چین نے ایغور مسلمانوں سے متعلق پوپ فرانسس کا بیان بے بنیاد قرار دے دیا

416

چین نے صوبہ سنکیانگ میں شدید مشکلات کے شکار ایغور مسلمانوں کی حمایت میں مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس کی بیجنگ پر تنقید کو بے بنیاد قرار دے دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ پوپ فرانسس کی جانب سے چین کے صوبے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں سے متعلق بیان بے بنیاد ہے۔

پوپ فرانسس نے ایک نئی کتاب ‘ہمیں خواب دیکھنے دیں: بہتر مستقبل کی راہ’ میں کہا کہ ‘میں اکثر ستائے ہوئے لوگوں روہنگیا، غریب ایغور اور یزیدی کے بارے میں سوچتا ہوں’۔

واضح رہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب پوپ فرانسس نے چین کے ایغوروں کو مظلوم عوام قرار دیا۔

اس سے قبل انسانی حقوق کی تنظیمیں کئی برس سے سنکیانگ میں مسلمان اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر تشویش کا اظہار کرچکی ہیں۔

اس حوالے سے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے پوپ فرانسس کی جانب سے ایغور مسلمانوں کے متعلق بیان کو مسترد کردیا۔

انہوں نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ‘چینی حکومت نے ہمیشہ نسلی اقلیتوں کے قانونی حقوق کا یکساں طور پر تحفظ کیا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ سنکیانگ میں ہر نسل کے لوگوں کو بنیادی اور ترقیاتی حقوق اور مذہبی آزادی حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘پوپ فرانسس کے تبصرے بے بنیاد ہیں’۔