ہفتہ وار کالمز

اوورسیز پاکستانیوں، تم پاکستان کو بچا سکتے ہو!

آٹھ فروری کے دن تما م پاکستانی یوم احتجاج منائیں گے۔ پاکستان میں بھی اور تما م دنیا میںبھی ۔ البتہ بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے پیغام کچھ اور ہو گا۔ دوسرے ملکوں میں کام کرنے والے پاکستانیوں کو بتانا ہو گا کہ:
اگر وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان تباہی کے اس گڑھے میں گرنے سے بچ جائے، جس کی طرف اسکو موجودہ حکومت تیزی کے ساتھ لے جا رہی ہے، تو ان کو ایک کا م کرناہو گا۔ وہ یہ ہے کہ جب تک:
1۔عمران خان کو با عزت، قانوناً رہا نہیںکیا جاتا؛
2۔ اوور سیز پاکستانیوں کو پاکستانی انتخابات میں ووٹ دینے کا حق نہیں دیا جاتا؛ ، وہ پاکستان کے بینکوں میں اپنے ترسیلات نہیں بھیجیں گے۔ اور اس کے بعد اگر مندرجہ بالا شرائط پوری ہو بھی جاتی ہیں، تو وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ :
3۔ اگر آئندہ انتخابات منصفانہ اور شفاف نہیں کئے جاتے تو وہ پھر اپنی ترسیلات روک دیں گے۔
اس لیے8فروری کے اجتماع میںمندرجہ زیل یہ چار بینرز ضرور ہونے چاہئیں:
۔ عمران خان کو رہا کرو
۔ہمیں ووٹ کا حق دو
۔ نئے اتخابات منصفانہ اور شفاف کرو، (اس کی شروعات، الیکشن کمیشن کے موجودہ چیرمین راجہ سلطان سکندر کی برخاستگی سے ہوں) اور
۔ تحریک انصاف کاسیاسی مقام فوراًبحال کرو۔(اس میں تحریک کے ا نتخابی نشان بلا، کی بحالی شامل ہے)
یہ بالکل جائز مطالبے ہیں۔ اگر پاکستانی حکومت یہ مطالبے نہیں مانتی تو پہلی رمضان سے تمام بیرون ملک پاکستانی، بینکوں کے ذریعے ترسیلات زر روک دیں۔ اپنے گھر والوں کو سمجھا دیں کہ وہ بھی کچھ عرصہ کے لیے قربانی دیں، شادیاں، جائداد کے سودے ، عید منانے اور دوسرے اخراجات روک دیں۔یہ قربانی پاکستان کی بہتری کے لیے انتہائی ضروری ہے۔اگرہم یہ نہیںکریںگے تویہ ظالم حکومت اپنے مظالم جاری رکھے گی اور ہماری زندگیوں کوعذاب بنائے رکھے گی۔
یہ کیوں ضروری ہے؟ اس لیے کہ مصنوعی ذہانت بتاتی ہے کہ پاکستان اتنا قرضوں میں ڈوب چکا ہے کہ اس کے خزانے میںاب قرضوں کی قسطیں واپس کرنے اور سود دینے کے پیسے بھی نہیں ہیں۔وہ اس وقت مکمل طور پر اورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات زر پر گذارا کر رہا ہے جو پاکستانی کی برآمدات سے بھی زیادہ زر مبادلہ لاتی ہیں۔اسی پیسہ سے حکومتی ٹولہ عیاشیاں کر رہا ہے اور بیرونی دورے کرتا ہے جہاں ان کے جانے سے ایک ٹکے کا فائدہ نہیں ملتا۔ابھی کی بات ہے کہ خوشی خوشی ان دونوں مسخروں نے ٹرمپ کی سکیم پر دستخط کر دئیے اور غزہ کے فلسطینیوں کو تباہ کرنے کے معاہدے پر دستخط کئے جس کے ساتھ ایک بلین ڈالر کاتاوان بھی دینا پڑے گا۔سبحان اللہ۔ اب پاکستانی ملاّا ان کی اس اینٹی مسلمان حرکت کی نا صرف تائید کر رہے ہیں بلکہ اس کی تعریف بھی کر رہے ہیں۔ فٹے منہ ایسے ملّائوں کا۔ایک ایسے وقت میں کہ جب پاکستانی عوام مہنگائی کے ہاتھوں خود کشیاں کر رہے ہیں، بھوک اور افلاس بڑھ رہا ہے، لوگوں کو ایک وقت کی روٹی کا بھی نہیں پتہ کہ کہاں سے آئے گی، یہ قائدین مزے سے ایک بلین ڈالر غزہ کے فلسطینیوں کی بربادی کے لیے دے آئے ہیں۔لیکن پاکستانیوں کو بے خبر رکھا جاتا ہے۔وہ احتجاج بھی نہیں کرتے۔ اب8فروری کی احتجاج کی آواز پر پنجاب کے عوام تو بھنگ پی کر سوئے رہیں گے صرف ،کے پی والے اٹھیں گے جس سے حکمرانوں کی سر پر جون بھی نہیں رینگے گی۔
