پاکستان میں کیا ہو رہا ہے؟

پاکستان میں کیا ہو رہا ہے؟ ہم الطاف بھائی،بانی ایم کیو ایم کی زبان تو استعمال نہیں کریں گے لیکن کوشش کریں گے کہ آسان زبان میں بتائیں جو بیرون ملک رہنے والے بچوں اور نوجوانوںکو بھی سمجھ آ سکے۔اس وقت پاکستان میں اصل حکومت تو فوجی جرنیل چلا رہے ہیں، لیکن عموماً یہ ایک جمہوری حکومت بتائی جاتی ہے جس میں ایک صدر ہیں،زرداری صاحب،وزیر اعظم ہیں،شہباز شریف، اور وزراء کا ایک لائو لشکر مفت کی روٹیاں توڑنے کے لیے موجود ہے۔ لیکن چونکہ یہ حکومت ، فوج نے الیکشنز کے نتائج کو بدل کر شریف فیملی کو دلوائی تھی، اس لیے شہباز شریف اور ان کی بھتیجی جو پنجاب کی وزیر اعلیٰ ہیں، ان کو فوج کا ہر حکم ماننا پڑتا ہے اور وہ فوج کے سامنے چوں یا چراں بھی نہیں کر سکتے۔
فوج بھی پاکستانی ہے اور عوام بھی تو مسئلہ کیا ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ عوا م نے جن سیاستدانوں کو منتخب کیا تھا انکو جیلوں میں ڈالدیا گیا ہے۔ اور عدالتیں جہاں انہیں انصاف مل سکتا تھا، ان کے ججوں کو بھی اپنے تابع کر لیا ہے، یعنی وہ ان فوجی حکمرانوں کے حکم پر چلتے ہیں۔ اس کے لیے فوج نے پاکستان کے تقریباً ہر اہم محکمہ میں اپنے حاضر سروس یا ریٹائیرڈ افسر بٹھا دئیے ہیں، جن کے ذریعے فوج اپنے احکامات پر تعمیل کرواتی ہے۔مثلاً ابھی حال ہی میں عمرا ن خان اور ان کی بیگم کو ایک بے بنیاد مقدمہ میں17,17 سال کی قید سنائی گئی ہے۔اور ایک وکیل میاں بیوی کو صرف سوشل میڈیا استعمال کرنے پر 10,10 سال کی سزا سنائی گئی ہے۔یہ اور دوسرے قائدین کو جو سزائے دی گئی ہیں، وہ سب بے بنیاد مقدمات پر ہیں۔ان سب میں جو بڑی بنیاد بنائی گئی ہے وہ ہے9مئی 2024 کے روز لاہور، راولپنڈی اور پشاور میں تحریک انصاف کے احتجاج ہوئے، جو عمران خان کے بلا وجہ گرفتاری پر کیے گئے۔ مثلاً لاہور میںوہ احتجاج فوجی کمانڈر کے گھر کے باہر بھی ہوئے ۔اس کی ٹی وی پر جو ودڈیو دیکھائی گئی، اس سے صاف پتہ چلتا تھا کہ اس حملہ کی پوری تیاری پہلے سے کی گئی تھی۔جس کی بڑی مثال یہ تھی کہ نہ سڑکوں پر اور فوجی کمانڈر کے گھر پر کوئی گارڈز تھے جو کہ ہمیشہ ہوتے ہیں۔ گھر بھی خالی تھا۔اور جو لوگ اس کے اندر توڑ پھوڑ کر رہے تھے ان کو بلانے والے بھی سفید پوش فوجی ہی تھے۔باہر، تحریک کی ایک معزز اور بزرگ خاتون، ڈاکٹر یاسمین راشد ایک بڑی گاڑی کی چھت پر بیٹھی ہجوم سے کہہ رہی تھیں کہ گھر کے اندر مت جائو۔پھر حاکموں نے سب وڈیو غائب کر دیں اور ڈاکٹر یاسمین کو بھی سزا سنا دی۔عمران خان کو چونکہ گرفتار کر لیا گیا تھا پھر بھی ان پر مقدمات بنائے گئے۔ڈاکٹر یاسمین کا قصور یہ تھا کہ ان کو نواز شریف سے کہیں زیادہ ووٹ پڑے تھے۔
کچھ دانشوروں کا کہنا ہے کہ یہ سارا ڈرامہ تحریک انصاف کو تتر بتر کرنے کے لیئے رچایا گیا تھا، کیونکہ فوجی جرنیل کو امریکہ کے صدر نے کہا تھا کہ انہیں نہ عمران خان چاہئیں اور نہ تحریک انصاف۔ انہوں نے فوجی کمانڈر انچیف باجوہ کو ، اور اس کے بعد عاصم منیر کو یہ کام سونپ دیا تھا۔ جنرل باجوہ نے امریکی دفتر خارجہ کی ایک سازش کے نتیجے میں 2022میں عمران خان کی حکومت کا تختہ الٹا۔اس کے بعد ایک عبوری حکومت بنائی گئی۔ فروری8، 2024ء کو عام انتخابات ہوئے جس میں عمران خان کی پارٹی کو دو تہائی ووٹ پڑے۔ووٹوں کی گنتی کے نتائج فارم 45 پر بتائے گئے لیکن پورے حلقہ کے نتائج فارم 47 پر بدل کر رپورٹ کیے گئے جن کے مطابق نون لیگ، پی پی پی اور ایم کیو ایم کے امیدواروں کو جتوا دیا گیا۔چونکہ یہ کام فوج کی سر پرستی میں ہوا، وہ جب چاہے اس کو ظاہر کر کے جعلی حکومت کو گھر بھیج سکتی ہے۔ اس لیے شہباز شریف کی موجودہ جعلی حکومت ان کی ہر بات ماننے پر مجبو ر ہے۔ 9 مئی کے احتجاجوں میں شرکت کے الزام پر کئی ہزار نوجوانوں کے جیل میں ڈال دیا گیا، کسی ٹرائل کے بغیر۔اور کتنے لیڈر اور صحافی بھی حراست میں لے لیے گئے۔ جو ابھی بھی قید میں ہیں۔عدالتیں بے بس ہیں ۔ حکومت فوجی چلاتے ہیں ۔
کہتے ہیں کہ 1958ء سے جب جنرل ایوب نے ملک پر مارشل لاء لگایا تو ان کے دس سال میںفوج نے سویلین حکومت میں بھر پور شرکت کی اور اس کے طور طریقے سیکھ لیئے۔اس کے بعد کچھ عرصہ کے لیے سویلین کو حکومت کرنے دی اور پھر ماشل لاء لگا کر قابض ہو گئے ۔اس کے ساتھ ساتھ فوج نے اپنے نجی ادارے، صنعتیں، اور جا ئیدادوں کے کاروبار شروع کر دئیے۔جن کی مالیت اب اربوں ڈالر میں ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کے ہر دفتر میں ، اہم سیٹوں پر،ایک یا زیادہ فوجی لگوانے شروع کر دئیے، جو ان کو پل پل کی خبر دیتے ہیں اور ان کے احکامات پر عمل کرواتے ہیں۔ اس وقت ان کا کنٹرول تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔اب ہر باہر کے دورے پر جنرل عاصم منیر وزیر اعظم کے ہمراہ ضرور جاتے ہیں، جو پہلے نہیں ہوتا تھا۔مثلاً حالیہ دورہ میں ،جو ڈے ووس، سویٹزر لینڈ میں میٹنگ تھی، اس میں جنرل کا کوئی کام نہیں تھا، لیکن وہ شہباز شریف کے ہمراہ تھے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ شہباز شریف کا جانا بھی ضروری نہیں تھا۔
عدالتوں کو کنٹرول میں کرنے کے لیے، فوج نے پاکستان کے آئین میں دو بڑی ترامیم کروائیں۔ دوسری ترمیم میں جنرل عاصم منیر نے نہ صرف اپنی ترقی کروائی، پانچ سال کی ایکسٹینشن کروائی اور ساتھ میں اپنی پوزیشن کے لیے استثنیٰ بھی لے لیا کہ ان پر کبھی مقدمات نہیں بنا ئے جا سکیں گے، نہ دوران ملازمت اور نہ بعد میں۔اب وہ ایک مطلق العنان حکمران ہیں، ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی جا سکتی۔ ان حالات میں کسی انصاف کی توقع کرنا حماقت ہو گی۔
سوال یہ ہے کہ ہمارے ڈکٹیٹر اعظم کیوںملک میں ایک دہشت کی مہم چلائے ہوئے ہیں؟جس میں بلا لحاظ عمر، جنس اور رتبہ، عوا م کو ہراساں کیا جا رہا ہے؟ ا س کا ایک ہی جواز ملتا ہے اور وہ ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت۔ اگر ہم اس ہدایت کے پس منظر میں جائیں تو معلوم ہو گا کہ ٹرمپ بھی اپنی طرف سے یہ ہدایات نہیں دیتے۔ انکو بھی ہدایات کہیں اور سے ملتی ہیں جو وہ جنرل عاصم کو پہنچا دیتے ہیں۔جو لوگ ٹرمپ کو ہدایات دیتے ہیں وہ پاکستان سے شدید خائف ہیں، کیونکہ پاکستان ایک نیو کلیئر قوت ہے۔وہ اس میں ایسا حاکم نہیں چاہتے جو کسی مذہبی جنون میں اس ملک پر نیو کلیئر حملہ نہ کر دے جو وہ ملک ہر گز برداشت نہیں کر سکتا۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ ملک نہیں چاہتا کہ ایران بھی اپنی نیوکلیئرقابلیت بڑھائے یا ہتھیار بنا سکے۔