ہفتہ وار کالمز

شیاطین کے راج میں !

تاریخ کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ روم جل رہا تھا اور نیرو اپنی بانسری بجا رہا تھا !نیرو کی اس شیطانی حرکت پر تاریخ دو ہزار برس سے اس پر لعنت بھیجتی آئی ہے۔کراچی والے بھی گل پلازہ کی آتشزدگی پر، جس میں تا حال 88جانیں ضائع ہوچکی ہیں اور درجنوں افراد لاپتہ ہیں جن کے متعلق یہ وثوق سے کہا جاتا ہے کہ وہ بھی جاں بحق ہوچکےہیں، سندھ حکومت پر لعنت ملامت کرنا چاہتے ہیں، اور کر بھی رہے ہیں، لیکن پاکستان کا وہ نیوز میڈیا جو اپنی آزادیٔ گفتار اور تحریر کیلئے کسی زمانہ میں بہت مشہور تھا اور ایک ایسی ساکھ کا مالک تھا جس پر ہر صاحب الرائے کو فخر محسوس ہوتا تھا، اس سانحہ پر چپ سادھے ہوئے ہے اور چپ یوں سادھے ہوئے ہے کہ اس پر فسطائی راج کی قدغنیں ہیں، ایک دو قدغن نہیں بلکہ ہر طرح کی پابندی اور زباں بندی ہے!پاکستان، عمران خان کی حکومت کے خاتمہ سےلیکر آجتک، ان یزیدی جرنیلوں کے تسلط اور قبضہ میں ہے جو ملک کو اپنی جاگیر اور قوم کو اپنا غلام سمجھتے ہیں اور اس کے ساتھ ان کا سلوک بھی غلاموں سے بدتر ہے۔یہ شیطانی اور ابلیسی راج ہے جس نے پاکستان کو اس بری طرح اپنے شکنجہ میں جکڑا ہوا ہے ، بقول شخصے، کہ پہچانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی!یہ وہ پاکستان نہیں ہے، کسی بھی اعتبار سے، جسکا بنانے والا ایک انتہائی دیانتدار اور کھرا انسان تھا اور جس نے پاکستان بننے سے پہلے واشگاف الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ پاکستان کے شہریوں میں کسی بھی طور پہ تفریق یا امتیاز نہیں ہوگا اور ہر شخص کے بنیادی حقوق کی ضمانت ریاست فراہم کرے گی !لیکن بابائے قوم کے ارشادات کو بھلانے والے سب سے پیش پیش وہ تھے جن کا پاکستان بنانے میں کوئی حصہ نہیں تھا اور جو تقسیم ہند کے آخر آخر لمحہ تک فرنگی راج کے وفادار بلکہ غلام رہے تھے۔ نہ صرف غلام رہے تھے بلکہ پاکستان بن جانے کے بعد سےان کا رویہ ملک و قوم کے ساتھ ، من و عن، وہی رہا ہے جو فرنگی راج کا اپنے محکوم اہل ہند کے ساتھ تھا !یہی وہ زعم ہے، قوم کو اپنا غلام سمجھنے کا تکبر اور غرور کہ کراچی جل رہا تھا لیکن چھٹ بھیا، کٹھ پتلی وزیر اعظم، شہباز، خارجہ امور پہ تہمت کا داغ اسحاق ڈار اور ان دونوں کا والی اور سرپرست فراڈ مارشل عاصم منیر، تینوں علیحدہ علیحدہ خصوصی طیاروں میں بیٹھ کر داووس ، سوئٹزرلینڈ ، روانہ ہوگئے تاکہ اپنے سامراجی آقاء، ٹرمپ کی، بقول بھارت واسیوں کے، چرن دھولی لے سکیں جو ان غلاموں کی نظر میں ان کی نجات کا پروانہ ہے!پاکستان کی معیشت قعرِ مذلت میں ہے، ملک کی وہ برآمدات، جیسے ٹیکسٹائل کی مصنوعات، جو پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی تھی، دن بہ دن زوال کا شکار ہیں اور فیصل آباد میں ٹیکسٹائل کی بیسیوں فیکٹریاں بند ہوچکی ہیں، لیکن پاکستان کو اپنی جاگیر سمجھنے والے یزید اور فراعین اس اہتمام سے خصوصی طیاروں میں سفر کرتے ہیں جیسے پاکستان میں دودھ شہد کی نہریں بہہ رہی ہوں!