رشید اختر ندوی کی تاریخ شناسی !

ایک ایسے ملک اور ماحول میں ،جہاں تاریخ شناسی کی بجائے تاریخ تراشی کو ترجیح دی جاتی ہو، وہاں کسی ایسے تاریخ نگار کے بارے میں سننا یا پڑھنا حیران کر دیتا ہے جو حقیقت کو خرافات سے الگ کرنے اور ملک اور ماحول کو روایات میں کھو جانے سے روکنے کا رجحان رکھتا ہو۔ رشید اختر ندوی کی تاریخ نگاری ڈاکٹر نورینہ تحریم بابر کی قومی ادارہ برائے تاریخ و ثقافت ، مرکز فضیلت ،قائد اعظم یونیورسٹی ،اسلام آباد کے زیر اہتمام شائع ہونے والی تازہ تصنیف ہے۔ یہ تصنیف ان کے پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالے ‘رشید اختر ندوی کی علمی و ادبی خدمات کا ایک حصہ ہے ۔بیسویں صدی کی چوتھی دہائی کے اواخر سے لے کر آٹھویں دہائی تک کے دور نے پاکستانیوں کی ذہنی اور نفسیاتی ترتیب و تخریب پر اتنے گہرے اثرات مرتب کئے ہیں کہ ان کے نتائج و عواقب سے ابھی تک نجات حاصل نہیں کی جا سکی۔یہ دہائیاں ایک دلچسپ اور چشم کشا تاریخ بھی رکھتی ہیں۔انہی دہائیوں میں تاریخ شناسی اور تاریخ نگاری کے عین درمیان تاریخ تراشی کے رجحان کو سرکاری و درباری طور پر متعارف و مضبوط کیا گیا تھا ۔رشید اختر ندوی کی بطور ادیب اور عالم کارگزاری کا مطالعہ ان چار دہائیوں کے جملہ مناظر اور مظاہر کی اچھی طرح اور عمدہ طرز سے نقاب کشائی کرتا ہے۔ایک نوجوان ، جس کی عبادت گزار ماں اسے ایک عالم دین بنانا چاہتی تھیں۔یہ نوجوان اپنے دور کےبہترین اداروں میں تعلیم حاصل کرتا ہے۔اس نے آلو مہار شریف اور گوجرانولہ میں ابتدائی تعلیم و تربیت کے بعد دہلی کے مشن ہائی اسکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا، اس کے بعد لکھنئو کی معروف درسگاہ ندوتۃ العلماء اور جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بطور صحافی عملی زندگی کا آغاز کرتا ہے ۔ اس نوجوان نے قلم کو اپنا وسیلۂ روزگار بنانے کا فیصلہ کیا اور پھر یہ سلسلہ رومانی ناول نگاری ، تاریخ نگاری ، تاریخی ناول نویسی اور تراجم سے ہوتا ہوا آخری ناول الجھی راہیں تک جاری رہتا ہے۔یہ ضیاءالحق کے مارشل لاء کے مضر اثرات اور موذی ماحول کا زمانہ تھا۔رشید اختر ندوی کی جملہ تصانیف ،ان کے موضوعات اور ان پر اٹھنے والے تنازعات اپنے عہد کے مزاج اور ماحول کے ساتھ نبرد آزما مصنف کی دلچسپ داستان سناتے ہیں ۔ رشید اختر ندوی صحافت، رومانی و نفسیاتی ناول نگاری اور تھوڑی سی فلم سازی کے بعد تاریخ نگاری کی طرف متوجہ ہوئے تو ان کا فہم تاریخ و روایات اس دور کے اُردو تاریخ نگاروں سے خاصا مختلف اور متنوع رہا۔ڈاکٹر نورینہ تحریم بابر کتاب کے حرف آغاز میں لکھتی ہیں کہ؛ ” رشید اختر ندوی بیسویں صدی میں اُردو زبان کے نامور مورخ ، با کمال سوانح نگار، نہایت مقبول رومانی اور تاریخی ناول نگار اور مترجم تھے۔ وہ چالیس کی دہائی کے اوائل میں ایک رومانی ناول نویس کے طور پر اُردو ادب کے افق پر نمودار ہوئے اور چند ہی برسوں میں ایک مقبول ناول نگار کا درجہ حاصل کر لیا۔ انہوں نے سترہ (17) رومانی و نفسیاتی ناول لکھے۔ سازشکستہ سے الجھی راہیں تک ان کا ناول فنی ارتقاء کی منزلیں طے کرتا نظر آتا ہے۔۔۔۔ ان کی علمی عظمت اور تحقیقی فوقیت اور رحجان کا اصل میدان تاریخ نگاری تھا۔ تاریخ و تحقیق میں ان کا کام حوالے کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اُردو زبان میں اسلامی تاریخ نگاری کی روایت کو بامعنی توسیع دی۔ اسلامی تاریخ کی تحقیق و تعبیر اور تالیف پر مبنی ان کے چھ بڑے علمی منصوبے مکمل ہو کر سامنے آئے اور اُردو زبان کی ثروت خیزی میں اضافے کا باعث بنے۔ ان میں طلوع اسلام کے زیر عنوان مسلمانوں کی مفصل تاریخ چار جلدوں میں، اسپین میں مسلم اقتدار کے موضوع پر مسلمان اندلس میں، تہذیب و تمدن اسلامی کے زیر عنوان اسلامی تہذیب اور تمدن کے ارتقاء پر تین جلدیں، اسلامی حکمرانی کے نمونے عصر حاضر کے سامنے پیش کرنے کے لئے مرتب کی گئی تالیف مسلمان حکمران ، خلفائے راشدین اور جمہوری قدریں اور اسلام میں مرکزی حکومت کا تصور اور اس کی معاشی و اقتصادی ذمہ داریاں، اسلامی تاریخ اور اس کی عصر حاضر کے تقاضوں کی روشنی میں عالمانہ تعبیر کی عمدہ مثالیں ہیں۔ اگرچہ انہوں نے اپنے عہد کے مقبول رجحان کے مطابق تاریخی ناول بھی لکھے۔ انہوں نے مسلم تاریخ نگاری میں کسی بھی مسلک یا فرقے سے منسلک یا متاثر ہوئے بغیر بنیادی مصادر پر مدار کرتے ہوے خالص علمی اور تحقیقی انداز اختیار کیا۔ڈاکٹر نورینہ تحریم بابر بتاتی ہیں کہ؛ اسلامی تاریخ کے ایک محقق اور مورخ کے طور پر رشید اختر ندوی نے عربی، فارسی اور انگریزی زبانوں کے مصادر کو پیش نظر رکھا، خصوصیت کے ساتھ عربی کتب تاریخ و آثار سے کثرت سے استناد کیا۔ ان مصادر کے حصول کے لئے متعدد ممالک کے سفر بھی اختیار کئے اور اُردو زبان کے دامن کو علمی آثار سے بھر دیا۔۔۔ اپنے دور کے مقبول رومانی ناول نگار کو ان کی متدین والدہ جھوٹی کہانیاں لکھنے سے ہمیشہ منع کیا کرتی تھیں۔وہ اپنے بیٹے کو ایک عالم دین بنانا چاہتی تھیں،خود رشید اختر ندوی نے بھی کچھ ایسے ہی وعدے ماں کے ساتھ کر رکھے تھے۔ ڈاکٹر نورینہ تحریم بابر لکھتی ہیں کہ؛ رشید اختر ندوی ایک ناول نویس کے طور پر مقبولیت اور محبوبیت کی منزلیں طے کر رہے تھے ، ان کی والدہ انہیں مسلسل جھوٹی کہانیاں اور فرضی قصے لکھنے سے منع کر رہی تھیں ۔ اس ممانعت نے رشید اختر ندوی کے اندر ایک مسلسل کشمکش اور اُلجھن کوجنم دیا۔ یوں کہیے کہ وہ دین و دل کو بھی عزیز رکھنا چاہتے تھے اور اس کی گلی میں جانا بھی جاری رکھنا چاہتے تھے۔ ان کا رحجان طبع انہیں ناول کی دنیا میں آباد رکھنا چاہتا تھا جب کہ ان کی والدہ کی توقعات انہیں علم تحقیق اور دینی علوم میں مہارت کی راہ دکھا رہی تھیں۔صرف یہی نہیں، رشید اختر ندوی کی والدہ محترمہ ان کی فلمی سرگرمیوں سے بھی نالاں تھیں۔ڈاکٹر نورینہ تحریم بابر لکھتی ہیں کہ؛ ..فلمی سرگرمیوں سے ان کی والدہ سخت نالاں رہتی تھیں۔ وہ ڈانٹ ڈپٹ کرتیں اور ناراض بھی ہوتیں۔ ایک لاڈلے بچے کی طرح رشید اختر ندوی اپنی والدہ کی ہر بات مان لیتے ، ہر وعدہ کر لیتے ، ہر حکم کے آگے سر جھکا دیتے لیکن عملاً وہی کچھ کرتے ، جو ان کے دل میں ہوتا ۔رشید اختر ندوی کی معروضیت نے ان کے لیے مشکلات بھی پیدا کیں ،لیکن انہوں نے ہر مشکل کا حد درجہ اعتماد کے ساتھ سامنا کیا اور سرخرو ہوئے۔ رشید اختر ندوی اس اعتبار سے خوش قسمت تھے کہ ؛اس دور میں توہین مذہب کا الزام لگانا ایک مقبول کاروبار نہیں بنا تھا، معاشرے میں اعتدال اور باہمی احترام کے آثار باقی تھے ۔اس سب کے باوجود سیرت النبی ؐپر ان کی تالیف محمد رسول اللہ پر گستاخی رسول ؐ کا اتہام لگایا گیا۔یہ حد درجہ خطرناک بات تھی اور اس کے اثرات کچھ بھی ہو سکتے تھے۔رشید اختر ندوی ایک غیر جانبدار محقق اور مورخ تھے اور اپنے مصادر کے انتخاب میں کسی فرقہ وارانہ رجحان یا ترجیح کی بجائے خالص علمی رویہ اختیار کرتے تھے۔ رشید اختر ندوی نے گستاخی رسولؐکے الزام کی کس حکمت ،تحمل اور تدبر سے تردید ، تلافی اور تصحیح کی،وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔اس سے پہلے رشید اختر ندوی اپنے ایک ناول مرد کوہستان کے حوالے سے جنرل ایوب خان کے عتاب کا سامنا بھی کر چکے تھے۔ دو ضخیم جلدوں میں ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی سوانح لکھنے والے رشید اختر ندوی نے جنرل ضیاء الحق کی ناراضگی کا سامنا بھی کیا۔اس سب کے باوجود کسی بھی طرح کے داغ ندامت کے بغیر ایک کامیاب اور بامراد زندگی گزارنے میں کامیاب رہے۔ڈاکٹر نورینہ تحریم بابر کی تصنیف رشید اختر ندوی کی تاریخ نگاری اپنے موضوع کے اعتبار سے ایک دلچسپ، حیرت انگیز اور چشم کشا واقعات و معلومات سے معمور نظر آتی ہے ۔



