لوٹ مار کا نیا وار !

زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد !
یہ کہاوت ان پہ صادق آتی ہے جو ایک جگہ جمے رہتے ہیں اور ان کے رویہ میں وقت کے ساتھ کوئی تبدیلی نہیں آتی!اور پاکستان کے عسکری طالع آزماؤں پہ یہ مثل سو فیصد کھری اُترتی ہے۔ پاکستان کی ریاست اور سیاست پہ 75 برس پہلے قابض ہونے کے بعد سے ان کا طور طریقہ رتی برابر بھی نہیں بدلا۔ ان جرنیلوں کا جو خود کو پاکستان کا پیدائشی وارث سمجھتے ہیں طور طریقہ دو ستونوں پہ کھڑا ہے۔ پہلا ستون ان کی سامراج کی غلامی ہے اور دوسرا اپنے مقبوضہ پاکستان کے باسیوں کے ساتھ وہ رویہ، وہ سلوک جو ان کے پرانے آقا فرنگیوں کا اپنے مقبوضہ ہندوستان کے شہریوں کے ساتھ تھا یعنی ظلم و جبر کا وہ استحصالی نظام جس کے تحت غلاموں کو نہ فریاد کی اجازت تھی نہ احتجاج کی! فرنگی سامراج نے تو پھر بھی بیسویں صدی میں ہندو مسلم آزادی کی تحریک کے جنم لینے کے بعد اپنے رویہ میں خاطرخواہ تبدیلی یوں کرلی تھی کہ اسے احساس تھا کہ عوام جب ایک بار طاغوت سے ٹکر لینے کا عزم کرلیں تو پھر ان کی آواز اور ان کے احتجاج کو دبانا یاروکنا کارِ لاحاصل ہوتا ہے اور یہی رویہ تھا، اور اس کا پیداکردہ سیاسی اور ریاستی نظام جس میں ہندو اور مسلم دونون فرقوں نے اپنی آزادی کی تحریک چلائی اور آخر کار وہ فرنگی سامراج کی غلامی کا طوق اپنے سروں سے اتار پھینکنے کے قابل ہوئے اور آزادی کی نعمت سے بہرہ مند ہوئے! لیکن ہمارے یزیدی عسکری طالع آزماء اس ضمن میں اپنے فرنگی آقاؤں کو بہت پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ انگریز نے کبھی کسی بڑے اور ممتاز ہندوستانی سیاسی رہنما کے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا تھا جو ہمارے بونا پارٹس کااپنے سیاسی معترضین ، ناقدین اور مخالفین کے ساتھ عام رویہ رہا ہے۔ پہلے اپنے قارئین کی دلچسپی کیلئے میں یہاں یہ وضاحت کرتا چلوں کہ میں ان عسکری طالع آزماؤں کو بونا پارٹ کیوں کہتا ہوں!
