی بات ایران کی تو ایران کے اندر دھماکوں کی ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل پر ڈال دی جاتی ہے یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ایران میں اسرائیل کی موساد کا نیٹ ورک بہت مضبوط ہے،اسرائیل اور ایران جنگ سے قبل بھی موساد نے اسرائیل اور حماس کے بہت اہم رہنماؤں کو قتل کر دیا تھااور یہ بھی خبر آئی تھی کہ اسرائیل اور ایران جنگ کے دوران افغانی اسرائیل کے لئے جاسوسی کرتے رہے اور ایران نے ڈھائی لاکھ افغانیوں کو ایران سے نکال دیا تھاایران کے اپنے وجود کے اندر بہت سے ایرانی اسرائیل کے لئے کام کرتے ہیں حالیہ ہنگاموں میں ایران کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق جہاں سیکیورٹی فورسز کے پانچ سو پاسداران قتل ہوئے وہاں ہنگامہ کرنے والوں میں مرنے والوں کی تعداد پانچ ہزار کے قریب تھی آپ غورکریں اس قسم کی دہشت گردی کا نشانہ پاکستان اور ایران ہے اور دہشت گردی کرنے والوں میں افغانستان کا نام ہی بار بار آتا ہے چند دن پہلے اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں ایک مسجد میں نماز جمعہ کے وقت ایک خود کش دھماکہ کر دیا گیا جس میں کئی درجن افراد ہلاک ہوئے اور ڈیڑھ سو کے قریب زخمی ہیں،یہ مسجد اہلِ تشیع کے زیر تصرف ہے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اہلِ تشیع جن کو افغان علماء کافر کہتے ہیں اس حملے کا نشانہ ہیں اہل تشیع کے رہنماؤں کے بیانات سے بھی ایسا ہی تاثر ملا،مگر سوچنے کی بات ہے کہ خود کش بمبار نوشہرہ سے اسلام آباد آیااور اہلِ تشیع کی مسجد میں اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا،نوشہرہ میں بھی اہلِ تشیع کی درجنوں مساجد ہیں اہلِ تشیع کو ہی نشانہ بنانا ہوتا تو نوشہرہ میں ہی بنا سکتا تھامگر لگتا ہے کہ اسلام آباد کو پیغام دینا تھا کہ وہ محفوظ نہیں ہیں اور پختون خواہ کا احتجاج اسلام آباد میں ہی ہوگا یا ہو سکتا ہے اطلاعات کے مطابق یاسر نامی شخص جو نوشہرہ کا رہائشی تھا اس کا آنا جانا افغانستان سے تھا اسی نے اسلام آباد کی مسجد میں دھماکہ کیا اس کا مطلب میں تو یہی لیتا ہوں کہ کہ یہ پختونوں کی اسلام آباد سے ناراضی کا اظہار تھا،ہم نے دو سال قبل اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ عمران کی طاقت پختون ،پاکستان میں قیام پذیر افغانی،طالبان،افغانی حکومت اور ممکنہ طور پر داعش ہے اسلام آباد دھماکے پر وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا بھی یہی تجزیہ ہے، عمران کے معاملے میں حکومت جو پھونک پھونک کے قدم رکھ رہی ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ حکومت کا کوئی سخت
