وہ دن کبھی تو آئیں گے!!

292

مریم نواز فرماتی ہیں کہ اگر انہیں لندن جانے کی اجازت نہ دی گئی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ پڑوسی ملک سے مدد مانگنے پر مجبور ہو جائیں( یہ بھی کر کے دیکھ لیں) بہرحال آپ کا سسرال تو مانسہرہ میں ہے، وہاں کے مشہور میراثی خاندان سے تعلق ہے، ان کا (بقول سید غضنفر علی (ر) بریگیڈیئر) تو آپ نے پڑوسی ملک سے کون سا نیا رشتہ جوڑ لیا ہے کہ وہ آپ کی مدد کو دوڑے آئیں گے، یہ راز تو صفدر اعوان ہی بتائیں گے کہ ہانڈی میں گڑ کب پھوڑا گیا، انہوں نے تو اپنا اور آپ کا جو شجرہ بتایا تھا اس پر تو زبان کاٹ دینی چاہیے، چاپلوسی میں اتنے آگے بڑھ گئے حرمت اہل بیت کو بھول گئے، انہیں خدا کے غضب سے ڈرنا چاہیے، ان متبرک ہستیوں کا نام لینا ان کے سیاہ کارناموں میں وجہ عذاب نہ بن جائے۔
بلتی اور گلگتی زندہ باد، حقیقی تبدیلی تو یہ لوگ لائے ہیں، پھولن دیوی نے اپنے حسن کو دوبالا کرنے کے لئے 22کروڑ کی دو سرجریز بھی کروائی تھیں، ڈھائی تین لاکھ کے سینڈل تھے، لباس کی قیمت الگ ،شالوں کی قیمت الگ، رنگ برنگی ٹوپیاں بھی لگائیں، حلیمہ سلطان کا روپ بھی دھارا لیکن افسوس صد افسوس بلتی، گلگتی ان کی بہروپیت سے ذرا متاثر نہ ہوئے، پی ٹی آئی کو ووٹ ڈال آئے اور تو اور آزاد امیدوار بھی پی ٹی آئی کی طرف لڑھک گئے، اب ن لیگ اور ان کے حواریوں کا رونا پیٹنا جائز بنتا ہے، بیچارے سر پیٹ رہے ہیں کہ ہمارے ساتھ دھاندلی ہو گئی، جب یہ لوگ ہارتے ہیں تو دھاندلی ہی ہوتی ہے، اب وہی لوگ ساتھ ہیں جن کا مفاد ان لوگوں سے وابستہ ہے اور جو اپنی چوری چکاری کو بچانا چاہتے ہیں، بے نظیر نے ایک بار کہا تھا کہ مولانا صاحب اقتدار میں نہیں ہوتا تو خونخوار بھیڑیا بن جاتا اور وہ اتنا بڑا سائنس دان ’’جب زیادہ بارش آتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے‘‘ ذرا بھی ان باشندوں کو متاثر نہ کر سکا۔
پھولن دیوی وقت بدل رہا ہے اور انشاء اللہ بدلے گا، تمہاری ادائیں، جھوٹی کہانیاں عوام کو ورغلا نہیں سکیں گی، بلتستان اور گلگت نے تمہارے منہ پر کرارا طمانچہ مارا ہے، اس کا مطلب ہے عوام میں شعور بیدا رہو چکا ہے، پھولن دیوی اور بلورانی کے بابا سائیں سب کچھ لوٹ کر لے گئے اور اب ان کی بے غیرت اولادیں عوام کو بھوک پیاس کا ماتم کررہی ہیں، کیا عوام اتنے بے وقوف اور سیاست سے نابلد ہیں ان کی باتوں پر یقین کر لیں گے؟ اتنے بڑے بڑے جلسے کر کے انہوں نے عوام کی زندگیاں دائو پر لگا دیں ہیں، عوام کو اب ہوش میں آجانا چاہیے کہ ان کے یہ ن لیگی، پی پی پی، مولانا گروپ وہ گدھ ہیں جو ان کے مرنے کا انتظار کرنے اور بوٹیاں تک نوچ کر لے جانے کی فکر میں ہیں، اب ان بھوکے ننگے عوام کو ان کی گردن سے پکڑ لینا چاہیے، کوئی راہ فرار نہیں دینی چاہیے،
