اور گھر نہیں آیا !

اسلام آباد، جو نام نہاد اسلامی جمہوریہ کا دارالحکومت ہے، وہاں امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ کے خود کش دھماکے کے شہداء کے جنازے اٹھ رہے تھے لیکن عین اسی وقت اسلام آباد سے ڈھائی سو میل دور پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بسنت کے تہوار کی خوشیاں منائی جارہی تھیں!پاکستان میں قول و فعل کا تضاد تو قدم قدم پہ نظرآتا ہے اور دینِ اسلام کے بنیادی شعائر کی بے حرمتی کا بھی ہر لمحہ احساس ہوتا ہے ان لوگوں کو خاص طور پہ جو دین کے بنیادی انسانی تقاضوں اور حقوق کا ادراک رکھتے ہیں لیکن حکومتوں کی سطح پر یہ بے حسی اور اغماض بری طرح کھٹکتا ہے!پنجاب کو جس طور خود پسندی کی مریض مریم نواز چلارہی ہیں اس کی بے حسی کا تو کیا کہنا۔ ایک تو یہ عجیب و غریب بات ہوئی ہے اس سال کہ بسنت کا تہوار، ملکہء پنجاب کے ایما پر کئی ہفتے قبل از وقت منانے کا بیانیہ مرتب کیا گیا۔بسنت بہار کا تہوار ہے اور بہار کی شروعات کا جشن منانے سے اس تہوار کی نسبت ہے۔ ابھی فروری کا پہلا ہفتہ بمشکل پورا ہوا ہے جبکہ بہار کے آنے میں ابھی کئی ہفتے باقی ہیں لیکن فرمان صادر ہوا کہ بسنت کا تہوار اس دن منایا جائے گا جس دن تحریکِ انصاف اور تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے ملک بھر کیلئے پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کئی دن پہلے کردیا تھا!ظاہر ہے کہ اس اعلان سے راولپنڈی کے جی ایچ کیو کی کمیں گاہ میں براجمان عسکری طالع آزماؤں کے یزیدی ٹولہ کی صفوں میں کھلبلی مچ گئی ہوگی۔ یہ طالع آزما اپنی بہادری کی ڈینگیں مارنے میں تو آگے آگے ہوتے ہیں لیکن یہ دراصل اس بلا کے بزدل ہیں کہ ہر اس پیشرفت سے جو ان کے ملک پر قبضہ کے طویل المدتی منصوبے کو چیلنج کرتی ہوئی نظر آئے یہ خوف میں مبتلا ہوجاتے ہیں!تو اس بزدل عسکری ٹولہ کیلئے جو پاکستان کو اپنی موروثی جاگیر سمجھ کے اس کا بیدردی سے استحصال کرتا آیا ہے اور دونوں ہاتھوں سے اسے لوٹ رہا ہے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا اعلان گویا خطرہ کی گھنٹی تھا۔ عوامی احتجاج اس ٹولہ کے نزدیک وہ زہر تھا جس کا تریاق تلاش کرنے کی فوری ضرورت تھی۔ پنجاب کی غیر جمہوری اور بقول شخصے فارم- 47 کے ہارے ہوئے گماشتوں کی حکومت جرنیلی ٹولہ کی باجگذار اور مرہونِ منت ہے لہٰذا اسے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے استعمال کرنا جرنیلوں کیلئے بہت آسان ہے۔ تو اسی لئے جرنیلوں کی منظورِ نظر مریم نواز حکومت نے اپنے آقاؤں کی خوشنودی کیلئے بسنت کے تہوار منانے کا اعلان بہار کی آمد سے ہفتوں پہلے کردیا ۔ اعلان کردیا تھا تو اسلام آباد کی امام بارگاہ کے سانحہ کے رونما ہونے کے بعد اسے منسوخ بھی کیا جاسکتا تھا لیکن نہیں، ایسا کچھ نہیں کیا گیا اسلئے کہ خودنمائی کی مریض وزیرِ اعلیٰ کیلئے ایسا کرنا ان کی انا کی تسکین کی راہ میں حائل ہونے والی بات ہوتی تھی اور اپنی انا کیلئے تو وہ ہر حد سے گذرنے کیلئےآمادہ ہوسکتی ہیں!
