ہفتہ وار کالمز

فیلڈ مارشل بننے کے باوجود جنرل عاصم منیر اپنے ہی لوگوں سے اس قدر خوفزدہ کیوں ہے!

پاکستان کے عوام اب اس بات کے عادی ہو چکے ہیں کہ اڈیالہ جیل کے باہر کیا یہی ہوگا کہ ہر منگل کو جنرل عاصم منیر کے حکم پر اڈیالہ جیل کے باہرسردی کےموسم میں کیمیکل کی آمیزش والے یخ ٹھنڈے پانی کی توپیں خواتین پرداغیں جائیں گی،اور اب تو ہر منگل والے دن بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں کے باہر بھی ایک احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا دیا جانے لگا ہے سوائے ہیوسٹن کے مگر یہاں پر امریکہ میں ان مظاہرین کے اوپر نہ آنسو گیس استعمال کی جاتی ہے اور نہ ہی واٹر کیننن سے سرد راتوں میں ان پر پریشر کے ساتھ زہریلا پانی پھینکا جاتا ہے اور نہ ہی مظاہرین پر لاٹھیاں برسا کر، اور ستر سے زائد عمر رسیدہ خواتین کو ویگو ڈالوں میں ڈال کر دور ویرانوں میں خون منجمد کر دینے والی سردی میں لے جا کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اور پھر نہ ہی ان مظاہروں میں شرکت کرنے والے رہنمائوں پر آئی ایس آئی والے اُجرتی قاتلوں سے قاتلانہ حملے کراتے ہیں۔ فیلڈ مارشل بننے کے باوجود جنرل عاصم منیر اپنے ہی لوگوں سے اس قدر خوفزدہ ہے کہ ستر، ستر سالہ عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان سے اپنے بھائی کی ملاقات کرانے سے خوفزدہ ہے کہ کہیں پھر ذہنی مریض کے خطاب کی طرح عمران خان عاصم منیر کو ایک نئے ٹائٹل سے نہ نواز دے لیکن وہ کیا کہتے ہیں کہ بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منائے گی، ابھی نہیں تو مستقبل قریب میں شواہد بتارہے ہیں کہ حافظ صاحب کا حشر جنرل ضیاء الحق جیسا ہی ہو گا جس کی واحد نشانی جبڑے کو زمین میں گاڑ کر قبر بنا دی گئی، ہاں البتہ اسلام آباد میں ایک بس سٹاپ ہے جہاں چوبیس گھنٹے بس کنڈکٹرز آوازیں لگاتے رہتے ہیں، جبڑہ چوک، جبڑہ چوک۔ یہ ہے کل اوقات اس جنرل ضیاء الحق کی جس نے عاصم منیر کی طرح سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اسے اللہ کی طرف سے پاکستانی قوم کی رہبری کیلئے بھیجا گیا ہے اور اس شخص کی فوج پاکستان کی نہیں بلکہ اللہ کی فوج ہے۔ اللہ کی فوج کیا کررہی ہے وہ ہم سب کے سامنے ہے، ایک حافظ قرآن ہوتے ہوئے عاصم منیر جس طرح سے قرآنی اور اسلامی شعائر پر کھلی منافقت کے ساتھ مذاق اڑارہے ہیں وہ اس بات کی وجہ بیان کرتا ہے کہ کیونکرقرآن مجید میں سب سے زیادہ مرتبہ منافقت اور منافقوں کا ذکر آیا ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نہیں نہیں ایک حافظ قرآن کا اس طرح سے ذکر نہیں کرنا چاہیے، اس کی مذمت اور ملامت نہیں کرنا چاہیے تو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ معرکۂ کربلا میں امام حسین ؑ کی 72جانثاروں کے مقابلے میں یزیدِ ملعون ابن معاویہ کی فوج میں سینکڑوں علماء، مشائخ، امام، موذن اور حافظ قرآن موجود تھے جو ایک طرح سے اسلام کے مقابلے میں منکرِ اسلام کا ساتھ دے رہے تھے اور امام مظلوم کے خانوادے پر ظلم ڈھا رہے تھے تو اس لاجک کے حساب سے تو ہمیں یزید ابن معاویہ اور اس کی فوج پر بالکل تنقید نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یزید بھی اپنے آپ کو اسلامی خلیفہ اور فوج کو اللہ کی فوج کہتا تھا، بس اس نئے سال 2026 کی آمد پر ہماری تو بس یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ڈکٹیٹر کو واصل جہنم کرے اور پاکستان کے کروڑوں عوام کا مقبول ترین لیڈر اڈیالہ سے رہا ہو اور پاکستانی عوام کیلئے بھی یہ پیغامِ ربانی دینا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قوم کی ٰحالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود سے کوشش نہ کرے۔ ساتھ ہی ہماری یہ بھی دعا ہے کہ اس ذہنی مریض فیلڈ مارشل کی غلط کاریوں کی وجہ سے ہماری پیاری فوج اور اس کے جوانوں کا مزید مورال ڈائون نہ ہو، یہ ہمارے فوجی جوان ہی ہیں جو پاکستان کی سلامتی کی ضامن ہیں، ہمارے تمام فوجی جنرلوں، جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق، جنرل پرویز مشرف اور جنرل عاصم منیر نے پاکستان کیلئے سوائے تباہی کے کچھ نہیں کیا۔ ہم اپنے ان فوجی جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ نیا سال ہمارے بہادر فوجی جوانوں کیلئے اس مینٹلی ریٹائر جنرل سے نجات کا سال ثابت ہو۔ آمین، ثمہ آمین۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button