تعلقات کی بحالی کے بعد اسرائیل کا پہلا وفد سوڈان روانہ

335

یروشلم: اسرائیل نے پیر کو ایک وفد سوڈان روانہ کیا جو گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے اعلان کے بعد پہلا وفد ہے۔

یروشلم میں کئی دنوں سے یہ افواہیں چل رہی ہیں کہ 23 ​​اکتوبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کردہ معاہدے کے تناظر میں ایک وفد خرطوم کا دورہ کرے گا۔

اسرائیلی فوج کے ریڈیو نے پیر کو اطلاع دی کہ یہ سفر جاری ہے۔

اسرائیلی عہدیدار نے اس رپورٹ کی تصدیق کی لیکن یہ بتانے سے انکار کیا کہ وفد میں کون کون شامل ہے۔

متحدہ عرب امارات اور بحرین کے بعد سوڈان اس سال اسرائیل کے ساتھ معاہدے کا اعلان کرنے والا تیسرا عرب ملک ہے، اسرائیل سوڈان معاہدے پر باضابطہ طور پر دستخط ہونا ابھی باقی ہے۔

اگرچہ اسرائیل نے ان معاہدوں کو تاریخی سفارتی معاہدے قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی ہے لیکن فلسطینیوں نے ان کی مذمت کی ہے اور عرب ریاستوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس وقت تک ثابت قدم رہیں جب تک کہ اسرائیل فلسطینی سرزمین پر اپنا قبضہ ختم نہیں کردے اور فلسطینی ریاست کے قیام پر راضی ہوجائے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے فروری میں یوگنڈا میں سوڈان کی حکمران خودمختار کونسل کے سربراہ عبدالفتح البرہان سے ملاقات کی تھی۔