ہفتہ وار کالمز

گلشن کی ویرانی

گلشن ِ پاکستان کے لئے جیسے قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی بیماری کو مخفی رکھتے ہوئے قیام پاکستان کے لئے اپنی کاوشیں جاری رکھی تھیں اور دشمنوں کے سامنے اس کے اظہار سے گریز کیا تا کہ آزادی کی نعمت سے مسلمانان ِ ہند جلد سے جلد مستفید ہو کر اپنے آزاد وطن میں اپنے مذہبی عقائد کے تحت زندگی گزار سکیں قائد نے علاج ِ زندگی کو پس ِ پُشت ڈال کرقیام ِ وطن کو گراں جانا تھا انگریز دور ِ حکومت میں ریلوے کے انگریز مہتمم مسٹر کونسل نے اپنی کتاب میں قائد اعظم کی بیماری کے حوالے سے لکھا کہ 1944میں محمد علی جناح کو ریلوے سٹیشن پر شدید بیماری کی حالت میں دیکھا گیا تھا مصنف کے مطابق قائد اعظم نے اپنی بیماری کو انگریزوں سے چھپانے کی کوشش کی لیکن ان کی حالت دیکھ کر اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ شدید بیمارہیں مسٹر کونسل کہتے ہیں کہ قائد اعظم نے ان سے درخواست کی کہ بیماری کی خبر کسی کو نہ بتائیں کیونکہ انگریز حکمرانوں کو بیماری کا علم ہو گیا تو وہ میری سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا سکتے ہیں قربانی اگر پاکستان کے گلشن کو سرسبز و شاداب رکھنے کے لئے مسلمانوں نے دی اپنا جان و مال لٹایا عصمت دری کا سامنا کیا تو قائد اعظم نے بھی اپنی جان کی بازی اس گلشن کی ویرانی دور کرنے کے لئے دی کسی موقع پر پیچھے نہیں ہٹے اور ریاست پاکستان کی عملی تشکیل کے لئے مسلمانوں کی حقیقی آزادی کے لئے بڑی ثابت قدمی سے ڈٹے رہے یوں ایک علیحدہ ریاست پاکستان کے نام سے دنیا کے نقشے پر نمایاں ہوئی ایک مضبوط عزم سے بنی اس ریاست کی جو کمزوریاں اس وقت دیکھنے کو مل رہی ہیں وہ قائد کے خواب و خیال میں بھی نہ تھیں کہ جس ملک کو جانوں کی قربانی دے کر حاصل کیا گیا تا کہ شہری اپنے ملک میں محفوظ و خوشحال رہیں گے مگر افسوس کے قائد اعظم کے دنیا سے پردہ کرتے ہی ہم کسی بھی نظام ِ حکومت کے متحمل ہی نہ ہو سکے نہ جمہوری نظام اپنی افادیت دکھا سکا اور نہ ہی آمرانہ طرز ِ عمل کا صدارتی نظام ہماری اُمیدوں کی لاج رکھ سکا کئی طرح کے نظام میں جلی یہ قوم آج بھی کسی مسیحا کی منتظر ہے جو اس پاک سر زمین کو جسے قائد اعظم نے اسلام کے نام پر بنایا تھا اُس میں اسلامی نظام کو پروان چڑھا سکے آئین میں درج اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نظام ِ معیشت کو سودی لین دین سے مبرا کر کے اسلامی معیشت کو فروغ دینے والا کوئی آ کر ہمیں صراط المستقیم پر گامزن کرے افسوس کہ قائدنےا س ریاست کی تشکیل کے لئے اپنی ساری صلاحیتیں بروئے کار لائیں ہم اُن کی ایک صلاحیت کی بھی حفاظت نہ کر سکے ہم ذاتی مفادات میں گم ہو کر ریاست کا ایک بازو بھی کٹوا بیٹھے ہیں مگر یکجہتی سے اب بھی دور ہیں صوبہ بلوچستان میں اندرونی و بیرونی دشمنوں کی سازشوں سے ہمارے پاک گلشن کی ویرانی کی راہ میں پاک فوج کے سوا کوئی بھی بلوچی بھائیوں کی محرومیوں کا ازالہ نہیں کر رہا ہے پاک فوج ہی ہے جو ملک کو غیر مستحکم کرنے والے عناصر سے بر سر پیکار ہے سیاسی لوگ تو ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے عوامی سطح پر شورو غل برپا کئے ہوئے ہیں فرقہ واریت راہزنی غربت کی بڑھتی شرح ،نوجوان نسل کا ملک سے باہر جانے کے رحجان میں اضافہ ہماری حکومتی نااہلیوں کی دلیل ہیں انسانیت کی حد سے بڑھتی تذلیل دیکھتا ہوں تو مرحوم عبدالستار ایدھی بڑی شدت سے یاد آتے ہیں جنہیں اُن کی لازوال خدمات کے پیش نظرتدفین سے قبل گارڈ آف آنرپیش کیا گیا انسانیت آج بھی ایسے ہی فرشتے کی منتظر ہے جو اپنی ذات کی نفی کر کے دوسروں کو آسانیاں فراہم کرے بیگم بلقیس ایدھی کہتی ہیں کہ ایک دفعہ اُن کے بیٹے نے بچپن میں سائیکل لینے کی ضد کی تو باپ ستار ایدھی کو بتایا گیا تو انھوں جواب دیا کہ صبر کرو میں پہلے محلے میں دیکھوں گا کہ کن بچوں کے پاس سائیکل نہیں ہے انھیں بھی سائیکل دینی ضروری ہے تا کہ وہ حسرت سے ہمارے بیٹے کو نہ دیکھیں ۔ایسے خیال کے لوگ جو دنیا سے پردہ کر چکے ہیں تو لگتا ہے کہ انسانیت کا درس دینے والا اب کوئی ہے ہی نہیں جس سے ہمارے اس گلشن جس کی آبیاری میں قائد نے اپنی جان نثار کی تھی اُس گلشن کی ویرانی کون دور کرے گا دیکھتے ہیں شاید کوئی انسان مل جائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button