بلوغت چاہئے!!

339

میرے سامنے اوریا مقبول جان کے دو مضامین ہیں ایک اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے اور دوسرا دیار مغرب میں بسنے والے پاکستانیوں کے ترقی پسندانہ سوچ کی بابت، بنیادی طور پر دونوں مضامین میں اوریا مقبول جان نے ایک رجعت پرستانہ رویہ رکھا ہے، پہلے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی اہمیت کے حوالے سے بات کر لینی چاہیے کسی بھی ملک کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا تعلق عالمی سیاست کے پس منظر میں کیا جاتا ہے اور اس کا تعلق اس ملک کے سیاسی اور معاشی کردار سے ہوتا ہے، تشکیل پاکستان کے بارے میں ہم نے موقف اپنایا کہ ہندو اور مسلم دو الگ الگ قومیں ہیں اور اسی بنیاد پر ہم نے یہ مقدمہ جیت لیا، گو کچھ دستاویزات اس موقف کی نفی کرتی ہیں، بھارت سے ہم تین جنگیں لڑ چکے ہیں اور بھارت کو دشمن ملک کہتے ہماری زبانیں نہیں سوکھتیں مگر اس دشمن ملک سے ہمارے سفارتی تعلقات ہیں اور ہمارے ملک کے سیاست دان اس سے دوستانہ مراسم رکھنے کے حق میں ہیں اور اس میں کوئی برائی نہیں، ہم اپنے ہمسائے بدل نہیں سکتے اور ملک میں امن کی فضا برقرار رکھنے اور معیشت کے کچھ پہلوئوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہم کو بھارت سے دوستانہ مراسم کی جانب بڑھنا چاہیے، اس دشمنی کو ستر سال تو ہو چکے اور عوام اس کا بھگتان بھی بھگت چکے اب اس دوستی کی جانب پیش قدمی ہونی چاہیے، بنگلہ دیش جن حالات میں بنا اس کی ساری ذمہ داری ہم مجیب الرحمن پر عائد کرتے ہیں اس کو غدار بھی کہتے ہیں، مگر سچ یہ ہے کہ مغربی پاکستان کے سب صوبوں کے سیاست دانوں نے مل کر بنگلہ دیش بنایا، اس وقت کے سارے سیاست دان بنگالیوں سے کدورت رکھتے تھے اور ان کو لگتا تھا کہ بنگالی اکثریت ان کی سیاست کے چراغ گل کر دے گی، اس کے باوجود ہمیں بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کی جلدی بھی تھی اس کا مطلب میں یہ لیتا ہوں کہ جو بیانیہ بنگالیوں کے خلاف گھڑا گیا تھا وہ جھوٹ کا پلندہ تھا، قائد کی یہ بات بھی عجب ہی ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کرنا چاہتے تھے مگر بھارت سے ایسے تعلقات چاہتے تھے جیسے امریکہ اورکینیڈا کے ہیں، فوج نے یہ بھی نہ ہونے دیا اور ملک کا مستقبل کشمیر پر وارا جارہا ہے، ایک لمحے کے لئے فرض کر لیں کہ اس وقت اسرائیل کے قیام پر مسلم ممالک میں ایک تنائو کی کیفیت تھی مگر ستر سال کے بعد تو پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے سیاست بدل گئی، عرب ممالک نے اسرائیل سے سیاسی اور معاشی تعلقات استوار کر لئے ہیں تو پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا جبکہ پاکستان کا اسرائیل سے کوئی تنازعہ بھی نہیں، اوریا مقبول جان نے اسرائیل کے قیام کی فرضی کہانی گھڑی ہے مگر بہت سے کتابیں لکھی جا چکی ہیں جو فلسطین کے عربوں کے دوغلے کردار کی نشان دہی کرتی ہیں، ہم مانیں یا نہ مانیں اسرائیل حقیقت ہے مگر دینی حلقے اس وجہ سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے خلاف ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے ان کا نام نہاد بیانیہ بکھر جائے گا، جو صرف ایک حدیث