لیکن ایک خوش خبری ہے۔ وہ یہ کہ پاکستان میں کوئی احتجاج ہو یا نہ ہو، اگر یہ احتجاج بیرون ملک کام کرنے والے اپنے اپنے ملکوں میں کریں، تو پاکستان کی حکومت ان کی بات سننے اور ماننے پر مجبور کی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے صرف ایک چیز کی ضرورت ہے وہ ہے مکمل اتحاد۔ اپنے پیاروں کو پاکستان میں رقومات نہ بھیجنے پر اتحاد۔ مجھے یقین ہے کہ اگر اس رمضان اور عید پر وہ اپنے پیاروں کوصبر کے ساتھ رہنے کی تلقین کر دیں، اور انہیں بینکوں کے ذریعے رقم نہ بھیجیں، توحکومت انکے جائز مطالبات ماننے پر مجبور ہو جائے گی۔اس عمل سے کوئی قانون نہیں ٹوٹے گا۔ اور انہیں کوئی مجبور نہیں کر سکے گا کہ وہ ضرور ترسیلات کریں۔
اب میں آپ کی خدمت میں کچھ اعداد و شمار رکھتا ہوں تا کہ آپ کو حالات کی سنگینی کا اندازہ ہو جائے۔
مارچ 2025 کے آخر تک پاکستان کا قرضہ 76کھرب روپے تھا۔اس میں سے 5.51 کھرب ملکی ذرائع کا تھا او 4,87 بلین ڈالر بیرونی تھا۔ اگر دوسرے واجبات ملا لیے جائیں یہ 130 بلین ڈالر بن جاتا ہے۔جو ملکی قرضہ جات ہیں وہ کس کو واپس کرنے ہیں؟؛یہ پاکستانی بینکوں کو، ان کو جنہوں نے پاکستانی ہنڈیاں، بانڈز، سکوک اور ٹ بلز میں سرمایہ کاری کی۔اور تیسرے بڑے قرضے جو قومی بچت اور پینشن فنڈز کو دینے ہیں۔یہ پاکستانی ادارے اتنا زیادہ منافع دیتے ہیں کہ حکومت برداشت بھی نہیں کر سکتی۔ ایسا کیوں ہے یہ ایک لمبی کہانی ہے۔
پاکستان کے بیرونی قرض خواہ میں سب بڑے ادارے ہیں: عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، اور دوسرے عالمی ترقیاتی ادارے۔یہ ادارے اکثر کم شرح سودپر قرض دیتے ہیں۔اوررقم کی ادائیگی کے لیے بھی لمبی مدت دیتے ہیں۔
دوسرا ذریعہ غیر ممالک ہیںجن میں سر فہرست ہیں: چین، سعودی عرب، یو اے ای، قطر وغیرہ۔ان سے مختلف صورتوں میں قرض ملتا ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی منڈیوں سے بھی قرضہ لیا جاتا ہے، جیسے یورو بانڈز، اور سکوک کے ذریعے۔ اور غیر ملکی تجارتی بینکوں اور اداروں سے۔
ان حقائق سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کوان قرضوں کی واپسی اور سود کے لیے اس مالی سال میں 23بلین ڈالر کی ادائیگی کرنی ہے۔ ان میں سے ۱۱ بلین ڈالر وہ ہیں جو کثیر الجہت اور دو ملکوں کے آپس کے قرضے، تجارتی اور بونڈ کے خریداروں کے قرضے اور ان کی قسطیں دینی ہیں۔ اس کے علاوہ دوست ممالک سے لیے ہوئے قرضوں کی واپسی کی مدت بڑھوانی ہے۔جو قرضے اپنی مدت پوری کر چکے ہیں ان کو واپس کرنا ہو گا جیسے یورو بونڈ ز کی واپسی، جو میں 500 ملین اور 2026میں ایک بلین ڈالر شامل ہیں۔
2025 کے مالی سال میں پاکستان نے ۔ 1,6لین ڈالر ادا کیے تھے۔جن کی تفصیل یہ ہے: 4.23 بلین ڈالر اصل تھا، اور 1.88 ملین ڈالر سود تھا۔یہ ادائیگیاں آئی ایم ایف، سعودی عرب، اے ڈی بی، عالمی بینک، چین ، جاپان اورفرانس وغیرہ کی کی گئی تھیں۔اندرون ملک کے قرضوں کی واپسی ایک اور کہانی ہے جو سالانہ قرضوں کی واپسی کا بڑا حصہ ہے۔اور ملکی قرضوں پر سود کا تناسب اس سے کہیں زیادہ ہے جو بیرونی قرضوں پر دیا جاتا ہے۔
