حیراں ہوں کس کو روؤں ؟

309

دنیا بھر میں کرونا کووڈ کی وبا پلٹ پلٹ کے ستم ڈھارہی ہے اور جانوں کا نذرانہ لے رہی ہے لیکن یوں لگتا ہے کہ پاکستانی حزبِ اختلاف، جو کہتی تو یہ ہے کہ اس کا جھگڑا صرف عمران خان سے ہے اور ان کی حکومت کو وہ گرانا اور اقتدار سے محروم کروانا چاہتی ہے، کا اصل ہدف پاکستان کے وہ نادان اور بیوقوف عوام ہیں جن میں آجتک کھرے اور کھوٹے میں تمیز کرنے کا بنیادی جمہوری شعور پیدا نہیں ہوسکا ہے!
کرونا کی وبا سے نمٹنے کا بنیادی تقاضہ یہ ہے کہ اجتماعات سے پرہیز کیا جائے اور ایک مقام پر کم سے کم لوگ ایک دوسرے کے قریب جمع ہوں لیکن پاکستانی سیاست کے عوام دشمن۔۔ اور ان کیلئے اس سے مناسب اور کوئی تعریف نہیں ہوسکتی۔۔ چھٹ بھیے سیاست داں جن کا واحد مقصد اپنی اپنی دکانیں چمکانے کے سوا اور کچھ نہیں اقتدار کی ہوس اور عمران دشمنی میں اتنے اندھے ہوچکے ہیں کہ انہیں اس کا ذرّہ برابر بھی احساس نہیں ہے کہ بقول ان کے جمہوریت کی بقا اور پاسداری کیلئے ان کا یہ احتجاجی جلسوں کا سلسلہ بیچارے بیوقوف عوام کی جانوں کیلئے کیسا خطرہ بن چکا ہے!
عمران حکومت کو دنیا بھر سے داد و تحسین سے نوازا گیا، اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائیزیشن نے تو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ان کاوشوں کیلئے جن کی وجہ سے پاکستان جیسے کثیر آبادی والے ملک میں، جس کی آبادی بائیس کڑوڑ سے زیادہ ہے، کرونا کی وبا سے ہلاکتوں کی تعداد سات ہزار سے کچھ ہی زیادہ ہے جبکہ پڑوسی بھارت میں یہ تناسب پاکستان سے دس گنا زیادہ ہے! لیکن اس کے باوجود شعبدہ بازوں اور ہارے ہوئے جواریوں کے پاس، جنہیں قوم مسترد کرچکی ہے، سوائے فرسودہ اور پٹے ہوئے نعروں کے اور کچھ نہیں ہے۔ گھسے ہوئے ریکارڈ کی طرح وہ ایک ہی تان میں بج رہے ہیں اور وہ یہ کہ ان کے مطابق عمران منتخب وزیر اعظم نہیں بلکہ قوم پر مسلط کیا گیا سیلیکٹڈ وزیرِ اعظم ہے جسے اقتدار سے محروم کرنے کا مشن لیکر یہ عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں اور بڑے بڑے جلسے کرکے انہیں مرعوب کرنا چاہتے ہیں۔ گوجرانوالہ میں کیا، کوئٹہ میں کیا، کراچی میں کیا جہاں بابائے قوم کے مزار کی بے حرمتی ہوئی اس بدبخت نواز کے اتھلے، چھچھورے داماد کے ہاتھوں لیکن سندھ کی بے شرم عدالت نے اِسے اِس شرمناک جرم سے بھی بری کردیا۔ خیر تو اب حکومت کی اس تنبیہ کے باوجود کہ بڑے اجتماعات نہ کئے جائیں پشاور میں بھی جلسہ کیا گیا!
نعرے وہی ہیں، گھسے پٹے اور کانوں پر بار گذرتے ہوئے اور نعرے لگانے والے کون ہیں؟ وہی خواجہ سرا بلاول اور بینظیر ثانی بننے کا وہ خواب جو کبھی پورا نہ ہوگا دیکھنے والی نواز شریف کی خود سر بیٹی جو بزعمِ خود مادرِ ملت بھی بن بیٹھی ہیں۔
یہ سب بہروپیے ہیں، نوسرباز ہیں، جعلساز ہیں لیکن پاکستان کے سادہ لوح عوام ان کی ڈگڈگی پر اب بھی ناچنے کیلئے تیار ہیں۔ یہ فرق ہوتا ہے ایک جاہل، ناعاقبت اندیش معاشرہ میں اور امریکہ جیسے باشعور ملک میں۔ یہاں بھی ایک بہت بڑا بہروپیہ چار برس پہلے نسلی جنون میں مبتلا سفید فاموں کی مدد سے اقتدار پر فائز ہوگیا تھا لیکن امریکی جمہور کو فوری خطرہ کا شعور ہوگیا کہ یہ شخص جسے امریکہ کی جمہوری اقدار کا کوئی پاس نہیں ہے اور جو صرف اپنی ذات کے جنون میں مبتلا ہے جمہورت کے حق میں بھی سمِ قاتل تھا اور ملک کی یکجہتی اور یگانگت پر بھی کاری ضربیں لگا رہا تھا سو امریکی جمہور کو جو پہلا موقعہ نصیب ہوا کہ وہ اس کی صدارت پر اپنا فیصلہ سناسکیں تو انہوں نے اس سے استفادہ کرتے ہوئے اسے بھاری اکثریت سے رد کردیا۔ گو کہ وہ اب بھی وہ حرکتیں کررہا ہے جن کا طعنہ تیسری دنیا کے غیر جمہوری معاشروں کو دیا جاتا تھا۔ نواز کا رونا تو یہ تھا کہ۔مجھے کیوں نکالا لیکن اس بالک کی ہٹ یہ ہے کہ وہ تو فاتح ہے اور اس سے انتخاب کو چرایا جارہا ہے!
