ہفتہ وار کالمز

آٹھ فروری۔ بسنت یا پہیہ جام ہڑتال!

پاکستان تحریک انصاف جب بھی اپنے کسی ایونٹ کا اعلان کرتی ہے تو جعلی حکومت اور ملٹری جرنیل حواس باختہ ہو جاتے ہیں اور PTIکے اس ایونٹ کو ناکام بنانے کیلئے ایک متوازی شوشہ چھوڑدیتے ہیں۔ پی ٹی آئی اس ہفتے آٹھ فروری کو پہیہ جام اور شٹر ڈائون ہڑتال کا جب سے اعلان کیا ہے جعلی حکومت نے بھونترا کر بسنت تہوار منانے کا اعلان کر دیا مگر ہمیشہ کی طرح یہ اعلان کر دیتے ہیں مگر سوچتے بعد میں ہیں، جب عوام الناس نے کہا کہ وہ عمران خان کی تصویر والی پتنگیں اڑائیں گے، قیدی نمبر 804والی پتنگیں اڑائیں گے، تحریک انصاف کے پرچم والی پتنگیں اڑائیں گے اور بلند آواز میں ملکو کا عمران خان کیلئے گایا ہوا گانا لگائیں گے تو جعلی حکومت کے ہوش اڑ گئے بلکہ ہاتھوں سے طوطے اڑ گئے۔ اب حکومت نے سوچا کہ اس کا توڑ کیا کیا جائے، لہٰذا انہوں نے نوٹیفکیشن نکالا کہ اگر کسی بھی پتنگ پر عمران خان کی تصویر ہو گی تو پتنگ اڑانے والے کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ اس کے بعد دوسرا حکم نامہ یہ نکالا کہ جوکوئی بھی ’’نک دا کوکا‘‘ گانا، بجاتا ہوا دیکھا گیا تو اُسے دفعہ 144کے تحت گرفتار کر لیا جائے گا اور بھاری جرمانے عائد کئے جائیں گے۔ حکومت اس قدر بوکھلائی ہوئی ہے کہ پنجاب بھر میں تحریک انصاف کے کارکنوں اور لیڈروں کے گھروں پر چھاپے مار کر گرفتاریاں کی جارہی ہیں اور معلوم یہ ہورہا ہے کہ اس وقت پاکستان میں کوئی مسئلہ، کوئی ایشو نہیں ہے اور حکومت اربوں روپے بسنت کے تہوار کو شٹرڈائون کے حوالے سے یا ناکام بنانے کیلئے خرچ کررہی ہے۔ لوگ گٹر کے مین ہولوں میں گر کر مررہے ہیں، کمسن بچیاں ریپ کا نشانہ بن رہی ہیں،بلوچستان میں بی ایل اے کے لوگ بارہ مقامات پر گوادر سے لیکر کوئٹہ تک دہشت گردی کررہے ہیں اور نوشہرہ میں ملک کی خفیہ ایجنسی کے دفاتر پر دھماکے کررہے ہیں، سکیورٹی کے لوگ مارے جارہے ہیں، بلوچ بچے اور خواتین دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جارہے ہیں، پاکستانی فوج کے نوجوان ان دہشت گردی سے مقابلہ کرتے ہوئے جانیں قربان کررہے ہیں مگر حکومت بسنت کے تہوار پر پبلسٹی کرنے میں مصروف ہے۔ وادی تیرہ کے ہزاروں پناہ گزین گھنٹوں گھنٹوں برف میں سے گزر کرنقل مکانی کررہے ہیں اور پنجاب کی مہارانی اور فوج کا راجہ بسنت منانے میں مصروف ہے۔ اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان کی بہنیں اپنے بھائی کی آنکھ کے ضائع ہونے کے خطرے پر مظاہرہ کررہی ہیں اور حکومت بسنت منانے میں مصروف ہے۔ اب تو عمران خان کے صاحبزادوں سلیمان خان اور قاسم خان نے بھی ہیومین رائٹس کے بین الاقوامی اداروں اور حکومتوں سے اپنے باپ کی آنکھ کی بیماری پر ٹویٹس کررہے ہیں اور حکومت بسنت میںمصروف ہے، نہ عمران خان کے ذاتی ڈاکٹروں کو اور نہ ہی ان کے اہل خانہ کو اصل صورتحال سے آگاہ کیا جارہا ہے۔ یاد رہے کہ آنکھ میں RETNAکا ایشو بہت نازک اور پیچیدہ ہوتا ہے۔ اگر آنکھ کا RETNAآنکھ سے DETACHEDیا علیحدہ ہو جائے تو اس کے گرنے کے بھی چانسر ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں اس آنکھ کی بینائی بھی ضائع ہو جاتی ہے۔ پچھلے ہفتے عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم نے انکشاف کیا کہ اڈیالہ جیل سے جب عمران خان کو آنکھ سے رٹینا کے حوالے سے پروسیجر کرنے کیلئے پمز پاسپٹل لیجایا گیا تو اس ہاسپٹل میں تو آنکھ کے اس پروسیجر کیلئے نہ تو کوئی اسپیشلسٹ ڈاکٹر موجود ہے اور نہ ہی پمز ہاسپٹل میں ایسا کوئی ڈیپارٹمنٹ موجود ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ عاصم منیر کا اڈیالہ جیل کا کرنل حسب معمول جھوٹ بول رہا ہے۔
اب کچھ کچھ خبریں یوں بھی آرہی ہیں کہ پاکستان آرمی میں جنرل عاصم منیر مخالف ایک فوجی گروپ تشکیل پارہا ہے کیونکہ وہ فوجی جنرل عاصم منیر اور اس کے ہمنوا جرنیلوں، کرنیلوں اور بریگیڈیئروں کی پالیسیوں کے خلاف ہوتے جارہے ہیں۔ ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں تاکہ اس ـذہنی معذور سے جلد از جلد چھٹکارا پایا جا سکے۔ہم ہمیشہ کی طرح آج بھی اپنی فوج کے جری نوجوانوں کیساتھ کھڑے ہیں جن کا عاصم منیر جیسے جرنیلوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button