پر کھڑا ہے، فلسطینیوں کی حمایت کے لئے پاکستان کی دینی جماعتوں کے دل دھڑکتے ہیں مگر یہ معاملہ مکر سے لبریز ہے، اوریا مقبول جان نے نہایت ڈھٹائی کے ساتھ حقائق کو چھپانے کی سعی کی ہے، بظاہرایسا لگتا ہے دینی جماعتیں بشمول جماعت اسلامی فلسطینیوں کے دکھ میں مری جارہی ہیں مگر اس حقیقت کو چھپایا جارہا ہے کہ بریگیڈیئر ضیاء الحق جو اردن میں تعینات تھا اس نے دس دن کے اندر ۳۷ ہزار فلسطینی مجاہدین کو ہلاک کر دیا تھاور فلسطینیوں کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی، اس کے بعد فلسطین تحریک کبھی پنپ نہ سکی اس کے بعد سے فلسطینی پاکستان سے نفرت کرتے ہیں، انہوں نے کشمیر پر کبھی پاکستان کی حمایت نہیںکی، یہ وہی بریگیڈیئر ہے جو بعد میں جنرل ضیاء بنا اور تمام دہشت گرد دینی جماعتوں کی آنکھ کا تارا بن گیا، دینی جماعتوں کی تاریخ منافقت سے بھری ہوئی ہے اور ان کو سچ بولنے کی توفیق نہیں ہوتی، فلسطین تحریک کو برباد کرنے والی پاکستان کی کرائے کی فوج تھی اور یہی فوج ہے جو کشمیرکو تین بار ہاتھ سے گرا چکی ہے اور سمجھتی ہے کہ سچ کو چھپایا جا سکتا ہے۔
مجھے نہیں معلوم کہ اوریا مقبول جان پاکستان میں کون سا اسلام برپا کرنے کی بات کرتے ہیں، وہ اسلام جو کبھی برپا ہی نہیں ہوا، کربلا کے بعد تو اسلام رہا ہی نہیں بس ملوکیت کا ہی دور دورہ رہا، اوریا مقبول اگر بے شرمی سے ملوکیت کو اسلام کا نام دیں تو یہ ذہنی فسطائیت ہو گی، ملوکیت جو بنو امیہ سے عثمانی سلطنت تک رہی اس کو اسلام کہنا اسلام کو مسخ کرنا ہو گا اور کوئی شخص جو ذہنی طور پر دیوالیہ ہو اور اسلام کے فلسفے سے نابلد بھی، وہی کہہ سکتا ہے کہ پندرہ سو سالوں تک تین براعظموں پر اسلام کی حکومت ہوتی، دراصل یہ مسلمانوں کی حکومت تھی، سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ قرآن کی تدوین تو حضرت عثمان کے زمانے میں ہوئی تو ایران پر قبضہ کرنے والے حضرت عمر کے زمانے میں کیا پیغام لے کر گئے تھے، دنیا میں جہاں بھی اسلام برپا کرنے کی بات ہوئی ہے وہاں وہی کوشش کی گئی ہے کہ طاقت کے بل پر اقتدار پر قبضہ کر لیا جائے، ان لوگوں نے عوام کو motivateکرنے کی کوشش نہیں کی یا ان کی یہ کوشش رائیگاں گئی اس کی وجہ یہ ہے کہ مطلب تو اقتدار پر قابض ہونا تھا اسلام کا پیغام پہنچانا نہ تھا، یہی عمل پاکستان میں روبہ عمل لانے کی کوشش کی گئی تھی، گو کہ پاکستان میں یہ مذہب پرست تعداد میں بہت زیادہ ہیں مگر عالمی طاقتیں یہ نہیں چاہتیں کہ ان دہشت گردوں کو اقتدا رملے مگر فوج کی حکمت عملی یہ ہے کہ ان کی طاقت سے دنیا کو ڈرا کر رکھا جائے اور فوج اس حکمت عملی میں کامیاب ہے، اوریا مقبول جان جانتے ہیں پاکستان میں جس مذہب کی حفاظت پر وہ مامور ہیں دنیا اس اسلام کو نہیں مانتی، ظاہر ہے جو اہل دانش ملک سے باہر ہیں اور جن کی زباں بندی نہیں کی جا سکتی وہ اوریا مقبول جان جیسے دانشوروں کو یہ بات کھائے جاتی ہے کہ ان اہل دانش کی وجہ سے شعور بیدار ہو رہا ہے اور وہ مذہب جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اس کے پائوں کے نیچے سے زمین کھسک رہی ہے اور ان کے بس میں اتنا ہی رہ گیا ہے کہ وہ ان کو مغرب زدہ اور لبرل کی گالی دے کر خوش ہو جائیں۔