پاکستان کے عوام کو ہوش کیوں نہیں آتا اس کی سب سے بڑی وجہ تو وہ تہذیبی طور پر افلاس زدہ جاگیرداری معاشرہ ہے جو اپنے سے طاقتور کی ہر بات پر سر جھکادینے کی تعلیم دیتا ہے لیکن ان حالات میں جب عمران کی حکومت ان جاگیرداروں کے زہر کا تریاق لانے کی پوری کوشش کررہی ہے عوام کو ایک اور افیون کی لت لگائی جارہی ہے اور وہ افیم ہے مذہب کی تاویلات کی اور وہ بھی ان کے منہ سے جو اپنی منافقت اور مفسدانہ فطرت کے سبب دینِ اسلام کی آفاقی حقانیت کے تابندہ چہرے پر اپنی جہالت کی کالک مل دینا چاہتے ہیں!
عمران کے مخالفین نے بھان متی کا جو کنبہ جوڑا ہے اس کی سربراہی وہ دین فروش ملا کررہا ہے جو پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا منافق ہے۔ یہ وہ ملا فضل ہے جو بیس برس تک پارلیمان کی کشمیر کمیٹی کا سربراہ رہا اور اس دوران اس نے اربوں روپے سرکاری خزانے سے کشمیر کے موقف کے پرچار کے بہانے سے کمائے لیکن ایک دھیلے کا کام نہیں کیا اور کرتا بھی کیسے کہ وہ تو بھارتیوں کا دیا ہوا بھی کھاتا رہا ہے۔ لیکن اب عمران دشمنی میں وہ اپنا زہر بیوقوف عوام کی رگ و پے میں اتار رہا ہے اسے دین کے ورق میں لپیٹ کر!
پاکستان کے ترانے کے خالق، جنابِ حفیظ جالندھری نے جب حضرتِ جوش ملیح آبادی سے فرمائش کی کہ ان کے شاہنامہ ٔاسلام پر جوش صاحب کچھ لکھ دیں، کوئی تبصرہ کردیں، تو جوش صاحب نے صرف ایک شعر لکھ بھیجا اور اپنا تبصرہ یہ کہ کر تمام کردیا کہ شاہنامۂ اسلام کے لکھنے والے اسلام کو شاہی سے تعلق کیا ہے ؟
یہی سوال ملا فضل سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ اسلام کو اس طرح کی مفسدانہ سیاست سے کیا تعلق ہے جس کے پردے میں یہ مفسد اپنی دکان چمکانا چاہتا ہے! دین کو افیون کی طرح استعمال کرنے کا کارنامہ تو ان ذاتِ شریف کا بھی تھا جنہوں نے ناموسِ رسالت کے نام پر دھرنے دئیے اور ہزاروں سادہ لوحوں کہ بہکایا۔ ان حضرت کا انتقال اچانک پشاور کے جلسہ کے اگلے روز ہوگیا اور کہا یہ جارہا ہے کہ ان کا جنازہ لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا جسمیں لاکھوں لوگ تھے۔ لیکن یہاں بھی دو سوالات ہیں جو تشنہ ٔجواب ہیں۔ پہلا تو یہ کہ کیا کسی سوگوار نے ایک لمحہ کیلئے بھی یہ سوچا کہ کرونا کا عذاب پاکستان میں پھر سے انگڑائی لیکر تازہ دم ہوگیا ہے اور اس طرح کے اجتماعات اس وبا کو جنگل کی آگ کی طرح پھیلا سکتے ہیں۔ لیکن جوشِ عقیدت میں دین کی افیم سے نڈھال متوالے یہ بیکار باتیں کہاں سوچتے ہیں! دوسرا، زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا ایسا فساد پھیلانے والا عاشقِ رسول ہوسکتا ہے جس کے اقوال اور افعال رسولِ اکرم کے اسوۂ حسنہ سے قطبین کے فاصلے پر ہوں؟ ہمارے رسول ؐکی جو شان اللہ نے بیان کی وہ یہ کہ وہ اخلاقیات اور شائستگی کے اعلیٰ ترین بامِ عروج پر فائز تھے۔ قرآن میں اللہ انہیں ہدیۂ تبریک پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ آپ اگر خلقِ عظیم کے مالک نہ ہوتے تو لوگ آپ کی دعوت پر لبیک نہ کہتے اور دین سے دور ہوجاتے۔ لیکن یہ عشقِ رسول کا دعویدار اپنے پیرو کاروں کو تخریب پر اکساتا تھا اور منبر سے وہ نازیبا زبان استعمال کرتا تھا، اپنے مخالفین کو وہ گالیاں دیتا تھا جو کوئی عام مسلمان بھی ادا کرے تو وہ سزاوارِ تعزیر ہوگا چہ جائیکہ وہ جو اپنے منہ میاں مٹھو خود کو عاشقِ رسول کہہ کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکا کرتے تھے! سیرتِ رسولؐکا یوں مضحکہ اڑانے والا لیکن لاکھوں نادانوں کے ذہنوں کو متاثر کرگیا ایسے ہی عمل کو آج کی زبان میں برین واشنگ کہا جاتا ہے، یعنی دماغوں کو سحر میں مبتلا کردینے کا عمل جو پاکستان کے ذہنی طور پر پسماندہ معاشرہ میں بہت موثر اور سریع الاثر ہے اسلئے کہ عوام کے اذہان ایک طویل مدت سے ان ملاؤں کے چنگل میں ہیں جن کا مسلک وہی ہے جسے حکیم الامت نے اس ایک شعر میں پوری صراحت سے ادا کردیا ہے:

اپنے مخالفین کے خلاف زہر اگلنے کا ہی تو یہ کڑوا پھل ہے جو کل خوشاب کے شہر میں ایک سترہ اٹھارہ برس کے نوجوان نے اکتیس برس کے ایک جواں سال ڈاکٹر کو اس کے گھر میں گولی مار کے ہلاک کردیا، اسکے بزرگ باپ کو شدید زخمی کیا اور چچا کو بھی زخم آلود کردیا۔ اس ڈاکٹر اور اسکے بزرگوں کا جرم یہ تھا کہ وہ احمدی یا قادیانی ہیں جن کے مسلک کے خلاف زہر اگلنا پاکستان کا ہر دو رکعت کا امام اپنا دینی فریضہ سمجھتا ہے اور نوجوانوں کو اس بہانے سے دہشت گردی کی تعلیم دینا اور ان کے ذہنوں میں نفرت کا بیج بونا وہ کارِ خیر بلکہ دین کی عظیم خدمت سمجھتے ہیں۔ احمدیوں کے خلاف قتل اور خونریزی کی یہ وارداتیں ایک عرصہ سے جاری ہیں اور شاید ہی کوئی مہینہ ایسا جاتا ہو جب ایک یا اس سے زیادہ احمدیوں کے قتل کی وارداتیں نہ ہوں۔! آپ کو یاد ہوگا کہ ایسا ہی ایک دور انیس سو نوے کی دہائی میں آیا تھا جب سپاہِ صحاب? نام کی دہشت گرد تنظیم نے درجنوں شیعہ ڈاکٹروں اور انجینئروں کو قتل کیا تھا اور اس دہشت گرد تنظیم کے سرغنہ فخر سے اپنے کارناموں کا اقرار کیا کرتے تھے۔!
خدا نہ کرے جو وہ دورِ سیاہ پاکستان میں لوٹ کر آئے لیکن آثار یہ کہہ رہے ہیں کہ ملک کے امن کو ایک سوچی سمجھی اسکیم اور سازش کے تحت ، جس کے ڈانڈے ملا ڈیزل جیسے مفسدوں سے ملتے ہیں، تہہ و بالا کرنے کا فتنہ سر اٹھا رہا ہے۔ عمران حکومت کو اس فتنہ کا سدِباب کرنے کیلئے سنجیدگی سے سوچنے کی فوری اور اشد ضرورت ہے۔ ملا ڈیزل اور بلاول اور مریم جیسے مفسدوں کو حکومت کی طرف سے اس پیغام کا جانا ضروری ہے کہ سیاسی جلسوں کی آڑ میں انہیں پاکستان کے خلاف دشمنوں کے ایجنڈا پر عمل پیرا ہونے کی کھلی چھٹی نہیں دی جائیگی!
شعائرِ دین اور اسلام کی آفاقی اخلاقی اور تہذیبی اقدار کی جو بیخ کنی دین کی روح اور اساس سے نابلد ان نیم ملاؤں اور نیم سیاستدانوں کے ہاتھوں ہو رہی ہے وہ لمحۂ فکریہ ہے ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کے گرد کھلے دشمنوں کا گھیرا تنگ ہوتا جارہا ہے لیکن، جیسا کہ ہم پہلے بھی بارہا کہتے آئے ہیں کھلے دشمنوں سے ہزار گنا زہریلے ہماری اپنی آستینوں کے سانپ ہیں! اللہ ان مفسدوں کے زہر سے پاکستان کے جسدِ ملی کو محفوظ رکھے!