پارٹیوں میں انتخابات کروائیں اورموروثی قیا دت سے جان چھڑوائیں

273

پاکستان اس وقت جن خطرات میں گھرا ہوا ہے، ان کا غالباً عوام الناس کو ذرہ برابر اندازہ نہیں ہے۔ لگتا ہے کہ ہمارے کچھ سیاستدان ان بیرونی سازشوں میں یا جان بوجھ کر ملوث ہیں یا انجانے میں۔ اس کا نتیجہ ایک ہی ہے۔ حالانکہ یہ ایسے ہی ہے کہ جس پیڑ کی شاخ پر بیٹھے ہیں اسی کو کاٹ رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ان کو یقین ہو کہ برا وقت آنے پر ان کے آقا انہیں بچالیں گے یا وہ ملک سے باہر فرار ہونے میں کامیاب ہو جائیں گے۔یا یہ سوچتے ہیں کہ ان کی کاروائی سے حکومت وقت سے پہلے ختم ہو جائے گی اور پرانے سنہری دور واپس آ جائیں گے جب کہ کرپشن کی طفیل چاندی ہی چاندی تھی۔ حکومت ملکی اخراجات قرضے لیکر پورا کرتی تھی اور مستقبل کی کسی کو پرواہ نہیں تھی، اور نہ ہی غریب عوام کی۔ بائیس کڑوڑ کا ملک لشتم پشتم چل رہا تھا۔ گاہے بگاہے میڈیا کے منہ میں سونے کا نوالا ڈال دیا جاتا تھا کہ حکومت پر نکتہ چینی نہ کرے۔ ورنہ اہل نظر سب جانتے تھے کہ ملک کس نہج پر جا رہا ہے۔
جب سے پاکستان بنا ہے اس کی حکمرانی یا فوج کے ہاتھوں میں آئی یا جاگیر داروں اور صنعت کاروں کے ہاتھ میں۔ ہر گروہ نے یہ سوچ لیا کہ ایک دفعہ حکومت مل گئی تو ان کی جاگیر بن گئی۔ جیسے کہ ورثہ میں ملی۔فوج نے اپنے انتظام کے مطابق یہ کردار ادا کیا اور سیاسی جماعتوں نے اصول وراثت پر چل کر۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج نون لیگ جو کبھی پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تھی، اس کی باگ دوڑ نواز شریف کے کنبہ کے پاس ہے اور کنبہ سے باہر کا کوئی فرد اس کو لینے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ یہی حال پی پی پی کا ہے کہ اگرچہ اس کے قائدین دنیا میں نہیں رہے مگر انکی آل اولاد اور رشتہ دار حکومت اور سیاسی جماعت کو ورثہ سمجھ کر اس سے چپکے ہوئے ہیں۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ اگرچہ ان دو بڑی پارٹیوں میں بڑے قابل اور منجھے ہوئے سیاستدان بھی ہیں مگر ان میں اتنی جرات نہیں ہے کہ وہ اس موروثی نظام کو چیلنج کر سکیں۔ ایسے قائدین موروثی قائدین کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے نظر آتے ہیں۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ غیر موروثی سیاستدانوں کو پکا یقین ہے کہ ان کی پارٹیوں کی ساری قوت شخصیت پرستوں کے ہاتھ میں ہے۔ اور اگر وہ اس نظام سے منہ موڑیں گے تو کارکن کیا اور ووٹرز کیا؟ سب ہی ان کو در خور اعتنا نہیں سمجھیں گے۔لیکن کیایہ بھی ایک مفروضہ نہیں ہے؟ کیوںنہیں قائدین ایک قومی جائزہ کروا لیتے، یا کم از کم چھوٹے پیمانے پر، تھوڑی سی تحقیق کرواتے اور عوام کا عندیہ معلوم کرتے کہ آیا وہ ووٹ پارٹی کو دیتے ہیں یا پارٹی کے قائد کو؟ اگر پارٹی کے قائد کو دیتے ہیں تو اگر وہ جیل چلا جائے تو پھر؟ اگر وہ بد دیانت ثابت ہو جائے تب؟ اگر سارا کنبہ ہی چور ہو تو ؟ آخر ایسی کیا چیز ہے کہ وہ صرف نواز شریف یا بھٹو کے ورثا ہی کر سکتے ہیں اور کوئی نہیں کر سکتا؟
