ریاست میری ذات ہے!

جب یورپ میں شہنشاہیت کا دور تھا یہ اس وقت کی بات ہے کہ فرانس پر بھی بدترین قسم کی ظالمانہ شہنشاہیت مسلط تھی!تاریخ نے شہنشاہ لوئی چہاردہم (14ویں لوئی) کا یہ متکبرانہ قول اپنے صفحات میں رقم کرلیا، آنے والے تمام زمانوں کیلئے، کہ جب ان کے ایک درباری مصاحب نے شہنشاہ سے یہ سوال کرنے کی جسارت کی کہ ریاست کیا ہے تو شہنشاہ نے اس کی جہالت پر زہرخند کرتے ہوئے اپنے روایتی تکبر سے جواب دیا:
ریاست کیا ہے، وہ میں ہوں، میری ذات ہی ریاست ہے !
اس رعونت اور جبر کے استحصالی نظام کا منطقی نتیجہ آخر کار ان کے پوتے، یعنی 16ویں شہنشاہ لوئی کے دور، مطلق العنانیت میں انقلابِ فرانس کے روپ میں نکلا اور دنیا نے دیکھا کہ فرانس کے بیکس و مجبور، ظلم کے مارے ہوئے عوام نے متکبر شاہی گھرانے کا کیا حشر کیا اور کس طرح انہیں آنے والے زمانوں کیلئے نمونہء عبرت بنادیا!یہ تاریخ کا حوالہ رقم کرنے کی مجھے ضرورت یوں پڑگئی کہ ہمارے وطنِ عزیز (جسے میں اپنی یاسیت میں وطنِ مرحوم کہہ جاتا ہوں) پر بھی گزشتہ تقریبا” چار برس سے، عمران خان کی حکومت کے سازشی زوال کے بعد سے جو نظامِ فسطائیت راج کر رہا ہے وہ اس دور کے یورپ کو بھی اپنے ظلم و جبر سے شرمارہا ہے جس نے انقلابِ فرانس کو جنم دیا تھا !فرانس کے عوام کاتو پیمانہء صبر لبریز ہوگیا تھا جو انہوں نے ایک جابر و ظالم نظام کو بیخ و بن سے اکھیڑکر پھینک دیا۔ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستانی عوام کے صبر کا پیمانہ کب لبریز ہوتا ہے۔ فی الحال تو اسکے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے لیکن انقلاب کی لہر جب اٹھتی ہے تو اچانک ہی اٹھا کرتی ہے!آپ کو معلوم ہے کہ انقلابِ فرانس کی ابتدا کیسے ہوئی تھی جس کا انجام اس قتل اور خون کی ہولی کی شکل میں سامنے آیا جو تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ خون کے چھینٹے بکھیرتا رہے گا؟پیرس میں، اس شہنشاہیت کے نظامِ جبر نے عوام کی حالتِ زار یہاں تک کردی تھی کہ گھر کی عورتوں کے پاس کپڑے دھونے کا صابن تک دستیاب نہیں ہوتا تھا۔ خواتین کیلئے اس دورِ کلفت نے وہ صورتِ حال پیدا کردی تھی جسے "تنگ آمد بجنگ آمد” سے تعبیر کیا جاتا ہے۔تو پیرس کی خواتین صابن کے نہ ملنے پر تنگ آکر ایک دن جوق در جوق اپنے گھروں سے احتجاج کرتے ہوتے ہوئے نکل پڑیں اور ان کی دیکھا دیکھی مردوں کو بھی غیرت آئی اور وہ بھی ان کے پیچھے پیچھے گھروں سے باہر آگئے اور اس قلعہ پر، جسکا نام باستیل تھا، حملہ کردیا اور پھر کیا تھا دنیا میں انقلاب کی ایک نئی تاریخ مرتب ہوگئی!تو عین ممکن ہے کہ پاکستانی خواتین بھی اس تاریخ کو دہراتے ہوئے اور اپنے مردوں کو ، جنہوں نے فی الحال تو لگتا ہے کہ چوڑیاں پہنی ہوئی ہیں، غیرت دلانے کیلئے گھروں سے نکل آئیں تاکہ ملک پر مسلط موجودہ نظامِ جبر کو تار و پود سے اکھیڑ کر اسی طرح کوڑے کے ڈھیر پر ڈال سکیں جیسا کہ انقلابِ فرانس میں ہوا تھا!