اور پھر بسنت کا تہواربہار کی آمد سے بہت پہلے منانے کا منصوبہ ایک تیر سے دو شکار کرنے والی بات تھی۔ پہلی ترجیح تو پہیہ جام ہڑتال کو سبوتاژ کرنے کی تھی جس سے خود پسند ملکہء عالیہ کی انا کو بے پناہ تسکین ملنے کا سامان فراہم ہوتا تھا۔دوسرے مریم نواز کے سہولت کار اور سرپرست بھی خوش اسلئے کہ ان کے فسطائی رویہ میں جو بات سرِ فہرست ہے، اور آج سے نہیں اس وقت سے جب انہوں نے اپنے سامراجی آقا کے حکم پر عمران خان کی منتخب اور جمہوری حکومت کو ختم کرنے کی سازش تیار کی تھی، وہ ہے عمران کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند رکھنے کا ہدف۔یزیدی ٹولہ عمران سے حد درجہ خائف ہے اور یزیدِ عصر، یزیدی ٹولہ کو سربراہ عاصم منیر تو بغضِ عمران میں بالکل پاگل ہوگیا ہے۔عسکری طالع آزماؤں کی تمام تر توجہ کا ہدف صرف اورصرف عمران کی ذات ہے۔ یہ نہ ہوتا تو پاکستان کے قلب، یعنی اسلام آباد میں امام بارگاہ میں دہشت گردی کی واردات نہ ہوئی ہوتی۔ لیکن نہیں، جرنیلی ٹولہ کا ایجنڈا عمران سے شروع ہوکر عمران پر ہی ختم ہوتا ہے۔!
عمران دشمنی کا یزیدی منصوبہ، اس مذموم کام کے محرک عاصم منیر کے نزدیک کامیاب یوں ہے کہ سامراجی گروگھنٹال کی آشیرواد اسے حاصل ہے۔ لیکن یہ سوچ بصیرت سے قطعا” محروم اور یتیم یوں ہے کہ سامراج کی تاریخ اور خاص طور پہ امریکی- پاکستانی تعلقات پر نظر رکھنے والے دانشور خوب جانتے ہیں کہ امریکہ کی علاقائی ترجیحات میں پاکستان سرِ فہرست نہیں ہے بلکہ امریکہ کا اولین حلیف بھارت ہے جس کا ایک ثبوت ابھی پچھلے ہفتے سامنے آیا کہ امریکہ نے بھارت کے ساتھ وہ تجارتی معاہدہ تکمیل کو پہنچایا جس سے اس کی علاقائی ترجیحات میں بھارت کی اولیت پر مہرِ تصدیق ثبت ہوتی ہے!یہاں عمران کا کہا ہوا ایک حکیمانہ قول یاد آجاتا ہے جو عمران نے نام کے شریفوں کے ضمن میں ادا کیا تھا کہ ایک تو یہ لوگ پڑھے لکھے نہیں ہیں اور سیکھنے کی کوئی کوشش بھی نہیں کرتے۔بارہ جماعت پڑھ کے فوج میں کمیشن پاجانے والے جرنیلوں کا بھی یہی حال ہے کہ اول تو ان میں علم کا فقدان ہوتا ہے اس پر طرہ یہ کہ وردی پر نمائش کیلئے مختلف رنگوں کے فیتے لگالینے کے بعد یہ چھٹ بھئیے خود کو عقل کُل سمجھنے لگتے ہیں اور کسی کو اپنے آگے گردانتے نہیں ہیں۔اگر ان کی بقراطیت ان کو سانس لینے اور سوچنے کا موقع دے تو انہیں سمجھ میں آئے کہ امریکہ بہادر نے ان کے وسیلے سے پاکستان کو ہمیشہ اپنی ضرورت اور اپنے مفاد کیلئے استعمال کیا ہے اور جب
ضرورت پوری ہوئی پاکستان کو استعمال شدہ کلینکس کی طرح کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا ہے!تو موجودہ عسکری ٹولہ بصیرت سے اتنا ہی محروم اور یتیم ہے جیسے اس کے پیشرو طالع آزما تھے، یہاں پر ہمیں برادر عارف افتخار کا وہ شعر یاد آرہا ہے جس پر انہیں ہمیشہ افتخار کرنا چاہئے:
عذاب ایسا کسی اور پر نہیں آیا
کہ ایک عمر چلے اور گھر نہیں آیا
تو یہ پاکستانی قوم کا عذاب ہے کہ جو سفر قائدِ اعظم محمد علی جیسے کھرے، مخلص اور دیانتدار رہنما کی قیادت میں شروع ہوا تھا اس کی منزل پاکستان نہیں تھی بلکہ اس کی منزل وہ مقام تھا جسے حکیم الامت نے یوں کہہ کے نشانِ راہ قرار دیا تھا کہ
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