نپولین بونا پارٹ اٹھارویں صدی کےانقلابِ فرانس کی پیداوار تھا۔ وہ ایک معمولی بلکہ چھوٹے طبقہ کا ایک فرد تھا جو اصل فرانس کی سرزمین میں پیدا بھی نہیں ہوا تھا بلکہ فرانس کا بحیرہءروم میں جو ایک جزیرہ ہے، کورسیکا نام کا، اس پر پیدا ہوا تھا۔ انقلابِ فرانس کے بعد وہ فرانس کی فوج میں ایک معمولی کارپورال یا سارجنٹ تھا لیکن آدمی ذہین بلکہ چالاک اور مکار تھا اور اپنی اسی صفت کے بل بوتے پر وہ فوج میں تیزی سے ترقی کرتے کرتے ایک دن جرنیل ہوگیا اور پھر انقلابِ فرانس کے بعد ہونے والے سیاسی خلفشار اور سیاسی رہنماؤں کی آپس میں رقابتوں اور رنجشوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ فرانس پر قابض ہوگیا اور قابض بھی ایسا ہوا کہ اس نے خود کو فرانس کا شہنشاہ نامزد کرلیا اور ملک و قوم کے سیاہ و سفید کا مالک و مختار بن بیٹھا! بونا پارٹ کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ وہ ایک کم نسب اور کم ظرف انسان تھا جو اپنی چالاکی اور مکاری سے اس منصب کا اہل قرار پایا جو اس کا نہیں تھا لیکن اس نے جبر اور ظلم سےاسےحاصل کیا تھا۔ من و عن یہی احوال ایوب خان سے لیکر عاصم منیر تک ہر پاکستانی عسکری طالع آزما کا رہا ہے۔لیکن ہمارے یہ بونا پارٹ نپولین اور اپنےفرنگی آقاؤں کو میلوں پیچھے چھوڑچکے ہیں اپنے ظلم و جور کے طور طریقوں سے۔فرنگی سامراج نے کبھی کسی ممتاز سیاسی رہنما کو پھانسی کے تختہ تک نہیں پہنچایا تھا لیکن ہمارے طالع آزماؤں نے پاکستانی رعیت کے دلوں میں اپنا خوف پیدا کرنےکیلئے ذوالفقار علی بھٹو کو اپنے تابع فرمان عدالتِ عالیہ کی رضا سے پھانسی کے گھاٹ اتارا اور اپنےاس کارنامے پر فخر کیا!
فرنگی سامراج نے جھوٹے اور فرضی مقدمات کے ذریعہ آزادی کیلئے لڑتنے والے رہنماؤں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند نہیں کیا۔ اس نے سیاسی بنیادوں پر سیاسی رہنماؤں کے خلاف مقدمات بنائے لیکن پھر ان سیاسی اسیروں کے منصب اور مقام کے مطابق انہیں جیلوں میں رکھا۔لیکن کم نسب عاصم منیر اپنی کم ظرفی میں اپنے سے پہلے آنے والے ہر عسکری طالع آزما کو بہت پیچھے چھوڑ چکا ہے !اس لعین کے سینے میں عمران کا بغض ایسا بھرا ہوا ہے کہ یہ وہ حرکتیں کر رہا ہے جو اس نام نہاد حافظ، قرآن کو زیب نہیں دیتیں۔عمران کو اس کم ظرف، خود ساختہ فیلڈ مارشل نے اگست 2023ء سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند کیا ہوا ہے بیہودہ، غیر اخلاقی، من گھڑت اور فرضی مقدمات میں لیکن لعنت ہے ان عدالتوں پر جن میں اس کے گماشتے منصفوں کا چولا پہنے بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ عدل سے عاری جج اور یہ نام نہاد حافظِ قرآن شاید یہ بھول بیٹھے ہیں کہ کائنات کا پیدا کرنے والا اپنی کتابِ مبین میں ان دشمنِ انصاف عادلوں کو کتنی صفائی اور صراحت سے یہ بتارہا ہے کہ ان کا ٹھکانہ نارِ جہنم ہوگا۔ لیکن یہ عقل کے اندھے شاید اس غلط فہمی کےشکار ہیں کہ نہ انہیں مرنا ہے نہ انھیں اس منصفِ ازل کی عدالت میں اپنا حساب دینا ہے جہاں کسی فیلڈ مارشل کو ، نہ زرداری جیسے ڈکیت کو، کوئی استثنیٰ حاصل ہوگا۔ عمران کے خلاف یہ کم ظرف اور چھچھورا عاصم منیر جو نیچ اور تہذیب سے گری ہوئی حرکتیںکر رہا ہے وہ تو الگ رہیں لیکن عمران کی بہنوں کے خلاف اڈیالہ جیل کے باہر جو سلوک اس یزید کے حکم پر روا رکھاجارہا ہے اسے دیکھتے ہوئے تو یہ باور کرنا پڑتا ہے کہ یہ یزید اور اس کے حواری اور حلقہ بگوش جدید تہذیب یافتہ دنیا کے انسان نہیں بلکہ تاتاریوں کی نسل سے ہیں جنہیں تہذیب اور اخلاق سے دور دور کوئی سروکار نہیں تھا!