نظامِ جبر کے طالع آزماؤں کو اس کا لگتا ہے کہ کچھ احساس نہیں ہے کہ ظلم جب حد سے سوا ہوتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ اگر احساس ہوتا تو پنجاب کی پولیس، نام نہاد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جس بے شرمی اور شقاوت سے عورتوں پر ظلم کر رہی ہے، انہیں بالوں سےپکڑ کر سڑکوں پر گھسیٹا جا رہا ہے اور جس رعونت اور تکبر کے ساتھ چادر اور چاردیواری کا تقدس آئے دن پامال ہورہا ہے وہ نہ ہوتا!ستم بلائے ستم یہ ہے، اور یہ نشانی ہے اس تکبر کی اور اس رعونت کی جسکا مظاہرہ پاکستان کے طول و عرض میں اس یزیدی دور میں ہورہا ہے، کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے، پنجاب، پر ایک ایسی عورت کا تسلط ہے جسے اپنی خود نمائی کا مرض لاحق ہے اور جو عسکری یزید، خود ساختہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ مل کر اس غرور و تکبر کے ساتھ پنجاب پر ایسے حکومت کر رہی ہے جیسے یہ زمین اس کے باپ دادا کی میراث ہو جو اس تک منتقل ہوگئی ہے!لیکن اس آمرانہ جبرکے باوجود ان عسکری یزیدوں اور ان کے سیاسی گماشتوں کو اندر ہی اندر ان کا احساسِ ظلم کچوکے لگا رہا ہے۔ ظالم ہمیشہ بزدل ہوتا ہے اور اس کی بزدلی سے پیدا ہونے والا خوف اس سے ظلم اور جبر کرواتا ہے! عاصم منیر نہ صرف بزدل ہے بلکہ انتہائی شدید خوف کا بھی شکار ہے اوراسے یہ خوف کھائے جارہا ہے کہ عمران خان کے خلاف جو اس نے انتقام کی آگ اپنے د ل میں لگائی ہے وہ اسے خود ہی بھسم نہ کردے۔اسے یہ خوف ہے کہ عمران قید سے رہائی کے بعداس کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ یہی خوف تو ہے جس نے اس کم ظرف کو اُکسایا کہ وہ اپنے لئے تا حیات استنثیٰ اپنے گماشتوں اور کٹھ پتلیوں کی کلائی مڑوڑ کر حاصل کرلے! اس منہ بولے، اپنے آپ میاں مٹھو نام نہادحافظِ قرآن کو یہ احساس نہیں ہے کہ اسے مرنا بھی ہے اور مرنے کے بعد اس منصفِ ازل کو جواب بھی دینا ہے جس کی عدالت میں کوئی استثنیٰ نہیں ہے!عاصم منیر کا خوف اس انسان کی مانند ہے جو کسی چیتے یا شیر کی پیٹھ پر سوار تو ہوگیا ہو لیکن اسے یہ خوف کھائے جارہا ہو کہ جیسے ہی وہ پیٹھ سے اترے گا چیتایا شیر اسے کھاجائے گا!یزیدی ٹولہ کو اب یہ خوف ستا رہا ہے کہ عمران کی رہائی کیلئے 8 فروری کو جو عام ہڑتال اور عوامی احتجاج کی کال تحریکِ انصاف اور ان کی معاون تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے دی ہے وہ کہیں پاکستان کے عوامی احتجاج میں نہ تبدیل ہوجائے اور پیرس کے قلعہء باستیل کی تاریخ یزیدیوں کے مقبوضہ پاکستان میں بھی دہرائی نہ جائے!
