بین الاقوامی

حماس کی ہتھیار ڈالنے کیلیے’غیرمتوقع‘شرط؛ امریکا اور اسرائیل سر جوڑ کر بیٹھ گئے

حماس نے جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے میں غیرمسلح ہونے کے لیے ثالثوں کے سامنے نئی شرط رکھ دی۔عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس نے غزہ حکومت کے اپنے سرکاری ملازمین کو ایک خط بھیجا ہے۔یہ خط رائٹرز نے دیکھا اور پڑھا ہے۔ جس میں 40 ہزار سے زائد سرکاری ملازمین اور سیکیورٹی اہلکاروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ NCAG کے ساتھ تعاون کریں۔حماس نے خط میں ملازمین کو یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ ان تمام اہلکاروں کو ٹرمپ منصوبے کے تحت بنائے گئے نئے انتظامی ڈھانچے میں شامل کروانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ان ملازمین میں حماس کی تقریباً 10 ہزار اہلکاروں پر مشتمل پولیس فورس بھی شامل ہے جو جنگ بندی کے بعد سے ان علاقوں میں گشت کر رہی ہے جہاں حماس نے دوبارہ اپنا اثر و رسوخ قائم کیا ہے۔خیال رہے کہ ان پولیس اہلکاروں کی غزہ کی نئی انتظامیہ میں شمولیت کا یہ مطالبہ اس سے پہلے کبھی حماس کی جانب سے سامنے نہیں آیا ہے۔رائٹرز نے اس معاملے پر اسرائیل کا مؤقف لینے کے لیے وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر سے رابطہ کیا لیکن فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔چنانچہ ابھی یہ واضح نہیں کہ اسرائیل غزہ کے اِن سویلین اور سیکیورٹی اہلکاروں کی NCAG میں شمولیت کو قبول کرے گا یا نہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button