ہڑپہ تہذیب شاید دوہری موسمیاتی شدت سے تباہ ہوئی تھی

308

ڈبلن: پاکستان، ہندوستان اور افغانستان تک پھیلی ہوئی، ہزاروں برس قدیم ’ہڑپہ تہذیب‘ کے بارے میں یہ تو کہا جاتا تھا کہ شاید موسم کے اتار چڑھاؤ نے اسے تباہ کیا۔ لیکن اب ایک تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ آب و ہوا کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ دو انتہائی شدید موسمیاتی کیفیات نے ایک کے بعد ایک آبادیوں کو ویران کردیا۔ یہ قحط سالی کے دو ادوار تھے جس میں پہلے موسمِ سرما کی بارشیں روٹھ گئیں اور اس کے بعد اچانک طویل عرصے کی خشک سالی کا دور رہا۔ سینکڑوں برس تک رہنے والی اس کیفیت نے ہزاروں برس سے آباد تہذیب کو تباہ کردیا۔

سائنسدانوں نے ان تبدیلیوں کو موسمی سانحات قرار دیا ہے۔ اب سے 5200 سال قبل یہ تہذیب نمودار ہوئی اور 2600 قبل مسیح میں اپنے عروج پر تھی۔ لیکن اس کی تحریریں ابھی تک نہیں پڑھی گئیں اور اس لحاظ سے ہڑپہ تہذیب پر بہت کم روشنی ڈالی جاسکی ہے۔ یہاں کے لوگ دھات کاری، برتن سازی، شہری منصوبہ بندی ، پانی کی فراہمی اور نکاسی کے بہترین منصوبہ ساز بھی تھے۔ یہاں کے عوامی حمام، پانی کے تالاب، پانی کی فراہمی اور گندے پانی کی نکاسی کا نظام اتنا بہترین تھا کہ رومی تہذیب کے ہم پلہ قرار دیا جاسکتا ہے۔

لیکن 1900 قبل مسیح میں اس کا زوال شروع ہوا اور 1300 قبل مسیح میں ہڑپہ تہذیب صفحہ ہستی سے مٹ گئی۔ اس زوال کی وجہ ماہرین نے دشمنوں کا حملہ اور کلائمٹ چینج بتایا ہے۔ اب تازہ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ 4200 سال قبل ہولوسین عہد میں شمالی نصف کرے میں شدید خشک موسم رہا اور یوں ایک طویل خشک سالی رونما ہوئی۔ یہاں تک گرمیوں کا مون سون بگڑا اور سردیوں کی بارشیں متاثر ہوئیں۔