عاقل لودھی بھی چلے گئے!

291

بلاشبہ زندگی اور موت اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے، موت کا دن مقرر ہے جو زندگی دیتا ہے تو پھر موت بھی آتی ہے جو برحق ہے جس نے اللہ پاک کے انبیائے کرام، اولیائے کرام کو بھی نہ چھوڑا، باقی صرف اللہ پاک کی ذات رہتی ہے یا پھر اللہ کے بندوں کے اعمال رہ جاتے ہیں جو انسانی تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں یا پھر جن کے ساتھ آپ کا کوئی وقت گزر جائے تو وہ بطور یادیں رہ جاتی ہیں، چنانچہ زمانہ طالب علمی کے ہم عمر دوست آہستہ آہستہ جارہے ہیں، جس میں بزرگ ساتھیوں اور دوستوں میں پاکستان کے مشہور سیاستدان معراج محمد خان جن کو بھٹو شہید نے اپنا جانشین نامزد کیا تھا جو سیاسی اختلافات کی بنا پر نہ بن پائے، مزدور لیڈر مختار رانا جن کی آواز پر مزدور لبیک کہہ کر سڑکوں پر باہر نکل آتے تھے، فتحیاب علی خان جو کسان پارٹی کے آخری سربراہ گزرے ہیں، امیر حیدر کاظمی جو بے نظیر دور میں مرکزی وزیر بنے، علامہ علی مختار رضوی جن کے ایوبی آمریت کی مخالفت میں ناخن نکالے گئے تھے اور دوسرے سابقہ طلباء رہنما اور سیاستدان اس دنیا سے کوچ کر گئے جس میں شہنشاہ حسین رانا،اظہر علی اور دوسرے حضرات شامل ہیں جنہوں نے پاکستان میں جمہوریت کی بحالی اور عوامی مسائل کے حل کے لئے بے تحاشا قربانیاں دی ہیں جس کو تاریخ پاکستان کبھی بھلا نہیں سکتی ہے، اس لئے ایسے موقع پر بزرگ طلباء مزدور، محنت کش اور سیاستدانوں کو خراج عقیدت پیش کرنا سب کا فرض بنتا ہے جس کاپھل اب پک چکا ہے جو عنقریب پوری قوم موجودہ نسل رہنمائوں کی شکل میں حاصل کرے گی۔ علاوہ ازیں راقم الحروف کے ہم عمر اور ہم عصر ساتھیوں اور دوستوں میں سے زمانہ طالب علمی کے ومشہور رہنما راجہ ریاض شہید، تنویر زیدی، رانا صفدر علی خان، اقبال صدیقی، عرفان صدیقی، سعید احمد، احمد دارا، سہیل ابرار، خالد محمود ناصر اور نہ جانے کون کون اور لاتعداد زمانہ طالب علمی کے ساتھی اور دوست اس دنیا کو چھوڑ گئے تاہم کل جب پاکستان کے مشہور انسانی حقوق کے وکیل اور سیاسی متحرک عاقل لودھی کی اچانک موت کا پتہ چلا کہ وہ کرونا وباء کا شکار ہو کر اس دنیا ئے فانی کو خیر باد کہہ گئے ہیں تو مجھے یقین نہیں آرہا تھا جن کو میں گزشتہ پچاس برسوں سے زمانہ نوجوانی سے جانتا تھا جو میرے بڑے قریبی گہرے دوست تھے جن کے ساتھ زمانہ طالب علمی میں بہت وقت گزارا تھا جب میں ستر کی دہائی میں اسلامیہ کالج کراچی آرٹس اور لاء طلباء یونین کا دو مرتبہ یکے بعد دیگرے صدر منتخب ہوا تو عاقل حیدر آباد سے مجھے ملنے آیا کرتا تھا بہت ایکٹو رہا، ہمیشہ لوگوں کے حقوق کی حمایت میں پیش پیش رہا جس کی پاداش میں کئی مرتبہ جیل اورقید و بند کی صعوبیتں برداشت کرنا پڑیں،عاقل بہت خوش مزاج اور خوش اخلاق تھا جن کے چہرے پر کبھی پریشانی نہیں دیکھی تھی، پیپلز پارٹی کی حمایت کرنے کے باوجود آج تک کوئی خواہش ظاہر نہ کی جبکہ پوری سندھ حکومت انہیں جانتی تھی جس میں عاقل لودھی بے نظیر بھٹو کے بہت قریب رہ چکے ہیں، عاقل لودھی ہمیشہ پاکستان میں بحالیٔ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لئے ایوان بالا سے جنگ لڑی جس میں انہیں بے تحاشا مالی نقصانات پہنچے مگر وہ ڈٹا رہا ہے وہ ایچ آر ڈی کی تحریک ہو یا وکلاء تحریک ہو عاقل لودھی ہر عوامی تحریک میں پیش پیش رہے تھے جن کی بدولت آج پاکستان بھر میں جمہوریت کی بحالی اور قانون کی حکمرانی کا نعرہ بلند ہورہاہے جس کے بہت جلد نتائج برآمد ہونگے جس میں عاقل لودھی اور ان جیسے لاکھوں سیاسی کارکنوں کی محنت ضائع نہیں جائے گی وہ یقینا دنیا چھوڑ گئے ہیں مگر ان کا نظریہ سیاست جاری رہے گا جو دوسری نسل تک منتقل ہو چکا ہے کہ اب پاکستان میں عوامی نمائندوں کی حکومت بنے گی چاہے اس کے لئے کتنی قربانیاں دینا پڑیں، بہرحال پاکستان میں لاتعداد لوگوں نے ملک میں جمہوریت کی بحالی اور قانون کی بالاتری اور آئین کی بالادستی کی قربانیاں دی ہیں جس کا صلہ ان کی زندگی میں نہ مل پایا جس کے باوجود ملک پر آمر اور جابر قابض رہے جنہوں نے لیاقت علی خان، فاطمہ جناح، بینظیر بھٹو، اکبریگٹی کی جانیں لے لیں جو آج موجودہ خاتون مریم نواز کی جان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں جو پاکستان کو ایسے مقام پر پہنچانا چاہتے ہیں جس کے بعد قائداعظم کا پاکستان دوبارہ 1971ء کی طرح ٹوٹ جائے جس کے لئے پاکستانی عوام کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ اپنے جانے والوں کا مشن جاری رکھیں گے تاکہ ان کی نئی نسل ان کی جدوجہد سے پیدا شدہ نتائج سے مستفید ہو پائے، اللہ تعالیٰ اس دنیا سے جانے والوں کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔ آمین