
سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے مطالبہ کیا ہے کہ کسی خاص شخص کو تحفظ دینے کے بجائے ایپسٹن فائلز کے باقی ماندہ تمام ریکارڈ فوری طور پر جاری کی جائیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بل کلنٹن نے ٹرمپ کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ جس انداز میں دستاویزات جاری کی جارہی ہیں اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ کسی خاص شخص کو تحفظ دیا جا رہا ہے۔یہ بیان بل کلنٹن کے ترجمان اینجل اورینا نے میڈیا پر جاری کیا ہے۔ جس میں مزید کہا گیا ہے کہ ایپسٹن فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ کے تحت یہ قانونی ذمہ داری ہے کہ مکمل اور غیر سنسر شدہ ریکارڈ عوام کے سامنے لائے جائیں۔انھوں نے مزید کہا کہ اب تک جو دستاویزات جاری کی گئی ہیں اور جس طریقے سے کی گئی ہیں اس سے شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔خیال رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب محکمہ انصاف نے حال ہی میں ایپسٹن کیس سے متعلق ہزاروں دستاویزات اور تصاویر جاری کیں۔جاری کی گئی تصاویر میں بل کلنٹن کی جیفری ایپسٹن کے نجی طیارے میں موجودگی اور چند نجی لمحات کی تصاویر شامل ہیں تاہم ان تصاویر میں موجود خواتین کے چہرے چھپا دیے گئے ہیں۔چند دیگر تصاویر میں بل کلنٹن کو ایپسٹن اور معروف گلوکار مک جیگر کے ساتھ عشائیے پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔



