ہفتہ وار کالمز

سفید پوشی کا بھرم !

سر پہ پڑی پھٹی چادر ہو یا پائوں کے اڈھڑے چپل ہوں یہ غربت کا بڑا آسان سا تعارف ہوتا ہے جو زمانے کی رحمدلی کا متلاشی رہتا ہے مگر غربت میں پھنسے سفید پوش انسانی رحم و کرم کی بجائے رب ِ کریم سے غنی ہونے کی تمنا میں سر بسجود رہتے ہیں کیونکہ ہمارے معاشرے میں رہنے والے صاحب ِ ثروت جب تک اپنی فراخ دلی کا اپنی نام نہاد انسان دوستی کا تصویروں میں پرنٹ میڈیا میں یا سوشل میڈیا میں تشہیر نہ کریں تو اُن کی خود نمائی کو تسکین میسر نہیں آتی جو سفید پوش طبقے کے لئے باعث ِ ہزیمت ہونے کی وجہ سے ناقابل ِ برداشت ندامت بن جاتی ہے ندامت کے ان داغوں سے بچائو کے لئے سفید پوش حیا کے پردے میں رہتے ہیں اپنی وضع قطع ،بدن بولی اس لحاظ سے ترتیب دیتے ہیں کہ کوئی انھیں سائل سمجھنے کے قریب بھی نہیں پھٹکتا وہ اپنی انمول انا کی حفاظت ایسی عجز و انکساری سے ظہور پذیر کرتے ہیں کہ جانچنے والے کو شائبہ تک نہیں ہوتا یوں معاشرے میں سفید پوشی کا بھرم آج بھی قائم و دائم ملتا ہے سفید پوشی کے اس بھرم کی پر سکون سکونت کی وجہ اپنی ضروریات کو آمدن کے لحاظ سے سے کم تر کرنے پر اکتفا کی وجہ ہے ورنہ معاشی ناہمواریوں کی وجہ سے طبقاتی ناانصافیوں کے درد کو کون نہیں جانتا لیکن مصیبت یہ ہے کہ حل کی جانب جانے کی بجائے اُسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے اسی لئے حیا والے اپنے ہاتھ پھیلاتے نہیں اور ہونٹ سی لیتے ہیں صاحب ِ ثروت افراد کو چائیے کہ وہ اپنی قریبی عزیزوں میں ،اپنے ہمسایوں میں صدقات یا زکوۃٰ کی نیت کو مخفی رکھتے ہوئے سفید پوش ضرورت مندوں کو تحفہ کی صورت پیش کریں تا کہ ضرورت مند کی ضرورت برہنہ ہونے سے محفوظ رہے مگر ملکی سطح پر ہماری سفید پوشی کا بھرم دیکھنے کو نہیں ملتا بھیگ مانگنے کا کوئی موقع ہمارے حکمران ،معاشی ماہرین ہاتھ سے جانے نہیں دیتے امداد لیتے ہوئے یا غیر مذاہب سے کسی سانحے پر بھیگ لیتے ہوئے کبھی ان کی انا مجروح نہیں ہوتی کیونکہ قرض لے کر ملک کے معاشی نظام کو رواں رکھنا ان کا وطیرہ ہے یہ مانگتے فقیروں کی طرح ہیں اور اُڑاتے شہنشاہوں کی طرح ہیںیعنی ہمارے اخراجات آمدن کے حساب سے کئی گنا بڑھ کے ہیں جنہیں کم کرنے کی کبھی کوئی کاوش عمل میں نہیں لائی گئی غربت کے ساتھ ساتھ لاعلمی میں بھی اضافہ اس قدر ہوا کہ 54برس میں پاکستان کی آبادی بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں دگنا بڑھ گئی مگر سدباب کے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ایک عام آدمی تو اپنے حیا کے تقدس کے لئے اپنے سفید پوشی کی چادر میں سمٹا رہتا ہے مگر صاحب ِ ثروت حکمران ،صاحبان ِ اقتدار اپنے مفادات کے لئے کبھی سفید پوشی کی صف میں کھڑے نہیں ہوئے صنعتوں و ایکسپورٹرزکے لئے بڑے بڑے اعلانات جن میں دیگر مراعات کے ساتھ بجلی ،4.04ویلنگ چارجز 9روپے،ایکسپورٹ ری فنانسنگ کی شرح 4.5فیصد،میں کمی اور دو سال تک بلیوپاسپورٹ کی سہولت بھی دی گئی مگر یہ مخصوص اشرافیہ کے لئے مراعات ہیں ملکی سطح پر ان مراعات کا خیر مقدم تو بنتا ہے مگر اس سے غریب کے چولہے میں جلتی ہلکی سی آنچ اونچا ہونے کی طاقت نہیں رکھتی نوے فیصد لوگ غربت اور سفید پوشی کے بھرم کی وجہ سے آدھا پیٹ کھا کر سونے کے عادی ہو چکے ہیں منتظر ہیں کہ کب کوئی عبدالستار ایدھی پھر جنم لے کر ان بھوک اور ضروریات کو اللہ کی مدد سے صدق ِ نیت سے پوری کرے گا جس کی نہ تشہیر ہو گی اور نہ ہی سیاسی تصاویر میں کسی کی سفید پوشی کا بھرم کھلے گا۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button