عمران کی بہنیں عدالتی حکم کے مطابق اپنے بھائی سے ملاقات کرنے کیلئے اڈیالہ جیل جاتی ہیں لیکن اس یزید کا جو ایک کرنل گماشتہ وہاں بیٹھا ہوا ہےوہ عدالت کے حکم کو نخوت سے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتا ہے اور بہنوں کو نہ صرف اپنے بھائی سے ملنے نہیں دیتا بلکہ ان پر سردی کےموسم میں کیمیکل کی آمیزش والے یخ ٹھنڈے پانی کی توپیں داغ دیتا ہے اور وہ صابر اور پر عزم بھائی کی بہنیں اس ظلم کو بھی کمال متانت سے جھیل لیتی ہیں!آفرین ہے علیمہ خان اور عمران کی دو اور بہنوں کو جنہوں نے تہذیب اور اخلاق سے عاری درندوں کے وحشیانہ سلوک کے مقابلہ میں ہتھیار ڈالنے کے اپنے عزم و استقلال کا مسلسل مظاہرہ کیا ہے !لین اللہ کی لعنت ہو اس بزدل یزید عاصم منیر پر جو اپنے آپ کو زمین پر خدا سمجھ بیٹھا ہے اور وہ حرکتیں کر رہا ہے جو آجتک کسی طالع آزما سے سرزد نہیں ہوئی تھیں۔ دیکھئے ہمارے یہ چار مصرعے:
ایسا کم ظرف کبھی قوم کو پہلے نہ ملا
آتش میں انتقام کی جلتا ہے جو لعین
خاکِ پا عمران کی اس سے کہیں افضل ہے، یوں
وہ ہے اعلیٰ ظرف اور یہ چھٹ بھیا اسفل سافلین
وہ جو ہم نے آغاز میں کہا تھا کہ یہ نظام طالع آزماؤں کی سماراجی غلامی ان کا دین اور دھرم ہے تو وہ مبالغہ نہیں بلکہ حقیقتِ احوال ہے۔
عاصم منیر کو یہ زعم ہے کہ اس کم ظرف کے سر پر سامراجی گرو گھنٹال ٹرمپ کا دستِ شفقت سایہ کئے ہوئے ہے اور جب تک اِسے ٹرمپ کی آشیرواد میسر ہے وہ اپنے مقبوضہ پاکستان اور اس کے مظلوم اور بے حس باسیوں کے ساتھ جو کرنا چاہے کرسکتا ہے اس کو نہ کوئی روک سکتا ہے نہ ٹوک سکتا ہے۔لہٰذا یہ چھٹ بھیا، جس کی کوئی اوقات نہیں، جس کے حسب نسب کا کوئی اتا پتہ نہیں ، کسی کو نہیں معلوم کہ یہ کس کھیت کی پیداوار ہے، ہر وہ کام کر رہا ہے جس کی کسی کم ظرف سے توقع کی جاسکتی ہے۔ سو اس نے اور اس کے اتنے ہی چھٹ بھئیے سیاسی گماشتوں نے پاکستان میں ظلم و جبر اور جور کا وہ بازار گرم کیا ہوا ہے جس کی اس سے پہلے پاکستان کی داغدار تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔پنجاب اس سیاہ کار یزید نے اپنے حلیف، سیاست کے نام پر رسوائی کا داغ، بدنامِ زمانہ شریف خاندان کو سونپا ہوا ہے اور پنجاب کی بدنصیبی سے ان دنوں اس پر حکومت کر رہی ہے نواز شریف کی رسوائے زمانہ بیٹی مریم جسے خود نمائی کاوہ عارضہ لاحق ہے کہ وہ سڑکوں اور پلوں سے لیکر بیت الخلاء تک پر اپنی تصویر چسپاں کروارہی ہے اور پنجاب پولیس اس کی سربراہی میں ظلم کا وہ بازار گرم کئے ہوئے ہے جس سے تاتاری اور منگول بھی منہ چھپائیں!