دنیا کے کسی ملک کی فوج کا سربراہ داووس میں دکھائی نہیں دیا سوائے ہمارےفراڈ مارشل کے کیونکہ وہ بزعمِ خود پاکستان کا بے تاج بادشاہ بنا ہوا ہے اور اپنے آقاءٹرمپ کی آشیرواد اس کیلئے پروانہء نجات ہے!یزید عاصم منیر کا داووس کی معاشی سربراہی کانفرنس میں کیا کام تھا؟ یہ پوچھنے کی پاکستان میں کسی کو ہمت اور جسارت نہیں۔ان شیاطین کی داووس میں موجودگی کا جواز یہ تھا کہ وہاں ہمارے عہد کا سب سے بڑا ابلیسی چیلا، نارنجی شیطان، اپنے نام نہاد غزہ کے امن بورڈ کے شریک اراکین سے حلف لے رہا تھا اور ان کی شرکت کا باضابطہ اعلان کر رہا تھا۔ہمارے کٹھ پتلی شہباز کی ذہنی غلامی کا یہ عالم ہے کہ اس نے بھی امن بورڈ کے غلامی نامہ پر دستخط کرنے کے بعد اسی طرح دنیا کے سامنے پیش کیا جیسے اس کا آقاء اور سرپرست ٹرمپ ہر کاغذ پہ دستخط کرنے کے بعد بڑے فخر سے کیمرے کو دکھاتا ہے!پاکستان نہ صرف ٹرمپ کے امن بورڈ میں شامل ہوا ہے، بسر و چشم، بلکہ اس فوج کا حصہ بھی بن رہا ہے جو غزہ کے مظلوموں پر ٹرمپ اور صیہونی تسلط کو یقینی بنانے کی غرض سے جمع کی جارہی ہے۔ہم تو ایک عرصہ سے کہتے آئے تھے کہ یزید عاصم منیر بےچین تھا کہ امن بورڈ میں بھی اس کا غلام پاکستان شریک ہو بلکہ اس استبدادی فوج کا بھی حصہ بنے جس کا اصل مشن اور مقصد غزہ کی چوکیدار فورس، حماس، کو غیر مسلح کرنا ہے !قائد اعظم کے پاکستان کو ان کی بتائی ہوئی روش سے ہٹانے اور ان کےارشادات کی روشنی سےدور لیجانے کی جو مہم فیلڈ مارشل ایوب کے دورِ آمریت سے شروع ہوئی تھی وہ فراڈ مارشل عاصم منیر کی فسطائیت میں اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے !بابائے قوم نے صیہونی اسرائیل کی کھل کے مخالفت اور مذمت کی تھی جو نہ صرف ہماری تاریخ کا حصہ ہے بلکہ امریکہ کی دوسری جنگِ عظیم کے بعد کی تاریخ میں بھی ایک سنگِ میل ہے !بابائے قوم نےاسرائیل کی ریاست کے قیام کی مذمت کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کے حقوق اور ایک آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی واشگاف الفاظ میں حمایت کا پرچم بھی سربلند کیا تھا۔لیکن آج کی ابلیسی اور فسطائی ریاست کے سربراہ، عاصم منیر نے اس بورڈ میں پاکستان کو لے بٹھایا ہے جس میں صیہونی اور فسطائی نظریات کا حامل، اسرائیل کا وزیر اعظم نیتن یاہو، بھی رکن ہوگا۔ اس اعتبار سے پاکستان صیہونی اسرائیل کا فریق اور شراکت دار بننے جارہا ہے!پاکستان کی فوج اس گھناؤنے کھیل میں اسرائیل کی ظالمانہ فوج کے شانہ بشانہ ہوگی جس کا وجود ہی صرف اور صرف فلسطینیوں کو صیہونی عزائم کا غلام رکھنا ہے !دیکھا آپ نے کہ شیطان کے خاکی چیلے عاصم منیر نے پاکستان کو ذلت اور رسوائی کا کیا تاج پہنایا ہے !
