نئے چہروں کی پہلی فلم کورونا کی نذر

66

2020ء کے لئے چالیس سے زائد فلمیں کسی نہ کسی سطح پر بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی تاکہ ری وائیوال ہوتی ہوئی فلم انڈسٹری کو استحکام دیا جاسکے مگر عالمی وبا کورونا کی اچانک ماہ مارچ میں آمد سے ناصرف ملک کے ہر شعبے کے حالات خراب ہوئے اور معاشی طور پر ہم مشکلات کی زد میں آگئے۔

اب کچھ بہتری کے آثار ہونے لگے تھے کہ کورونا کی دوسری لہر نے دنیا بھر میں ایک بار پھر مسائل کھڑے کر دیئے ہیں۔ ایسے میں زیر تکمیل فلموں کی رپورٹ پر اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ جو ہلچل تھی اور جتنی تیزی شو ہو رہی تھی وہ اب جھاگ کی طرح بیٹھ چکی ہے۔

توقع تھی کہ پچھلے سالوں کے مقابلے میں زیادہ پاکستانی فلمیں سینما گھروں کی زینت بنیں گی۔ نئے عہد، نئے سنیما اور نئی فلم انڈسٹری میں جہاں فلم میکنگ میں وابستہ بہت سا نیا خون رواں دواں تھا، وہیں گئے برسوں کے مقابلے میں 2021ء نسبتاً زیادہ نئے آن سکرین چہرے بھی دکھائی دیں گے۔

ہمیشہ سے نئے چہرے اور باصلاحیت فنکاروں کی مانگ رہی ہے جو ٹیلنٹ سے بھی آہنگ ہوں تو یہاں ذکر اْن کا جو اپنے جاذب نظر چہرے اور اب تک متاثر کن کارکردگی کے حساب سے خاصے پرامسنگ لگ رہے تھے۔ 2020ء ان سب کے لئے بہترین برس ثابت ہو سکتا تھا۔

اب وہ خواب بن کر رہ گیا ہے۔ ان کی فلمیں تیار ہونے کے باوجود سینما گھروں پر ریلیز کا اعزاز نہ حاصل کر سکیں۔ ان نئے چہروں کی بڑی سکرین پر انٹری نہ ہو سکی۔

ان میں کون کون سے ماڈل، ٹی وی سٹار سلور سکرین پر اپنی پہلی جھلک دکھانے میں ناکام رہے۔ اس کی وجہ صرف اور صرف عالمی وبا کورونا ہے جس کی دوسرے لہر نے دنیا بھر کے شوبز اداروں کے ساتھ ساتھ ملکی فلم انڈسٹری کے نئے فنکاروں کو بھی متاثر کیا وہ رواں برس میں فلم اسٹار کا لیبل نہ لگا سکے۔ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں 2021ء میں نسبتاً زیادہ نئے چہرے دکھائی دیں گے۔

معروف ایوارڈ یافتہ ماڈل عماد عرفانی جن کا جنم پشاور میں ہوا۔ ماڈلنگ اور ایکٹنگ کے علاوہ گائیگی میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔ کئی مقبول ترین ڈرامہ سیریلز میں کام کر چکے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.