ہفتہ وار کالمز

سمجھ میں کیوں نہیں آتا؟

اپوزیشن اتحاد اس بات پر متفق ہے کہ موجودہ سیاسی نظام بتدریج آمرانہ طرز ِ حکمرانی کی شکل میں ڈھلتا چلا جارہا ہے جو جمہوری خواہشات کو کچل کر بزور ِ شمشیر اپنی بات منوانے کے درپے ہے جمہوریت پہ آمرانہ وار سے تحریک ِ انصاف و دیگر جماعتیں مذاکراتی عمل پرمتفقہ لائحہ عمل دینے سے گریزاں نظر آتیں ہیں کچھ مذاکرات کرنے میں تو کچھ منظم احتجاج کرنے پر مُصر ہیں اپوزیشن جماعتوں کی اس تقسیم پر حکومت انتظار میں ہے کہ کب یہ تعمیری یا تخریبی کاروائیوں کے لئے خلاف ِ قانون عمل پیرا ہوتے ہیں جمہوریت کے تقاضوں میں مذاکرات ایک بنیادی حیثت کے حامل ہوتے ہیں شرط یہ ہے کہ سیاسی قائدین اپنی انا اور خواہشات کو جمہوری روایات کے حوالے کریں احتجاجی عمل تو میں نہ مانوں والی پالیسی کے لاگو ہونے پر شروع ہوتا ہے راوی اس بات پر تذبذب کا شکار ہے کہ اپوزیشن کی سمجھ میں کیوں نہیں آتا کہ مذاکراتی عمل احتجاجی سیاست سے بہت بہتر ہے سیاسی ایمان کی اس کمزوری کے سبب ہی جمہوریت ابھی تک مقتدر طاقتوں کی نرسری میں درخت بننے کی اہلیت سے محروم ہے یہی بنیادی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جب بھی جمہوری ہوائیں آمریت کی گھٹن کو دور کرنے کے لئے چلیں تو ان کے چلن کو روکنا لازمی تصور کر لیا جاتا ہے اسی وجہ سےہم جمہوری موسموں میں بیمار ہو جاتے ہیں اور الزام دوسروں کے سر ڈال کر مفادات کے بستر پر دراز ہو جاتے ہیں تحریک انصاف نے جن سیاسی شخصیات کو مذاکرات کا حق دیا ہے اُن میں اچکزئی صاحب نے حکومت کو بیروکریسی کو مقتدر حلقوں کو یعنی سب کو چور کہہ کر مذاکرات سے دامن کھینچ لیا ہے اب اچکزئی صاحب کے مذاکرات میں اللہ کے ولی تو آنے سے رہے ۔ ذہین فطین آدمی ہیں اچکزئی صاحب سیاست کے نشیب و فراز سے آشنا ہیںیاد پڑتا ہے کسی زمانے میں مسلم لیگ ن کے ہم نوالہ وہم پیالہ رہے ہیں اور آج سارے ملک کو بدعنوان کہہ کر مذاکرات سے منہ موڑ رہے ہیں۔ایمانداری میں جاپان کا نمبر پہلا ہے جب کہ پاکستان کا ایمانداری میں نمبر 141واں ہےہنسی آتی جب کوئی ہم میں سے انھیں کہتا ہے کہ جاپان والو اپنا مذہب چھوڑو آپ ہماری طرح ہو جائو پس پردہ کوئی ہے جو انھیں مذاکرات سے دور کر کے احتجاجی سیاست میں دھکیلنا چاہتا ہے اچکزئی صاحب کو یہ بھی معلوم ہے کہ وہ اس وقت پارٹی کے کندھوں پر بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے درپیش مسائل کا حل ڈھونڈنے آئے ہیں اُس پر بھی تو چوری ،بغاوت کے الزامات لگے ہیں جن پر سزا نہیں سزائیں عدالت نے دیں ہیں ان حالات کو دیکھتے ہوئے سابق پی ٹی رہنمائوں نے وزیر اعظم پاکستان کو خط لکھا ہے جس میں شاہ محمود قریشی ،ڈاکٹر یاسمین راشد،سابق سینیٹر اعجاز چوہدری ،میاں محمود الرشید،اور عمر سرفراز چیمہ کو پیرول پر رہا کرنے پر زور دیا ہے اسے سیاسی مفاہمت کی جانب بڑھتا قدم کہنا بیجا نہ ہو گا جب کہ تحریک ِ انصاف کے موجودہ قائدین کرام آپس میں کسی ایک رائے پر متفق ہونے سے قاصر دکھائی دے رہے ہیںحکومت مذاکرات کا عندیہ دے کر دروازے کھولے بیٹھی ہے وہ کسی بھی بحران سے نمٹنے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر پیش رفت کرنے کا ارادہ لئے ہوئے ہے اس پیش کش کے باوجود نہ جانے کیوں تحریک انصاف کا ایک گروہ مذاکرات سے منہ موڑتے ہوئے محاذ آرائی کو ترجیح دے رہا ہے تو دوسرا گروہ جو اہل ِ بصارت پر مشتمل ہے وہ مذاکرات کو مسائل کا حل سمجھتے ہوئے بات چیت کا ایجنڈا لئے بانی کی رضا مندی کا منتظر ہے اس دران بیشعوری کا یہ عالم ہے کہ قوم اپنے محسنوں اور مجرموں کی پہچان کھو چکی ہے ایسی ہڑبونگ میں لگتا نہیں کہ ہم ایک قوم ہیںسیاست میں نظریاتی اختلاف اپنی جگہ مگر ایک دین ِ اسلام جو نبی کریم کی حیات ِ مبارک میں ہی تکمیل کی منزل پا گیا اس کے بعد مسلمانوں کا فرقوں میں بٹ جانا،اور اپنے بنائے فرقے پر ڈٹے رہنا مجھے دین میں اضافی ترمیم لگتی ہے جس کی اجازت نہیں ہے مگر نہ جانے ان کی سمجھ میں کیوں نہیں آتا کہ اسلام ایک مکمل دین ہے جس میں کمی بیشی کی کوئی گنجائش نہیں ہے حیرت ہوتی ہے جب پولیو ویکسین لگانے والوں پر مقامی انتہا پسند ذہن کے لوگ انھیں گولیوں کا نشانہ بنا ڈالتے ہیں معاشرے میں پھیلی یہ بےشعوری ،یہ جہالت 1500سال قبل والی جہالت سے کم نہیں وہ لڑکیوں کو زندہ زمین میں گاڑتے دیتےتھے اور اب معصوم بچوں کو اس خواندہ دور میں معذور کیا جا رہا ہے سیاست سے لیکر معاشرتی رسم و رواج تک سب ہمارے لئے وبال ِ جان بنے ہوئے ہیں کسی کی سمجھ میں کیوں نہیں آتا کہ وہ ان کی تصیح کی جانب کوئی قدم اٹھائے بیشعوری اور مذہبی فرقہ پرستی نے ہمیں جہالت کی دلدل میں گرایا ہوا ہے وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ بدقسمت ہے وہ قوم جو اپنے محسنوں اور مجرموں میں فرق کرنا نہیں جانتی ہماری ایسی کئی غلطیوں کا کفارہ موجودہ نسل ادا کر رہی ہے اور آئندہ آنے والی نسلیں بھی کریں گی اگر بہتر رستے کا تعین نہ کیا گیا تو ۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button