نام نہاداسلامی جمہوریہ پاکستان صیہونی اسرائیل کے فریق کی حیثیت میں فلسطینیوں کے حقوق سلب کرنے اور ان کی آزادی کو اپنے پیروں تلے روندنے کا گھناؤنا کام کرنے کی راہ پر گامزن ہوچکا ہے اور یہ قبیح کام اس کےتسلط میں ہورہا ہے جسکا دعویٰ ہے کہ وہ حافظِ قرآن ہے لیکن اس منافق کو قرآن کا یہ واضح فرمان یاد نہیں کہ اے، ایمان والو یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ کہ یہ آپس میں دوست ہیں اور تمہارے دشمن ہیں!یزید عاصم منیر دراصل پاکستان کا دشمن ہے، پاکستان کا غدار ہے اور بابائے قوم جو پاکستانی قوم بنانا اور دیکھنا چاہتے تھے اس کا بدترین مخالف ہے !پاکستان کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے آج بھی حیرت میں ہیں کہ چار پانچ سال پہلے تک شاید ہی فوج کے باہر کوئی پاکستانی ہو جس نے اس عاصم منیر کا نام بھی سنا ہو! کہاں سے آیا ہے یہ ملک کی آن بان کو مٹی میں ملانے والا بدبخت اور ملت فروش؟ہم نےشاید کسی کالم میں تحریر کیا تھا کہ سامراج کا آزمودہ طریقہء کار یہ ہوتا ہے کہ وہ جن ملکوں سے انہیں کام لینا ہوتا ہےوہ وہاں ملت فروشوں کو تلاش کرتا ہے۔ سامراج کے ایک بہت معروف مفکر اور ماہر، ہنری کسنجر، کا یہ بہت مشہور قول ہے کہ امریکہ اسلئے مضبوط اور طاقتور ہے کہ وہ اپنے غداروں کو کیفرکردار تک پہنچاتا ہے لیکن اپنے غلام ملکوں میں غدار تلاش کرتا ہے، انہیں پروان چڑھاتا ہے اور پھر ان کے ذریعہ اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے!تو عاصم منیر ایسا ہی غداراور ملت فروش ہے جس نے وہ کردکھایا جو اس سے پہلے کسی عسکری آمر اور طالع آزما کی ہمت نہیں ہوسکی تھی کہ اس گندے کام کو سرانجام دے!اس ملت فروش نے پاکستان کو صیہونی اسرائیل کی گود میں بٹھادیا ہے۔ بٹھایا ہی نہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ کو صیہونی ایجنڈا کا سہولت کار بنادیا ہے۔ وہ پاکستان جو دنیا بھر میں فلسطینی مظلوموں کی حمایت کرتا تھا اب تاریخ کےصفحات تک ہی محدود رہ گیا ہے ! اب پاکستان نے، دیکھا جائے تو اسرائیل کے وجود کو نہ صرف تسلیم کرلیا ہے بلکہ وہ اسرائیل کی فلسطینی حقوق اورعزائم کی پامالی میں پوری طرح اسرائیل کی فریق اور شراکت دار بن گیا ہے!شیطان کو اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے ایسا چیلا کہاں مل سکتا تھا جیسا یہ ملت فروش ہے ! بابائےقوم کی روح عالمِ بالا میں کیسی مضطرب اور بے چین ہوگی اپنے پاکستان کو ایسے شیطانی چیلے کی گرفت میں دیکھ کر! لیکن فسطائیت کا علمبردار اپنے کارنامہ پر فخر کر رہا ہے اور اسی کی داد پانے کیلئے وہ اپنے گرو کی قدم بوسی کیلئے داووس گیا تھا!تو لیجئے ہمارا یہ قطعہ پڑھ لیجئے جو اس عمل کی نشاندہی کیلئے بہت ہے۔
عاصم منیر جیسا سفینے کا ناخدا
اس کشتی کا خدا ہی نگہبان ہو تو ہو
اس ملک کو ڈبویا ہے ملت فروش نے
اب قوم پر خدا ہی مہربان ہو تو ہو !

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button