اس ملک نے ڈونلڈ ٹرمپ پر پورا زور ڈالا ہوا ہے، کہ امریکہ ایرن پر حملہ کرے۔ٹرمپ نے ایران کے ساحلوں کے قریب اپنے بحری بیڑے پہنچا دئیے ہیں، لیکن اس کے ساتھ اسے معلوم ہے کہ یہ حملہ اگر کیا گیا تو ایران پوری قوت سے امریکی اثاثوں پر جو مشر ق وسطیٰ میں ہیں، ان پر حملے کرے گا۔ ایران ان کو تباہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ایران کو جو نقصان پہنچے گا، وہ بھی بہت ہو گا لیکن ٹرمپ اپنی قوم کو کیسے بتائے گا کہ اس نے ایران پر کیوں بلا وجہ حملہ کیا؟ ایران نے تو امریکہ پر کوئی حملہ نہیں کیا تھا۔ اس کے علاوہ یہ حملہ خاصا مہنگا بھی پڑ سکتا ہے جب کہ امریکہ پر قرضوں کا بوجھ بہت بڑھا ہوا ہے۔
یہ جنگ جو صرف اسرائیل کے دبائو میں کرنی پڑی تو امریکہ اور اس کے حلیفوں کے لیے بے پناہ مسائل کھڑے کر سکتی ہے۔ اس لیے عین ممکن ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کر دے اور اس جنگ کا خطرہ ٹل جائے۔اگر جنگ شروع ہو جاتی ہے تو پاکستان بھی اس میں پھنس سکتا ہے۔چونکہ ٹرمپ مالی مدد پر یقین نہیں رکھتا، پاکستان مفت میں رگڑا جائے گا۔
دوستوں۔ پاکستان اس وقت اقتصادی طور پر تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ فوج کو اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ وہ ملک کے اور قیمتی اثاثے بکوا کر اپنی رقومات لے سکتی ہے۔مسئلہ تو عوامی ضروریات کا ہے جو مہنگائی کے ہاتھوں خود کشیوں پر مجبور ہیں۔خدا جانے کہ یہ وزیر اعظم اور کمانڈر ان چیف کی جوڑی دنیا میں کو نسا چورن بیچ رہی ہے کہ پاکستان کو اور قرضے مل جائیں یا جو قرضے واپس کرنے ہیں ان کی واپسی کی تاریخ میں اضافہ ہو جائے یا کوئی اور دھندا؟
پاکستان میں اکثر فیکٹریاں بند پڑی ہیں۔ ان کے مزدور بے کا رہیں، ان کے کنبے افلاس کا شکار ہیں۔ جو مال باہر جاتا تھا وہ بھی نہیں جا رہا۔ حکومت کہہ رہی ہے کہ زیادہ پڑھے لکھے اور قابل پاکستانیوں کو ملک سے باہر جانا چاہیئے (تا کہ وہ زیادہ زرمبادلہ پاکستان بھیجیں)۔اگر وہ باہر چلے گئے تو پاکستان جاہلوں، بے خبروں اور کم عقلوں سے چلایا جائے گا؟ ہمارا خیال ہے کہ پاکستان کے حکمرانوں کو اگر باہر نقل مکانی کروا دی جائے تو سب کا ہی بھلا ہو جائے گا۔
پاکستان بغیر کسی عدالتی نظام کے چل رہا ہے۔حکمران سوشل میڈیا استعمال کرنے کے الزام میں دس دس سال کی سزائیں دلوا رہے ہیں۔ ایسے ایسے مقدمات بنائے جا رہے ہیں جن کا نہ سر ہے نہ پیر۔ملک میں ہر روز ٹریفک کے حادثات میں اموات ہو رہی ہیں جن کی کوئی معقول وجہ نہیں ہوتی۔ گٹروں کے ڈھکن غائب ہو جاتے ہیں تو انکو کھلا ہی چھوڑ دیا جاتا ہے۔ پھر ان میں بچے گر کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔لاہورمیں ایک ایسے ہی بڑے گڑھے میں ایک خاتون بمعہ اپنی بچی کے گر کر ہلاک ہو گئی اور بچی بھی نہیں بچی۔پنجاب کی حکومت نے اس خبر کے اڑتے ہی اعلان کر دیا کہ یہ سب جھوٹ ہے۔اور پھر گھنٹوں کی تلاش کے بعد ماں کی لاش مل گئی اور اس کے بعد بیٹی کی۔عورت کے خاوند نے جب پولیس کو شکایت کی تو اس پر تشدد کیا گیا۔یہ ہے ہمارا پیارا پاکستان!