پاکستان کا قرضوں اور کل پیداوار کا تناسب سن 2025 میں 66-70 فیصد تھا۔یہ تناسب نا قابل برداشت ہو جاتا ہے جب ایک طرف مالیہ کم اکٹھا ہو، بہت زیادہ سود دینا پڑے اور معاشی حالت دگر گوں ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ مالی سال 2025.2026 میں پاکستان کو دس بلین ڈالر ادا کرنے ہیں۔
پاکستان اگر قرضوں کی واپسی وقت پر نہ کر سکے تو اس کو دیوالیہ ہونا کہا جاتا ہے یعنی (default)۔ یہ تب ہوتا ہے جب ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں تشویش ناک کمی ہو جائے، سیاسی معاملات نا موافق ہوں اور قرض خواہوں میں بے چینی بڑھ جائے۔دیوالیہ بیرونی قرضے ادا نہ کرنے پر ہوتا ہے۔پاکستان کو صرف قرضوں کی واپسی کے لیے سالانہ 26,23 بلین ڈالر چاہئیں۔دوسری ضروریات جیسے درآمدات اور حکومتی خراجات کے لیے علیحدہ۔پاکستان کی برآمدات اور غیر ملک پاکستانیوں کی ترسیلات کافی نہیں ہوتیں۔اور آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے کہ اس سے قرضہ تب ملے گا جب پاکستان کے پاس کم از کم دو ماہ کی درآمدات کے لیے ذر مبادلہ ہو۔
اس مصنوعی ذہانت کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان اپنے بیرونی قرضے صرف اپنی آمدنی سے نہیں اُتار سکتا۔ اسکو آئی ایم ایف، چین اور گلف کی ریاستوں کی مدد درکار ہوتی ہے۔پاکستان تیزی سے ڈیفالٹ کی طرف جا سکتا ہے اگر اور عوامل کے علاوہ بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات میں کمی واقع ہو جائے۔
پہلا سوال تو یہ ہے کہ پاکستان کیوں نہیں اتنا مالیہ اکٹھا کر سکتا کہ اسے قرضے لینے کی ضرورت ہی نہ پڑے؟ اس کا جواب ہے پاکستان کے دفتر جو مالیہ اکٹھا کرنے کے ذمہ وار ہیں ان میں شدید قسم کی کرپشن اور دوسرا بڑے اخراجات جیسے کہ سات لاکھ کی فوج کا خرچہ۔ فوج اپنا خرچہ کم کرنے پر تیار نہیں،اور دفتر مال کے کمشنر اپنی اوپر کی آمدنی۔ اس لیے مالیہ ضرورت سے کم اکٹھا ہوتا ہے۔ان کے علاوہ ہمارے حاکموں کے اللے تللے، اور عیاشیاں ، بغیر ضرورت کے غیر ملکی سفر، اور شاہی طور طریقے بجٹ کا ایک حصہ کھا جاتے ہیں۔ہمارے حاکم جانتے ہی نہیں کہ جتنی چادر ہو اتنے پیر پھیلائو۔ جب بیرون ملک دورے پر جاتے ہیں تو اپنے وزیروں، مشیروں کے لائو لشکر بھی ساتھ لے جاتے ہیں، جہاں جاتے ہیں، وہاں مہنگے ہوٹلوں میں رہتے ہیں اور کھانے پینے کے اخراجات اور بھتے علیحدہ لیتے ہیں۔ ان کا مقولہ ہے ، بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست۔
ملک کیسے چل رہا ہے، اس کے لیے کسی شاعر نے خوب کہا ہے،تھوڑی تبدیلی کے ساتھ، ؔ ہر شاخ پر خاکی بیٹھا ہے انجام گلستان کیا ہو گا ۔ ہماری مراد یہ ہر گز نہیں کہ خاکی کوئی برا کام کرتے ہیں، ہماری مراد یہ ہے کہ پاکستان کی سول سروس میں نہایت قابل افسر بھرتی کیے جاتے ہیں اور ان کی تربیت کی جاتی ہے کہ وہ ملک کا نظم و نسق سنبھالیں۔ خاکی وردی والوں کو ان کی جگہ پر لگا دیا جاتا ہے۔تو یہ وسائل کا ضیاع نہیں تو کیا ہے؟

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button