غزہ پر بنی تین فلمیں آسکر ایوارڈز کے لیے نامزد ہوگئیں

آسکر نامزدگی کیلیے غزہ سے متعلق تین مختصر دورانیے کی فلموں کو منتخب کرلیا گیااکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز کی جانب سے 98ویں آسکر ایوارڈز کے لیے نامزدگیوں کا اعلان کر دیا گیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان نامزدگیوں میں تین ایسی فلموں کو بھی جگہ ملی ہے جن کا موضوع غزہ کی جنگ تھا اور ان میں دو اسرائیلی اور ایک تیونسی فلم شامل ہے۔آسکر نامزدگی حاصل کرنے والی تیونس کی فلم The Voice of Hind Rajab ہے جسے بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کے لیے نامزد کیا گیا۔ہدایتکارہ کوثر بن ہنیہ کی یہ ڈاکومنٹری ڈراما فلم پانچ سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کی کہانی بیان کرتی ہے جو مبینہ طور پر گزشتہ سال اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں غزہ میں شہید ہوئی تھی۔فلم میں فلسطینی ہلالِ احمر کے عملے کی کوششوں کو ڈرامائی انداز میں پیش کیا گیا جس میں بچی کی حقیقی فون کال کی آڈیو بھی شامل ہے جس میں وہ اپنے جاں بحق اہلِ خانہ کے درمیان مدد کی اپیل کرتی سنائی دیتی ہے۔فلسطینی ہلالِ احمر نے الزام لگایا تھا کہ اس امدادی ایمبولینس کو اسرائیلی افواج نے نشانہ بنایا تھا۔اس فلم کو ایوارڈز سیزن کے دوران فلسطین نواز فلم ساز برادری کی بھرپور حمایت حاصل رہی جبکہ معروف برطانوی یہودی فلم ساز جوناتھن گلیزر بھی اس کے شریک پروڈیوسرز میں شامل ہیں۔اسی موضوع پر اسرائیل میں بنائی گئی مختصر دورانیے کی فلم “Butcher’s Stain” کو بہترین لائیو ایکشن شارٹ فلم کے زمرے میں نامزد کیا گیا۔یہ فلم تل ابیب یونیورسٹی کے فلم اسکول سے وابستہ میئر لیونسن بلاؤنٹ نے بنائی، جس کی کہانی تل ابیب میں مقیم ایک عرب قصاب سمیر کے گرد گھومتی ہے۔