اس کم ظرف مریم نواز نے لاہور میں خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ، سہیل آفریدی کے ساتھ جس کمینگی کا سلوک کیا اور جس طرح اپنے ہم منصب کے راستےمیں روڑے اٹکائے اس کے بعد کوئی شک و شبہ ہی نہیں رہ جاتا کہ نام نہاد شریف خاندان کی اصلیت کیا ہے۔ لوہار کی اولاد اگر محل میں رہنے لگے تو وہ بادشاہ نہیں ہوجاتی۔ کم اصل اور کم نسب اپنی اوقات دکھا ہی دیتا ہے، جیسے مریم نوازدکھاتی رہتی ہے یا جس کا مظاہرہ اس کا والی اور سرپرست یزید عاصم منیر اپنے مقبوضہ پاکستان کے ساتھ اور عمران خان کے ساتھ کر رہا ہے۔نیچ ہمیشہ نیچ ہی رہتا ہے چاہے وہ کوئی روپ دھار لے، کسی بھی منصب پر فائز ہوجائے۔ کمینہ کمینہ ہی رہتا ہے وہ اصیل ہونے سے رہا!اور جہاں سامراج کی غلامی میں ہمارے طالع آزماؤں نے اپنی اوقات بار بار دکھائی ہے وہیں اپنے ملک و قوم کو لوٹنے اور کنگال کرنے میں ہمارے جرنیلوں کو یدِ طولیٰ میسر ہے!قومی اثاثے یہ چھٹ بھئیے ایک عرصہ سے اپنے مربیوں اور آقاؤں کو نیلام کرتے آئے ہیں۔اسلام آباد کا بے نظیر ہوائی اڈہ متحدہ عرب امارات کو بیچ دیا، کراچی کی بندرگاہ کا آدھا حصہ بھی انہیں اماراتی مہاجنوں کو فروخت کردیا۔
اماراتی مہاجن، جو صیہونی ایجنٹ ہیں، اپنے پاکستانی غلاموں کو خوب پہچانتے ہیں سو ان کے ساتھ سلوک بھی غلاموں کے جیسا ہی کرتے ہیں۔ ان دنوں امارات کا سربراہ، جو عرب ممالک میں صیہونی اور امریکی مفادات کا سب سے بڑا گماشتہ ہے، شکار کھیلنے کیلئے اپنی چراگاہ، پاکستان آیا ہوا ہے۔ ہمارا کٹھ پتلی وزیر اعظم، شہباز شریف اس کا غلام ہے اور اپنے بوٹ پالشیا ہونے کی شہرت یا رسوائی بھی اس کے ساتھ چپکی ہوئی ہے۔ لہٰذا اسی بوٹ پالشیا ہونے کی حیثیت میں اس نے اپنے اماراتی آقا کی بہت منت سماجت کی، اس کے ہاتھ پیر جوڑے، اس کے جوتے چمکائے کہ وہ اسلام آباد بھی آجائے تاکہ بوٹ پالشیا فخر سے کہہ سکے کہ اس نے اپنے آقا کو دارالحکومت میں خوش آمدید کہا تھا!سو اماراتی فرعون بادلِ ناخواستہ اپنے غلام کی فریاد پر اسلام آباد آتو گیا لیکن دو گھنٹے نور خان ایر بیس پر ہی رہا، وہاں سے نہیں نکلا اور اس کا غلام وہیں اس کے جوتے چمکانے کیلئے حاضر ہوگیا۔یہ ہے اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت کی زبوں حالی جسے اس پر قابض عسکری یزیدیوں نے جگ ہنسائی کا عنوان بنا ڈالا ہے۔لیکن طالع آزما اپنے ابلیسی کاروبار سے باز نہیں آتے۔ایک عرصہ سے دھنڈورا پیٹا جارہا تھا کہ قومی ایر لائنز پی آئی اے، جو کسی دور میں پاکستان کا فخر ہوا کرتی تھی لیکن طالع آزماؤں نے اسے مردِ بیمار بنادیا تھا، کی نیلامی کی جائیگی!پاکستان کے حالات پر گہری نظر رکھنے والا ہر مبصر جانتا تھا کہ پی آئی اے پر کن کی نظریں تھیں؟وہی طالع آزما جو پاکستانی فوج کو دنیا میں واحد تجارتی ادارہ بنانے کے ذمہ دار ہیں (بھلا دنیا کی اور کونسی فوج ہے جو تیس سے زائد مختلف صنعتی اور پیداواری ادارے چلاتی ہے اور کل ملاکے 84 صنعتی، کاروباری اور تجارتی ادارے ہمارے عسکری یزیدوں کی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں، آج سے نہیں برسہابرس سے یہ کاروبار کامیابی سے جاری ہے۔ ملک کی سب سے بڑی ٹرانس پورٹ بزنس نیشنل لوجسٹکس سیل کے نام سے کراچی سے خیبر تک اپنے ٹرک دندناتی پھرتی ہے اور فوج کا ایک بنک بھی ہے عسکری بنک نام کا۔ کونسا کام ہے جو ہمارے عسکری یزید نہیں کرتے سوائے اپنے بنیادی فرض کے، یعنی ملک کی سرحدوں کی حفاظت جسے انہوں نے دہشت گردوں کے حوالے کردیا ہے ۔
سو ہر مبصر جانتا تھا کہ پی آئی اے آخر کو عسکری تحویل میں ہی جائیگی!لیکن اس مقصد کیلئے باقائدہ ڈرامہ رچایا گیا۔پہلے پہل پی آئی اے کی بولی لگانے والوں میں فوجی فرٹیلائزر کا نام بھی پیش پیش تھا۔ پھر عارف حبیب نام کے ایک عسکری دلال کو آگے لایا گیا اور عارف حبیب جیسے دلال نے، جس کا کوئی تعلق حبیب بنک کے نامور خاندان سے نہیں ہے لیکن عوام کو یہی سبز باغ دکھایا گیا کہ پاکستان کے ایک نامور کاروباری خاندان نے پی آئی اے کو 135 ارب روپنے میں خرید لیا ہے۔ جو ایک اور بڑا فراڈ تھا اسلئے کہ حکومت کے خزانے میں تو صرف دس ارب روپے آئینگے بقیہ 125 ارب روپے ، کہا یہ جارہا ہے اور عوام کو باور کروایا جارہا ہے کہ یہ رقم نئے مالکان پی آئی اے میں ہی لگادینگے۔ اللہ جانے !لیکن دوسرے ہی دن ڈھول کا پول کھل گیا جب یہ اعلان ہوا کہ عارف حبیب گروپ نے ایک کنسورشیم بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں فوجی فرٹیلائزر بھی شریک ہوگا!تو قوم سے جو چھپانے کی کوشش کی جارہی تھی اس سے پردہ اٹھ گیا۔ قوم جان گئی کہ پی آئی اے بھی بونا پارٹس کی ہوس کی بھینٹ چڑھ گئی جیسے پورا ملک ان کی جاگیر اور جائیداد ہے!
کس بلا کے اسیر ہیں جرنیل
منصب و اقتدار اور دولت
اصل میں تو فقیر ہیں جرنیل !
آپ سب کو آنے والا نیا سال، 2026 ء بہت بہت مبارک ہو۔
جرنیلوں کی ہوس کے شکار پاکستان کیلئے بھی ہم یہی دعا کرتے ہیں لیکن آثار اچھے نہیں ہیں۔ یہ ابلیسی جرنیل وہ جونکیں ہیں جو پاکستان کا لہو پی رہی ہیں !



