جیّد صحافی اور ادیب مولانا ظفر علی خان کا یومِ وفات

65

برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں مولانا ظفر علی خان کو ایک جیّد صحافی، ادیب اور تحریر و تقریر کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والے قلم کار کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے۔ 27 نومبر 1956ء کو اردو زبان و ادب کے اس نام ور کی زندگی کا سفر تمام ہوگیا تھا۔ آج مولانا ظفر علی خان کی برسی ہے۔

1873ء میں ضلع سیالکوٹ کے ایک چھوٹے سے گائوں میں پیدا ہونے والے ظفر علی خان نے علی گڑھ سے اس وقت گریجویشن کیا جب سرسیّد، شبلی، حالی جیسے کئی نہایت قابل اور فکر و نظر کے اعتبار سے زرخیز ذہن اس درس گاہ سے وابستہ تھے۔ اسی فضا نے ظفر علی خان کی فکر اور ان کی صلاحیتوں کو اجالا اور علمی و ادبی میدان میں متحرک ہونے پر آمادہ کیا۔

1909ء میں مولانا ظفر علی خان وطن تعلیم مکمل کرکے وطن لوٹے اور جب ان کے والد مولوی سراج الدین احمد نے ایک ہفت روزہ اخبار زمیندار جاری کیا تو ان سے‌ بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ والد کی وفات کے بعد ظفر علی خان نے زمیندار سنبھالا اور لاہور آگئے۔ یہاں علم و ادب سے وابستہ شخصیات اور ایسا حلقہ میسر آیا جس کی مدد ظفر علی خان کا ادبی اور صحافتی سفر بامِ عروج کو پہنچا۔

انگریز دور میں سیاست کے میدان میں‌ مختلف تحاریک، مزاحمتی سرگرمیوں کے علاوہ قلم کے ذریعے آزادی اور حقوق کی جنگ لڑنے کا سلسلہ جاری تھا اور اسی دوران مولانا ظفر علی خان آزادی بھی اپنے اداریوں اور مضامین کی وجہ سے معتوب ہوئے۔ انھیں اپنی تحریر و تقریر کی وجہ سے کئی مشکلات جھیلنا پڑیں اور ان کے اخبار زمیندار کو بندش کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ سلسلہ یہیں تک محدود نہیں‌ تھا بلکہ مولانا نے متعدد مرتبہ قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں، لیکن اپنے مقصد سے پیچھے نہیں‌ ہٹے۔ مولانا نے اپنے اخبار زمیندار کے ذریعے تحریکِ پاکستان کے لیے بے مثال خدمات انجام دیں۔

مولانا ظفر علی خان ایک بہترین خطیب، باکمال شاعر اور انشا پرداز بھی تھے۔ ان کے اداریوں کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی تھی اور ہر خاص و عام کی توجہ حاصل کرتے تھے۔ ان کی متعدد تصانیف منظر عام پر آئیں جن میں نثری اور شعری کے مجموعے شامل ہیں۔

ظفر علی خان کا مدفن ان کے آبائی علاقے کرم آباد میں‌ ہے۔ انھیں بابائے صحافت بھی کہا جاتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.