یہ مفروضہ ہماری نظر میں متنازعہ ہے۔ اب جماعت اسلامی کو لے لیں۔ وہ جماعت جیسی بھی ہے، اس کے ووٹر جماعت کو ہی ووٹ دیں گے قائد خواہ کوئی بھی ہو۔اور کیسا بھی ہو۔ اب ذرا،ایم کیو ایم کے ووٹر پر غور کریں کہ وہ کس حد تک شخصیت پر جاتے ہیں؟ جب تک الطاف بھائی کا دور دورہ تھا، وہ خواہ کھمبے کو بھی امیدوار کھڑا کر تے تو لوگ اس کو ووٹ دیتے۔ لیکن جب انکا لیڈر رأندہ درگاہ ہو گیا، اور ملک دشمن ثابت ہو گیا تو کراچی ایم کیو ایم کے ووٹرز بٹ گئے۔ اور اس شہر میں جہاں کسی اور جماعت کو کوئی پوچھتا نہیں تھا، پی ٹی آئی کتنی ساری سیٹیں لے گئی۔ اور تو اور ایم کیو ایم کا چہیتا سابق مئیر مصطفیٰ کمال ایک سیٹ بھی نہ جیت سکا۔ جب جماعت ہی اپنا اعتماد کھو بیٹھے تو نہ ورثہ کام آتا ہے اور نہ گذشتہ کار کردگی۔
پہلے سندھ کی مثال لیں۔ یہاں ذوالفقار علی بھٹو نے پی پی پی بنائی، اور اس کو ایک سوشلسٹ ترقی پسند پارٹی کے طور پیش کیا۔ اس کو روٹی ، کپڑا اور مکان کے نعرے دیئے اور عوام کو اور بھی سبز باغ دکھائے۔ اس نے شو بازی کی آخری سرحدیں بھی عبور کر لیں، اور ملک کے بہت سے دانشوروں، وکیلوں نے، اور ملائوں سے اکتائے ہوئے عوام کو اپنے دام میں پھنسا لیا۔لیکن پاکستان کی بد قسمتی سے، وہ اغیار کی پھیلائی سازش میں پھنس گیا اور پھنسنے کی وجہ اس میں انتہائی پرلے درجے کی خود پسندی اور اقتدار کی وہ ہوس جس کے لیے اس نے ملک کے دو ٹکڑے کرنا منظور کیا اور اقتدار چھوڑا نہیں ۔ بھٹو کا پھانسی دینا بنتا تھا ۔لوگ سمجھتے تھے۔ لیکن پارٹی کی اپیل جاندار تھی، اس لیے اس کی بیٹی کو بھی لوگوں نے پسند کیا اور سوچا کہ وہ باپ کے نقش قدم پر چل کر ترقی پسندی کی راہ لے گی۔ لیکن بیٹی کے خاوند کو نہ بھٹو سے غرض تھی نہ اس کی بیٹی سے، وہ تو ڈھیر سارا پیسہ بنانا چاہتا تھا۔ غالباً زرداری اور بے نظیر میں کمیشن کے معاملے میں ان بن ہوئی، اورایک وقت ایسا آیا کہ زرداری کو جیل جانا پڑا، وہاں اسے سوچنے اور منصوبے بنانے کا موقع ملا۔ اور اس کے نتیجہ میں بے نظیر کا قتل کروا دیا گیا۔ اس کی جھوٹی وصیت بنا کر اس کے نادان بیٹے کو پارٹی کا چیر مین بنا دیا اور خود نائب چیرمین بن گیا۔ پارٹی کے بڑے بڑے افسران بُت بنے دیکھتے رہ گئے اور انہوں نے سوچا کہ ووٹ تو بھٹو کو ملتا ہے، تو یہ سب تو چلے گا۔لیکن سندھ سے باہر کے صوبوں نے پی پی پی کو مسترد کر دیا کیونکہ زرداری کی کرپشن کے قصے زبان زد عام تھے، اور لوگوں کو بھٹو کا لگایا ہوا زخم بھی یاد تھا۔ اب پی پی پی صرف سندھ کی جماعت بن کر رہ گئی تھی۔ابھی بلاول نے گلگت بلتستان میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ وہاں بھی حکومت بن جائے، لیکن وہاں کے عوام اتنے سادہ بھی نہیں کہ ایک ایسی جماعت کو ووٹ دیتے جو ان کو وفاق سے کوئی فایدہ نہیں پہنچا سکتی تھی۔لوگ باگ یہ بہت دیر سے جان چکے ہیں کہ بھٹو کی پارٹی نے سندھ میں بھی روٹی کپڑا اور مکان کا وعدہ پورا نہیں کیا، وہ دوسرے صوبوں میں کیا دیگی؟
نواز شریف کی پارٹی کی سب سے بڑی کشش حرام خور ی کی کھلی چھٹی تھی۔ پٹواری کیا، پولیس کیا، ہر سرکاری ملازم دبا کر رشوت لیتا تھا اور کسی کو پکڑے جانے کا کوئی خوف نہیں تھا۔ شریفوں نے پنجاب کو دو دو ہاتھوں سے لوٹا۔ اور لٹوایا۔ نوبت یہاں تک آ گئی تھی کہ سرکاری ملازمتوں کی بولی لگتی تھی اور چھوٹی سے چھوٹی نوکری لاکھوں کی رشوت دے کر ملتی تھی۔جو لوگ رشوت دیکر نوکری لیتے تھے تو ان کا فرض اولین یہی ہوتا تھا کہ جلد از جلددی ہوئی رقم کما لیں۔ کمائی کے بڑے ذریعے بڑے بڑے منصوبے تھے جیسے کہ سڑکیں بنوانا، لاہور میں میٹرو بس کا منصوبہ اور اورینج ٹرین کا منصوبہ۔ ان منصوبوں کی کشش اس لیے تھی کہ یک مشت بہت زیادہ کمیشن مل جاتا تھا اور دوم یہ کہ ان منصوبوں کے لیے بیرونی قرضہ بھی آسانی سے مل جاتے تھے۔زبردست فارمولا تھا۔ سب خوش۔ ملک میںپیسے کی ریل پیل تھی۔ صرف مسئلہ تھا تو وہ قومی خزانہ کا جس میں ٹیکسوں کا پیسہ اس سے کہیں کم جمع ہوتا تھا جتنا ہونا چاہیے تھا۔ اب اس کمی کو پورا کرنے کے لیے وزیر خزانہ، اسحاق ڈار، جو نواز شریف کا سمدھی تھا، ملک کے بینکاری نظام کے علاوہ بیرونی قرضے بھی لیتا رہتا تھا۔ اور قرضوں کی واپسی اور ان کی قسطیں ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لیتا تھا۔ اس حکومت کا ایک اور خوفناک منصوبہ یہ تھا کہ قومی اداروں کے اخراجات جو بجلی ، گیس اور پٹرول کی مد میں ہوتے تھے، ان کے بل نہیں ادا کرتے تھے، جس سے ایک بہت بڑے گردشی قرضہ کی بنیاد پڑی۔عوام خوش تھے اور ان کو قومی خزانہ کی زبوں حالی سے کیا غرض ہوتی؟
ان حکومتوں نے، اپنی خود غرضانہ حرکات سے، ملک کا اتنا بڑا نقصان کیا ہے کہ ان کو اب بس کردینا چاہیے۔ ان کی صفوں میں جو دانشمند، اصحاب کردار، اور وطن کے خیر خواہ ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ اپنی جماعتوں میں انتخاب کروائیں اور وراثتی ٹولوں کو گھر بھیجیں۔نئی قیادت کو پارٹی کی نئی ترجیحات کا اعلان کرنا چاہیے جن میں کرپشن کی حوصلہ شکنی سر فہرست ہو۔اور قومی ایجنڈا کے ارکان جیسے تعلیم سب کے لیے، ابتدائی علاج اور طبی امداد سب کے لیے، ذرائع روزگار ، صاف پینے کا پانی، حفظ عامہ، سستی رہائش اور بجلی،صاف ماحول وغیرہ، شامل ہوں ۔ ان جماعتوں کو ایسے تمام فیصلوں پر یک جہتی کی حکمت عملی اپنانی چاہیے جو مستقبل میںپاکستان کی سلامتی، خوشحالی اور معاشرتی انصاف کو یقینی بنا سکیں۔