پاکستان ایک قدرتی مناظر اور اور وسائل سے مالا مال ملک ہے۔ اس میں بلندبالا پہاڑ، صحرا،میدان اور سمندری ساحل ہیں کہ کسی چیز کی کمی نہیں۔اگر اس ملک کو لوٹنے کے بجائے ترقی دی جاتی تو یہ کسی یوروپین ملک سے کم نہ ہوتا۔
پاکستان 14 اگست 1947 میں بنا جب ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنے قائد محمد علی جناح کی قیادت میں اپنے لیے ایک نیا ملک چنا۔اس لیے کہ ہندوستان کی ہندو اکثریت مسلمانوں کو ان کے حقوق نہیں دے رہی تھی۔اس کے علاوہ بھی دونوں مذاہب میں نمایاں تفرقات تھے جو جھگڑوں اور فسادات کا سبب بنتے تھے۔پاکستان کی بد قسمتی تھی کہ اس کا قائد بہت جلد دنیا سے رخصت ہو گیا۔اس کے بعد جو وزیر اعظم بنے، خان لیاقت علی خان، ان کو بھی جلد ہی شہید کر دیا گیا۔کس نے کیا ، اس کے پیچھے کہتے ہیں ، فوج ہی تھی۔پاکستان پانچ صوبوں پر مشتمل تھا: پنجاب، سندھ، بلوچستان، فرنٹیر اور مشرقی پاکستان۔1971میں،مغربی پاکستان کی نا انصافیوں، ذوالفقار علی بھٹو اور فوج کی ملی بھگت سے، مشرقی پاکستان علیحدہ ہو گیا، جو بنگلہ دیش بن گیا۔ان کے لیے یہ اچھا ہی ہوا کہ انہوں نے تیزی سے اقتصادی اور معاشرتی ترقی کرنا شروع کر دی۔ان کے مقابلہ میں، پاکستان میں جو بھی حکومت آتی ، سیاسی یا فوجی، اس کے حاکم عوام سے زیادہ اپنی خوش حالی پر توجہ دیتے رہے۔نہ کسی نے عوام کی تعلیم پر توجہ دی نہ صحت پر۔ اس کے نتیجہ میںآج بھی بیس ملین سے زیادہ بچے سکول نہیں جا سکتے اور ایک بڑی تعداد میں بچے مناسب غذا ملنے سے پستہ قد ہیں اور کئیوں کی نشو نما رک چکی ہے۔پاکستان کی آبادی بڑھتی رہی جو اب 240 ملین سے اوپر ہو گئی ہے۔ملک میں غذا کی کمی سے مہنگائی بڑ ھ گئی ہے اور لوگوں کا جینا محال ہے۔ سمجھدار لوگ کہتے ہیں اس کی بڑی وجہ سارے ملک میں پھیلی ہوئی کرپشن ہے، جسے کوئی نہیں روک سکتا۔ایک لیڈر،عمران خان جو کرپشن کے خلاف تھا اور اس ملک کو صحیح راستے پر چلا نے لگا تھا اے سازش کے ذریعے جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ اب جعلی لیڈروں کی اور فوج کی حکومت ہے۔ دما دم مست قلندر۔