آپ میں سے کچھ قارئین کو 1974ء کی لاہور کی اسلامی سربراہ کانفرنس یاد ہوگی جس کا انعقاد اس وقت کے پاکستانی رہنما ذوالفقار علی بھٹو کی سربراہی میں ہوا تھا اور جس میں اپنے ولولہ انگیز خطاب میں بھٹو نے کہا تھا کہ پاکستان اسلامی ممالک کی یکجہتی اور فروغ کیلئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دے گا!بھٹو نے اسلامی دنیا کے فروغ کیلئے قوم کو کمر بستہ کیا تھا لیکن ان کی جرأت کو عسکری طالع آزماؤںکی سند نہیں ملی۔ انہیں طالع آزماؤں نے بھٹو کے عدالتی قتل کا اہتمام کیا اور آج پاکستان کو اپنی فسطائیت کا شکار کرنے والے یزیدیوں کی جسارت یہاں تک پہنچی کہ پاکستان سامراج کے اس منصوبے میں برابر کا شریک ہے جو فلسطین کے مظلوموں کو صیہونی اور سامراجی بالادستی کے غلام بنائے رکھنے کیلئے سامراجی گروگھنٹال نے بنایا ہے۔پاکستان اس بورڈ کا رکن بڑی بے شرمی اور بے حیائی سے بن گیا ہے جو امریکی صدرٹرمپ کی تاحیات قیادت میں غزہ اور مقبوضہ فلسطین کے مظلوم عوام کو دائمی غلامی میں رکھنے کا شرمناک منصوبہ ہے۔ یہی نہیں۔ اسی سامراجی غلامی پر ہمارے یزیدی آقاؤں کی تسلی نہیں ہورہی بلکہ عاصم منیر دوڑا گیا تھا داووس اپنے آقا ٹرمپ کے چرن چھونے اور اسے یقین دلانے کیلئے کہ پاکستان کی فوج اس دستے میں ضرور شامل ہوگی جو حماس کو غیر مسلح کرنے کیلئے اور فلسطینی مظلوموں کو دائمی غلام بنانے کیلئے غزہ میں تعینات کی جائے گی!پاکستان بنانے والے قائدِ اعظم نے صیہونی اسرائیل کے قیام کو رد کرتے ہوئے یہ فرمایا تھا کہ یہ فلسطینیوں کے حقوق پر ڈاکہ کے مترادف ہوگا لیکن آج کے عسکری طالع آزما بانیء پاکستان کے فرمان کو کسی قابل نہیں سمجھتے۔
عسکری طالع آزماؤں کی تو تاریخ یہی ہے کہ انہوں نے قائدِ اعظم کےاحکامات کی ہر قدم پر نفی کی ہے اور نہ صرف پاکستانی جمہوریت پر ہمیشہ شبخون مارا ہے بلکہ پاکستانی عوام کے حقوق پر بھی ڈاکہ ڈالا ہے اور بار بار ڈالا ہے۔افتخار عارف کا سفر جس طرح گھر سے دور کہیں بھٹک رہا تھا اسی طرح مرحوم محسن بھوپالی کے یہ دواشعار آج کے پاکستان پر من و عن صادق آتے ہیں کہ:
نیرینگیء سیاستِ دوراں تو دیکھئے
منزل انہیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے
تلقینِ اعتماد وہ فرمارہے ہیں آج
راہِ طلب میں خود جو کبھی معتبر نہ تھے
لیکن رونا تو یہ ہے کہ وہ طالع آزما جنہوں نے بانیء پاکستان کے فرمودات کو حقارت اور رعونت سے ٹھکرایا اور دھڑلے سے ملت کی غیرت کو نیلام کیا، قوم کی حرمت اور وطن کے وقار کا سودا کیا، اور بار بار کیا، وہ آج بھی پاکستان پر مسلط ہیں، ایک بار پھر ملت فروشی کا مذموم کام کر رہے ہیں اور قوم کے سینے پر مسلسل مونگ دل رہے ہیں لیکن واہ رہ بے حس قوم جو ان کے فریب اور پاکستان دشمنی کو خاموشی سے جھیل رہی ہے اور کوئی تحریک اس میں نہیں ہورہی کہ اس ملک دشمن اور سامراج کے غلام یزیدی ٹولہ سے نجات پانے کی کارروائی کرے۔تو کیا تعجب جو قوم کا سفر جاری ہے اور گھر ملنے کے، منزل پر پہنچنے کے دوردور کوئی آثار نہیں ہیں۔ منزل توان ملت فروشوں نے پالی ہے جو قوم کی غیرت اور ناموس کا بار بار سودا کرچکے ہیں۔اس پس منظر میں ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ:
بتانِ حرص و ہوا سے مجھے عداوت ہے
کہ دورِ جور و جفا سے مجھے عداوت ہے
بزعمِ خود جو محافظ بنے ہیں ملت کے
سگانِ کذب و ریا سے مجھے عداوت ہے !



