فلسطینیوں کے لیے خطرناک قانون؟ اسرائیل کا متنازعہ ڈیتھ پینلٹی بل عالمی تنقید کی زد میں

جنیوا: اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ مبینہ دہشت گردی کے جرائم پر لازمی سزائے موت سے متعلق مجوزہ قانون واپس لے، کیونکہ یہ انسانی حقِ حیات کی کھلی خلاف ورزی اور فلسطینیوں کے خلاف امتیازی اقدام ہوگا۔اقوامِ متحدہ کے ایک درجن سے زائد آزاد ماہرین نے بدھ کے روز جاری بیان میں کہا کہ اسرائیلی پارلیمنٹ نے گزشتہ سال نومبر میں اس بل کی ابتدائی منظوری دی تھی، جو انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر کے مطالبے پر پیش کیا گیا۔ماہرین کے مطابق لازمی سزائے موت عدالتی انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے، کیونکہ اس میں عدالت کو ملزم کے حالات، نیت اور دیگر رعایتی پہلوؤں پر غور کرنے کا اختیار نہیں دیا جاتا۔بیان میں کہا گیا کہ اگر یہ بل قانون بن جاتا ہے تو مغربی کنارے میں فوجی عدالتیں ایسے مقدمات میں بھی سزائے موت دے سکیں گی جہاں قتل دانستہ نہ ہو۔ جبکہ اسرائیل اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں یہ سزا صرف اسرائیلی شہریوں یا رہائشیوں کے دانستہ قتل تک محدود ہوگی۔اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا کہ اسرائیلی قوانین میں دہشت گردی کی تعریف مبہم اور حد سے زیادہ وسیع ہے، جس کے باعث ایسے افعال کو بھی دہشت گردی قرار دیا جا سکتا ہے جو درحقیقت اس زمرے میں نہیں آتے۔ماہرین نے مزید کہا کہ فوجی عدالتوں میں فلسطینی شہریوں کے مقدمات عموماً بین الاقوامی معیار کے مطابق منصفانہ نہیں ہوتے، اس لیے ایسی عدالتوں کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت حقِ حیات کی مزید خلاف ورزی ہوگی۔بیان میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ مجوزہ قانون کے تحت فوجی ججوں کی سادہ اکثریت سے سزائے موت سنائی جا سکے گی۔دوسری جانب حماس نے اس قانون کو اسرائیلی انتہاپسندی اور فسطائیت کی علامت قرار دیا، جبکہ فلسطینی وزارتِ خارجہ نے اسے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی جرائم میں مزید اضافے کا نیا طریقہ کہا ہے۔