فیصلہ پختونوں کو بغاوت پر آمادہ کر دیگااور افغانی جو پاکستان میں مقیم ہیں ،افغانی طالبان اور ممکنہ طور پر داعش پاکستان پر چڑھ دوڑیں گے اور فوج کے لئے اس یلغار کو روکنا بہت مشکل ہو جائیگا،خیر یہ تو ہے ایک سیاسی بات،ایک اور پہلو جس پر غور نہیں کیا گیا وہ بہت اہم ہے وہ یہ ہے کہ افراتفری اور دھماکوں سے ایک طرف تو معیشت کو نقصان پہنچایا جائے تو دوسری طرف عوام کو دنیا سے کاٹ دیا جائے،سعودیہ نے اس بات کو پا لیا کہ اسلام کے نام پر مسلمانوں کو دنیا بھرسے کاٹ کر نہیں رکھا جا سکتا اس لئے سعودیہ نے سماجی آزادی کو اہم جانا اور اپنے ملک میں کھیلوں اور فنون لطیفہ کو پروموٹ کرنے کی ضرورت پر توجہ دی،عورتوں کو سماجی Activitiesمیں شرکت کے لئے آزادی دی،ڈرائیونگ کی اجازت دی،کنسرٹ منعقد کرائے، کھیلوں اور فنونِ لطیفہ کی ترقی Creativityکی جانب لے جاتی ہے جس سے بلاآخر سائنس اورٹیکنالوجی کی راہیں کھلتی ہیںیہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ محمد بن سلمان کے Vision 2030 کے مکمل ہونے تک جو نسل آگے آئے گی اس کو ایک نو زائیدہ سائنسی معاشرہ ملے گاجو پچھلی نسل کی نسبت زیادہ روشن خیال اور ترقی پسند ہوگااور زیادہ منظم بھی،سعودیہ نے سیاست کو مذہب سے الگ کر دیا ہے مگر بہت سے مسلم ممالک
جو ابھی تک بنیاد پرستی کی گرفت میں ہیں وہ اس رمز کو سمجھنے سے قاصر ہیںکہ سیاست اور مذہب دو الگ الگ چیزیں ہیں،مذہب مکمل طور پر ذاتی چیز ہے جو فرد تک محدود رکھی جائے سعودی حکومت یا امارات حکومتی معاملات میں دینی حلقوں سے فتوے نہیں لیتے،پاکستان، افغانستان اور ایران کے مولوی جانتے ہیں کہ ان ممالک میں اگر صنعت کاری آئی تو وہ اپنی تہذیب لے کر آئے گی جو مذہب کو چیلنج کرے گی اور مذہب کے پاس اس چیلنج کا جواب نہیں یوں بھی مذہب کو فکری طور پر شکست ہو چکی ہے دنیا بہت آگے جا چکی انسان کے موجودہ مسائل کا جواب مذہب کے پاس نہیں لہٰذا یہ مولوی جانتے ہیں کہ اگر مسلمان سماجی آزادی اور فنون لطیفہ کی جانب چلے گئے تو وہ ان کے ہاتھ سے نکل جائیں گے اور ان کا اقتدار خطرے میں پڑ جائیگااس لئے دہشت گردی اور دھماکوں کا سہارا لیا جاتا ہے کہ معاشی ترقی کو روکا جائے مولوی یہ بھی جانتا ہے کہ افلاس اور غربت ختم ہوئی تو اس کی دکان بند ہو جائے گی اور لوگ پیسے کی قدر کو اہمیت دینگے چندہ مافیا نابود ہو جائے گی،دہشت گردی اور دھماکے کرکے معصوم لوگوں کو باور کرایا جاتا ہے کہ مولوی کفر کے خلاف نبرد آزما ہے مگر سوشل میڈیا نے ہزاروں سوال اٹھا کر مذہب کو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے اور لوگ سوال کرنا سیکھ رہے ہیں اور اندھی تقلید کا سحر ٹوٹ رہا ہے میرے خیال میں ایک دہائی کے اندر ملائیت کا کھیل ختم ہو جائے گا اور مساجد کا کاروبار اپنے اختتام کو پہنچے گاکچھ دیر سویر ہو سکتی ہے ایک دلچسپ صورت حال تھی،پی ٹی آئی کا خیال تھا کہ 8فروری کو ان کا مینڈیٹ چھینا گیا،اس لئے آٹھ فروری کوایک بڑے احتجاج کی کال نہ صرف پی ٹی آئی کی جانب سے دی گئی بلکہ ایسی ہی کال