عمران خان کا تاریخ ساز دورہ کابل، دوسرے دن افغانستان راکٹوں سے گونج اٹھا

304

عمران خان نے اپنے دور حکومت میں پہلی بار افغانستان کا ایک روزہ دورہ کیا، اشرف غنی نے اس دورہ کو کامیاب بنانے کیلئے اپنی حکومت کا پورا زور لگا دیا وہ دنیا اور طالبان کو یہ دکھانا چاہتے تھے کہ کابل اور افغانستان ابھی بھی ان کے کنٹرول میں ہے، پورے شہر کو پاکستانی اور افغانی پرچموں سے سجا دیا گیا تھا، اس دن سرکاری طور پر چھٹی کر دی گئی تھی، کابل ایک دلہن کی طرح لگ رہا تھا، اشرف غنی نے وی وی آئی پی گارڈ آف آنر دیا، اشرف غنی کو پتہ ہے کہ ان کی حکومت صرف پاکستان اور پاکستانی فوج کی مرہون منت ہے، افغان طالبان پر اگر کسی کا اثر ہے تو وہ پاکستان اور پاکستانی فوج کا ہے، ڈی جی آئی ایس آئی بھی اس دورہ میں عمران خان کیساتھ تھے، جنرل فیض حمید پوری طرح سے افغان معاملات کو دیکھ رہے ہیں، بھارت کو افغانستان میں اگر کسی نے قابو میں رکھا ہوا ہے وہ صرف آئی ایس آئی ہے ورنہ بھارت کی را اور بے قابو ہو جاتی، اس کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا اور دھماکوں کی بارش ہو جاتی پاکستان میں۔
کابل میں اشرف غنی نے یقینا عمران خان سے اپنی حکومت کو بچانے اور طالبان کے ساتھ خود کو بھی حکومت میں شامل رکھنے کا جواز تلاش کیا ہو گا،اشرف غنی کی حکومت اب صرف اور صرف طالبان کے رحم و کرم پر ہے، عبداللہ عبداللہ پہلے ہی پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں اور اپنے آپ کو حکومت میں شامل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، طالبان کی حکومت آنے کے بعد عبداللہ عبداللہ کی کوئی گنجائش بچتی نہیں ہے لیکن حکومت کانشہ ایسا ہے کہ طالبان ان کو اپنے قریب نہیں آنے دیں گے۔
عمران خان کے آنے کے دوسرے دن ہی کابل دھماکوں سے گونج اٹھا، ۲۳ راکٹ داغے گئے، ۸آدمی اپنی جان سے گئے، یہ راکٹ ایرانی سفارت خانے کے قریب چلائے گئے جو ایرانی حکومت کو بھی خاموش پیغام دینا چاہ رہے تھے کہ آپ بھی ہماری زد میں ہیں، طالبان نے ان دھماکوں سے انکار کیا لیکن داعش نے اس کی ذمہ داری قبول کر لی ہے کیا داعش اتنی طاقتور افغانستان میں ہو گئی ہے، یہ ایک سوالیہ نشان ہے کہا جاتا ہے کہ امریکہ نے داعش کو اپنے مفاد کی خاطر افغانستان میں لا کر آباد کیا ہے لیکن اس کا ثبوت کسی کے پاس نہیں ہے کیوں اور کیسے داعش افغانستان پہنچی اور اس کا کیا کردار آگے ہو سکتا ہے، کیا طالبان آئندہ آنے والے دنوں میں داعش کو کنٹرول کر پائیں گے یہ آئندہ امریکہ کے رول پرمنحصر ہو گا، امریکہ افغانستان سے نکل کر بھی افغانستان میں رہنا چاہتا ہے ادھر امریکی وزیر خارجہ قطر میں ملا برادر سے مل رہے ہیں، وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ امریکہ کس طرح واپس معاہدہ کر سکتا ہے کہ معاہدہ تو ایک طرح سے ٹوٹ چکا ہے اور مزید معاہدہ کیا نئے صدر کی ٹیم کیساتھ ہو گا کہ بائیڈن بھی زلمے کو ہی استعمال کریں گے اس لئے اوبامہ کے وقت میں یہ مذاکرات شروع ہوئے تھے اور بائیڈن پوری طرح ان مذاکرات سے آگاہ ہیں، بائیڈن کی بھی افغانستان کے متعلق ایک رائے ہے وہ کسی طرح اس مسئلے کوحل کرے گا، امریکہ کی فوج قیادت اور دوسرے دفاعی ادارے فوری طور پر مکمل افغانستان سے نکلنا نہیں چاہتے ہیں ان کو پتہ ہے کہ افغانستان میں جتنے گروپ موجود ہیں ایک مرتبہ پھر افغانستان میں آگ اور خون کا کھیل شروع ہو جائیگا، امریکی مقصد اور عزت دونوں کو ہی جھٹکا لگنے والا ہے، طالبان نے بے سروسامانی اور روایتی اسلحہ سے امریکہ جیسی سپرپاور کو شکست دے دی، امریکہ ہر قیمت پر چائنہ پر نظر رکھنے کے لئے افغانستان میں اپنا رول رکھے گا، بھارت کو چین نے دبائو میں رکھا ہوا ہے، اس کے ہزاروں میل علاقہ پر قبضہ کر رکھا ہے، ادھر بھارت کو کشمیر میں پاکستان سے خطرہ ہے، بھارت کو پتہ ہے اب آزاد کشمیر زیادہ عرصہ تک اس کے ساتھ نہیں رہ سکتا، ایک نئی جنگ اس خطہ میں انتظار کررہی ہے، آئندہ کے دن کس طرح ہونگے یہ آئندہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