اس دور کا خاتمہ کر دینا چاہیے، جب ہر طرف حرام کی کمائی سے لوگوں کو گمراہ کیا جاتا تھا، ہر چیز بکائو مال تھی، عدالتیں بک گئیں تھیں، تھانے نیلام کئے جاتے تھے، تعلیمی بورڈ، یونیورسٹی جعلی ڈگریاں، سرٹیفکیٹ بانٹتی تھیں، اس کلچر کو اب نذر آتش کرنا پڑے گا، جس نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کردیا، ترقی کی راہیں بند ہوگئیں، سب سوکھے کنویں میں ڈول ڈالے بیٹھے ہیں، 22جہازوں کے لئے 800سے زیادہ پائلٹ بھرتی ہوئے کیوں؟ صرف انھیں اپنے آپ کو فائدہ پہنچانے کے لئے اور وہ بھی شیطان کے فضل و کرم سے جعلی ڈگریوں کے ساتھ۔ روای کہتا ہے عدالتوں کی بھی چھان ہونی چاہیے یہاں سے بھی کچھ پائلٹ برآمد ہو جائیں گے۔
پاکستانیوں کے سر شرم سے یقینا جھک گئے ہوں گے، جب ان کا پرچی والا وزیر اعظم امریکی صدر کے سامنے جوابات دے رہا تھا، اوباما بھی حیرت میں تھا کہ ان کے وزیراعظم کی تعلیمی قابلیت صفر ہے، اس طرح کے حکمرانوں کو برسراقتدار لا کر پاکستان کا امیج دنیا پر کیا ظاہر کیا گیا۔
اوبامہ کی نئی کتاب نے پاکستان کی اندرونی سیاست کے بہت سے راز کھولے ہیں، انہوں نے وہ واقعہ بھی بیان کیا ہے جو اسامہ بن لادن کے بارے میں ہے، کس طرح امریکی فوج ایبٹ آباد میں اسامہ کے گھر میں گھسی اور اسے قتل کیا اور اس کی لاش بھی اٹھا کر لے گئے حالانکہ اخلاقی اور قانونی لحاظ سے یہ چیز غلط ہے اور صریحاً ناجائز ہے کہ آپ کسی بھی ملک میں داخل ہو کر کسی بھی قسم کی کارروائی بغیر اس حکومت کی اجازت کے کریں، اوبامہ تو تذبذب کا شکار تھے لیکن جنرل کیانی آرمی چیف یا اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا بلکہ زرداری نے بینظیر کے قتل کا ذمہ دار بھی اسامہ کو ٹھہرایا ، حالانکہ پرویز مشرف نے امریکہ سے کہا تھا کہ اگر آپ کو لادن کے ٹھکانے کا پتہ ہے تو ہمیں بتائیں ہم کارروائی کریں گے لیکن پرویز مشرف کو کچھ نہیں بتایا گیا، ISIاور دوسرے انٹیلی جنس ادارے اس کا ٹھکانہ تلاش کرنے میں ناکام رہے تو حضور ہمارے حکمران اتنے نکمے اور بزدل ،بے غیرت ہیں کہ جو بھی چاہے یہاں گھس آئے کارروائی کرے کوئی پوچھنے والا نہیں، اسی طرح را کے ایجنٹ پاکستان میں گھستے ہیں اور دہشت گردی جاری رہتی ہے، بلوچستان کا علاقہ ان کے ٹارگٹ پر ہے جس پراکثر دھماکے کئے جاتے ہیں، بہرحال جو اس سرزمین کا مالک ہے اسے چلا رہا ہے اس سے دعا ہے۔
خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز جس کی کوئی مثال نہ ہو!
ایک نیا سورج طلوع ہو گا اور گلستان کی ہرکلی مسکرا اٹھے گی، وہ دن ضرور آئے گا۔ عوام اٹھ جائیں، شعور کی قندیلیں منورکریں، پھر دیکھ خدا کیا کرتاہے۔