دھرنے میں کووڈسے خادم حسین کی موت سے بھی اپوزیشن نے کوئی سبق نہیں سیکھا اور جلسوں دھرنوں پر اصرار کر رہی ہے!

397

پاکستان کی تاریخ کے متنازعہ ترین مولوی خادم حسین رضوی کو پچھلے ہفتے اسلام آباد کے نزدیک فیض آباد کے دھرنے کے دوران کورونا وائرس یا کووڈ 19کاسامنا کرنا پڑا اور جنھیںچند دنوں کے اندر اندر موت نے آدبوچا۔ ہم نے اپنے ماضی قریب کے کئی کالموں میں اس پیش امام کی گلیہیاری زبان کاتذکر ہ کیا تھا اور اس قسم کے جاہل ملا ہی ہیں جنہوں نے دین اسلام کانام بدنام کیا ہوا ہے۔ حالیہ دھرنا فرانس میں حضو اکرم ؐ کے خلاف بنائے گئے توہین آمیز خاکوں کے حوالے سے دیا جارہا تھا۔ اس دوران حکومت کے ساتھ دھرنا ختم کرنے کے مذکرات کے دوران خادم حسین نے مطالبہ کیا تھا کہ اسلام آباد میں فرانس کے سفیر کو بلا کر ایٹم بم دکھایا جائے اور کہا جائے کہ ان خاکوں کوبند کرو ورنہ یہ ایٹم بم ہم فرانس پر گرا دیں گے۔ اس ایک بات سے اس شخص کی جاہلیت اور ذہنی پسماندگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ، ہم اور آپ جیسے پڑھے لکھے اور سمجھدار لوگ تو اس شخص کی احمقانہ باتوں کو مذاق سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ ملک میںآپ اورہم جیسے لوگوںکی تعداد کتنی ہے؟ پاکستان میں عام لوگوں کو ناخواندگی کی شرح کا سب کو اندازہ ہے اور وہ طبقہ اس مولوی کی باتوں پر آمنا ً صدقاًسرتسلیم ختم کرتا ہے جس کا عملی مظاہرہ اس کے جنازے میں موجود ناخواندہ افراد کی تعداد سے لگایا جاسکتا ہے ۔ اسی شخص نے پنجاب کے شہید گورنر سلمان تاثیر کو قتل کرنے کے لئے قاتل سلمان قادری کو برین واش کر کے آمادہ کیا تھا۔ یہ تو پھر کھلم کھلا دہشتگردی ہوئی جس کوفرانس کے صدر نے اسلامک دہشت گردی کا نام دیا جو کہ بالکل سراسر غلط ہے مگر خادم حسین جیسے لوگ ہی تو اس بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔دیکھئے کہ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے ایران نے کتنا خوبصورت طریقہ نکالا۔ تہران کی وہ شاہراہ جس پر فرانس کا سفارتخانہ واقع ہے اس کا نام تبدیل کر کے شارع محمد رسول اللہ رکھ دیا۔ اب فرانسیسی نہ چاہتے ہوئے بھی ہر کاغذ پر ،ہرفیکس پر اور ہر ڈاکومنٹ پر محمد رسول اللہ لکھنے پر مجبور ہیں۔ یہ فرق ہوتا ہے ایک احمقانہ سوچ اور عامیانہ سوچ اور دانشمندانہ رویے کے درمیان ۔ اس شخص نے پاکستان کے سادہ لوح مگر مذہبی لوگوں کی حساس ترین نبض کو استعمال کرتے ہوئے اپنی لیڈری چمکانے کی کوشش کی یعنی حب محمد کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ ہر چیز انٹرنیٹ پر موجود ہے، اس نے ایک دفعہ عبدالستار ایدھی پر گھٹیا حملے کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بڈھا حرامی بچوں کو پالنوں میں پالتا ہے اور حکومت اسے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازتی ہے اور آج اس کے مرنے کے بعد اس کی لاش کو اسی ایدھی کی ایمبولینس میں لیجایا گیا۔ اسے کہتے ہیں کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ اسی طرح سے اس نے شہید مظلوم اما م حسین اور ان کے اہلبیت کے لئے محرم الحرام میں مجالس میں گریہ کرنے والوں کو باقاعدہ رونے کی نقلیں اتار اتار کر مذاق بنایا تھا اور آج اس کا اپنا بیٹا سعد حسین رضوی اس شخص یعنی اپنے باپ کی نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے بلک بلک کر گریہ زاری اورہچکیوں کے ساتھ رو رہا تھا جسے پوری دنیا نے براہ راست دیکھا ، اسے کہتے ہیں مکافات عمل۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد اس شخص کی برائیوں پر پردہ ڈالنا چاہیے کیونکہ وہ آپ کے تبصروں اورالزامات کے جواب دینے کے قابل نہیں رہتا موت کے بعد۔ اگر یہ لاجک صحیح مان لی جائے تو پھر میمن ،یزید معاویہ کو بھی اس کے اعمال کو بھی غلط نہیں کہنا چاہیے جس نے آل نبیؐ کو میدان ِکربلا میں نعرہ ٔتکبیر لگا لگا کر قتل کردیا اور ان کے خانوادے کی توہین کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی؟ کیا اس نے نبی ؐ اور ان کے گھرانے کی توہین نہیں کی۔ تو کہاں ہے اب تحریک لبیک؟ کچھ لوگ مثال دیتے ہیں کہ جنازے میں مجمع دیکھئے کتنا بڑا تھا۔ سانحہ کربلا میں اب بھی یزید کی طرف ہزاروں کالشکر تھا جبکہ آل نبیؐ کیساتھ صرف 72مسلمان تھے تو کیا امام مظلوم غلط تھے اور تعداد کی بنیاد پر یزید ملعون درست تھا؟ اگر ہم زندہ یا مردہ ،برائی کو برائی نہیں کہیں گے تو اسلام اور بدنام ہوگا ۔ اور اگراپوزیشن کووڈ سے خادم حسین کی موت سے سبق نہیں لے گی اور جلسے دھرنے ختم نہیں کرے گی تو ہمیں ڈر ہے کہ ایک بار پھر ہمیں مینا ر پاکستان پر جمع مجمع نہ دیکھنا پڑے!