محمود اچکزئی کی جانب سے دی گئی وزیر اعلی پنجاب نے بہت بڑا جوا کھیلا اور پانچ فروری کو پچیس سال بعد بسنت منانے کا اعلان کیاتمام ضوابط و قواعد کا بار بار اعلان کیا جاتا رہا ،انتظامیہ کو بہت متحرک رکھا گیا اور لاہور میں بسنت بہت جوش و جذبہ سے منائی گئی اور تمام احکامت پر پورا پورا عمل ہوایہ تہوار بہت ساری رنگینیاں لایااور ان Celebrationsنے یہ اعلان کردیا کہ پاکستان کے عوام سماجی آزادی چاہتے ہیںاس دوران سوشل میڈیا پر مولوی میڈیا نے مہم چلائی کہ بسنت ہندو تہوار ہے سوشل میڈیا پر یہ سوال بھی پوچھا جاتا رہا کہ بسنت حرام ہے یا حلال،ہر چند کہ میڈیا پر مولوی کا بہت اثر ہے مذہبی پروگرام تواتر سے ہوتے رہتے ہیں اذان بھی نشر کی جاتی ہے میڈیا پر مریم کے اس اقدام پر تنقید بھی ہوئی مگر لوگوں کا جوش وخروش اتنا زیادہ تھا کہ میڈیا اگر اس کے خلاف مہم بھی چلاتا تو وہ مہم کامیاب نہ ہوتی،یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ اس وقت پنجاب چار عورتیں چلا رہی ہیں ان کے Mentorپرویز رشید ہیں اس چھوٹے سے گروپ نے بسنت منا کر یہ واضح کردیا کہ پچھلے پچیس سالوں میں جتنے بھی وزرائے اعلی آئے وہ دھاتی ڈور پر قابو نہ پا سکے مگر مریم نواز نے دھاتی دوڑ پر قابو پا لیا اور بسنت کو محفوظ بنا لیا اور اب یہ سوال اہم ہو گیا کہ گزشتہ پچیس سالوں سے پنجاب کے حکمران ناکام کیوں رہے،بسنت ایک progressive تہوار ہے جس میں رنگ ہیں آزادی ہے،معاشرے کی یکجائی ہے،خوشیوں کی تلاش ہے،بسنت پر لاہور میں اربوں کا کاروبار ہوا ایک اشارے پر معیشت چل پڑی شرط یہی تھی کہ عوام بھرپور شرکت کریں عوام کی شرکت اور احکامات پر عمل کرنے سے واضح ہو گیا کہ عوام امن چاہتے ہیں ۔سماجی آزادی چاہتے ہیں،اور خوشیوں کو سمیٹنا چاہتے ہیں اس ملک میں جو چالیس سال سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے،کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ عوام نے افراتفری اور احتجاج کی سیاست کو مسترد کر دیا؟کیا اسی وجہ سے پی ٹی آئی آٹھ فروری کی پہیہ جام کی کال کو مسترد کر دیا،بسنت کے تہوار کو منانے کے لئے کے پی،اور کراچی سے بھی افراد آئے،ہوائی جہاز پر تھے اور ریلوں میں بے تحاشا رش،یہ بہت مثبت رویہ ہے دیوار پر لکھی ہوئی اس تحریر کو پی ٹی آئی کو ضرور پڑھنا چاہیئے اور اعتدال کی جانب آنا چاہیئے پی ٹی آئی نے بہت کامیابی سے معیشت کا پہیہ جام رکھاہے مگر پی ٹی آئی کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا،اعتدال بہترین سیاسی پالیسی ہےیہ ثابت ہو چکا کہ جب تک پنجاب ساتھ نہیں دیتا احتجاج کامیاب نہیں ہوگا پنجاب نے اعتدال کے پلڑے میں اپنا وزن ڈال دیا ہے اس پیغام کو سمجھنا ضروری ہے،اچکزئی سیاسی آدمی ہیں کم از کم ان کو ہوا کے رخ کو سمجھنا ہوگا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button