عمران خان کی محترم اور معمر بہنوں پر جس طرح اڈیالہ جیل کے باہر سردی کے موسم میں ٹھنڈے یخ پانی کی توپیں داغی گئیں اور انہیں نہلایا گیا وہ ظلم و تعدی حافظ، قرآن کیلئے کوئی تازیانہ نہیں اسلئے کہ غیرت اور شرم کی کوئی رمق نہ اس یزید میں ہے نہ اس کے سیاسی مہروں میں جنہیں یہ اپنے انتقام کی آگ بڑھانے کیلئے استعمال کرتا آیا ہے اور استعمال کر رہا ہے!لیکن بزدل مجرم کو پھر بھی خوف ہے کہ کہیں 8 فروری کا عوامی احتجاج اس کے کاخ، یزیدی کو نہ پھونک دے!قارئین کو یہ یاد دلانے کی ضرورت نہیں ہے کہ 8 فروری اس شبخون کی دوسری برسی ہے جو 2024ء کے 8 فروری کے عام انتخابات کے نتائج پر یزید عاصم منیر کی سربراہی میں مارا گیا تھا جسکے نتیجہ میں عوام کے فیصلہ کو کہ وہ عمران خان کی قیادت چاہتے ہیں بدل دیا گیا تھااور سیاسی یتیموں اور گماشتوں کو مسندِ اقتدار پر بٹھادیا گیا تھا اور وہی سیاسی بونے اب بھی بیٹھے ہوئے ہیں اور اپنے یزیدی آقا کا ہر فرمان بجالاتے ہیں!تو بزدل عاصم منیر عوامی احتجاج کے خلاف پیش بندی کرنے کیلئے اسلام آباد کی پولیس کے افسران سے خطاب کرنے کیلئے پہنچ گیا۔ اس خطاب میں اس بے حیا نے خود کو بالکل ہی ننگا کرلیا اسلام آباد پولیس کے افسروں کے سامنے اعلان کرکے کہ ریاست تو، شہنشاہ لوئی کی مانند، اس کی اپنی ذات ہے۔ ریاست کے تحت سیاست ہے اور ریاست عاصم منیر کی مٹھی میں ہے لہٰذا وہی سیاسی کٹھ پتلیاں حکومت کرسکتی ہیں جن کی ڈور عاصم منیرکے ہاتھوں میں ہو!پولیس افسران کو تسلی دیتے ہوئے عاصم منیر نے بڑی رعونت سے کہا کہ انہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ان کے سروں پر عاصم منیر کا دستِ شفقت ہے، اس کی چھتر چھایہ جب تک ان پر ہے انہیں پریشان ہونے یا جوابدہی کا خوف پالنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس وہ خاموش وہی کریں جو عاصم منیر ان سے چاہتا ہے۔ اور عاصم منیر کیا چاہتا ہے یہ اظہر من الشمس ہے! عاصم منیر چاہتا ہے کہ عمران کی رہائی کیلئے جو بھی عوامی احتجاج ہو اس کا سر طاقت سے کچل دیا جائے۔ یہی تو بلوچستان میں ہو رہا ہے جہاں عوامی احتجاج کو طاقت کے بل بوتے پر کچلنے کی کوشش میں پورا صوبہ جنگ کا میدان بنا ہوا ہے اور یزیدی ٹولہ کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ اس عوامی احتجاج پر کیسے قابو پایا جائے!عاصم منیر نے اسلام آباد کے پولیس افسران کو رشوت دینے کیلئے ان کے سامنے یہ پانسہ پھینکا کہ اب سے وہ یعنی پولیس کے افسران کو بھی وہی مراعات حاصل ہونگی جو پاکستانی فوج کے افسران کو حاصل ہیں، جو نہ صرف ہوشربا ہیں بلکہ پوری دنیا میں ان کی کوئی اور نظیر نہیں ملتی۔ ان مراعات میں سرِ فہرست پاکستان کے ہر بڑے شہر میں ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹیز کے پلاٹ ہیں۔ عاصم منیر نے پولیس افسران کو یقین دلایا کہ یہ پلاٹ انہیں بھی دئیے جائینگے۔ اس کے علاوہ کاشتکاری کیلئے زرعی زمینیں الگ ہیں جو فوجی افسران کو امیر بنانے کا آسان نسخہ ہے اور آج کے بعد یہ الہٰ دین کا چراغ فوجی افسران کی مانند پولیس کے افسران کو بھی دستیاب ہوگا!یہ سب اسلئے کہ اسلام آباد کی پولیس بھی عوام کے ساتھ وہی سلوک روا رکھے جس کا نمونہ پنجاب کی پولیس نے مریم نواز کی سربراہی میں پیش کیا ہے !فرانس کے ظالم شہنشاہ جن کے رویہ نے تاریخی انقلابِ فرانس کو جنم دیا، تو صرف اپنے عوام کیلئے ظالم تھے لیکن یہ پاکستانی یزید، جو خود کو پاکستان کا بے تاج شہنشاہ سمجھتا ہے، اب اپنے ظلم کا دائرہ فلسطین کے مظلوموں تک بڑھانا چاہ رہا ہے!سامراجی گرو گھنٹال ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس یا امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت ہی یزید کیلئے کافی نہیں ہے۔ وہ اس سے بڑھکر بھی سامراجی ٹرمپ کی فسطائیت میں اپنا حصہ ڈالنا چاہ رہا ہے۔ اسی لئے یزید پچھلے دنوں داووس کی عالمی اقتصادی سربراہی کانفرنس میں، جہاں دنیا کا کوئی اور عسکری رہنما نہیں گیا، یہ کم ظرف، ٹرمپ کی قدم بوسی کیلئے خصوصی طیارہ میں چڑھ کر گیا اپنے سامراجی آقا کو اطمینان دلانے کیلئے کہ پاکستانی فوج اس سامراجی کام میں برابر کی شریک ہوگی جو غزہ اور مقبوضہ فلسطینی مظلوموں پر سائبان حماس کو غیر مسلح کرنے کیلئے بنائی جارہی ہے!بہ الفاظِ دیگر پاکستان کی فوج اب صیہونی اسرائیل کے ساتھ مل کر سامراجی گروگھنٹال کے منصوبہ کے تحت غزہ اور مقبوضہ فلسطین کے مظلوموں پر ایک نیا سامراجی نظام مسلط کرنے کے گھناؤنے کام میں برابر کی شریک ہوگی!ملت فروشی کو یزید عاصم منیر ایک نئی تعبیر اور تفسیر عطا کرنے میں نہ صرف اپنے لئے اعزاز سمجھتا ہے بلکہ اس گھناؤنے اور مذموم کاروبار میں پاکستانی قوم کو شریکِ جرم کر رہا ہے۔ہم نے کسی سابقہ کالم میں سامراج کے عصرِ حاضر کے سب سے بڑے نقیب ہنری کسنجر کا یہ قول نقل کیا تھا کہ امریکہ اسلئے طاقتور ہے کہ وہ اپنی صفوں میں غداروں کو تلاش کرکے انہیں کیفرِ کردار کو پہنچاتا ہے اور اپنے غلام ملکوں میں غداروں کو تلاش کرکے ان کی سرپرستی کرتا ہے اور پھر ان کے ذریعہ اپنا الو سیدھا کرتا ہے!
عاصم منیر پر کسنجر کا یہ قول کتنا صادق آتا ہے یہ آپ خود ہی فیصلہ کرسکتے ہیں۔
جس قوم کی سپاہ کا سالار ہو خراب
جو قوم کے سوالوں کا دیتا نہ ہو جواب
ملت فروشی جس کا ہمہ وقت مشغلہ
لازم ہے روسیاہ سے چھٹکارا ہو شتاب!