یہ بعید از قیاس نہیں کہ اگر موجودہ سیاسی جماعتیں اپنے نا آزمودہ کار اور ذہنی نا بالغ موروثی قائدین کی سر پرستی میں حکومت سے بر سر پیکار رہیں تو عین ممکن ہے کہ عوام ان دونوں پارٹیوں کو اپنے مسائل حل کرنے کے قابل نہ سمجھیں، اور آیندہ انتخابات میں صرف حکمران جماعت کا ساتھ دیں۔ آخر کب تک یہ قائدین پراٹھے اور بریانی کے لالچ میں اپنے کارکنوں کو خوش رکھ سکیں گے؟ چونکہ انکے ہاتھ میں حکومت نہیں ہے تو وہ نوکریوں کی بند ربانٹ کا فائدہ بھی نہیں اٹھا سکتے۔پی پی پی صرف سندھ کی حد تک سرکاری ذرائع سے جیالوں کو خوش رکھ سکتی ہے لیکن اس سے اس کو وفاق میں تو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔لوگ بلاول کی ہر وقت وفاق کے خلاف بکواس سن سن کر بھی تنگ آ چکے ہیں کیونکہ بر خودارکبھی بھی اپنی پارٹی کے سندھ کے عوام کے لیے کئے ہوئے کارناموں کا بھی ذکر نہیں کرتے۔ اور نہ ہی یہ بتاتے ہیں کہ ان کے باوا نے کیوں اور کیسے اتنی دولت اکھٹی کی؟ اور جب کہ انہوں نے کسی مقامی یا ضلعی سطح پر بھی کوئی انتخاب نہیں جیتا اور کام نہیں کیا وہ کیوں کر اچانک پورا ملک چلانا چاہتے ہیں؟ کیا برخود دار کو اپنے لندن میں بیٹھے یار کے پاس نہیں چلے جانا چاہیے؟اور مت بھولیں کہ نہ کبھی بلاول کے بچے ہونگے اور نہ موروثیت زدہ سیاست دیر تک چلے گی۔
ان دونوں جماعتوں کے سمجھدار اور جہاں دیدہ سیاستدانوں کو اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے، اور فیصلہ کرنا چاہیے کہ جو لوگ صرف ورثہ کی وجہ سے ان کی پارٹیوں پر قبضہ کیے بیٹھے ہیں، وہ کسی طرح بھی ان کرسیوں کے حقدار نہیں ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ کھلے عام ان سے بغاوت کریں اور پرواہ نہ کریں کہ ان کے سیاسی مستقبل کا کیا ہو گا؟ زیادہ امکان ہے کہ عوام بھی ا ن چوروں، ڈاکوں اور لٹیروں سے جان چھڑانا چاہتے ہوں۔ یاد رکھیں کہ پاکستان میں غربت عام ہے نو جوانوں کے پاس روزگار نہیں اور ان کی شاموں میں اگر کوئی تفریح ہوتی ہے تو وہ ان پارٹیوں کے جلسے ہوتے ہیں۔ انہیں اس سے بھی غرض نہیں ہوتی کہ کس پارٹی کے جلسے ہیں۔ نہ انہیں کچھ پوری طرح سنائی دیتا ہے نہ ان تقریروں میں ان کے مطلب کی کوئی بات ہوتی ہے۔ اس لیے محض حاضرین کی تعدادسے یہ سوچ لینا کہ کتنے ووٹ ملیں گے یا جلوس نکالنے پر کتنے شامل ہوں گے، ایک خوش خیالی ہو سکتی ہے، حقیقت نہیں۔ اگر ان پارٹیوںکے اکابرین اس مخلصانہ مشورہ پر غور نہیں کریں گے اور عمل نہیں کریں گے تو وہ تحریک انصاف کو آئیندہ انتخابات میں ہمہ گیر کامیابی کی ضمانت ضرور دیں گے۔