لیڈی ڈیانا کے 25 سال پرانے انٹرویو کی تحقیقات،شہزادہ ولیم کا اظہار خیرمقدم

477

برطانوی شہزادہ ولیم نے اپنی آنجہانی والدہ لیڈی ڈیانا کے 25 سال قبل نشر کیے گئے انٹرویو کی سپریم کورٹ کے سابق جج سے تفتیش کروانے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

شہزادہ ولیم نے برٹش براڈکاسٹنگ کارپوریشن (بی بی سی) کی جانب سے لیڈی ڈیانا کے 1995 میں نشر کیے گئے انٹرویو سے متعلق سابق جج لارڈ ڈائیسن کی جانب سے تفتیش کروانے کے فیصلے کو سراہا ہے۔

شہزادہ ولیم کا کہنا تھا کہ سابق جج سے تفتیش کروانے کا فیصلہ درست سمت کی جانب اہم قدم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تفتیش سے معلوم ہوگا کہ 1995 میں ان کی والدہ سے کیے گئے بی بی سی کے انٹرویو کے پیچھے کن محرکات کا کیا کردار تھا؟

شہزادہ ولیم کی جانب سے سابق جج سے تفتیش کروانے کا خیر مقدم کرنے سے ایک دن قبل ہی بی بی سی نے اعلان کیا تھا کہ معاملے کی تفتیش سابق جج لارڈ ڈائیسن کریں گے۔

 بی بی سی کی اعلیٰ انتظامیہ نے سابق جج سے انٹرویو کے معاملے کی تفتیش کرانے کا اعلان 18 نومبر کو کیا۔

اگرچہ بی بی سی نے پہلے ہی 1995 میں نشر کیے گئے انٹرویو سے متعلق تفتیش کا اعلان کیا تھا، تاہم 18 نومبر کو برطانوی نشریاتی ادارے نے تفتیش کرنے والی ٹیم کے سربراہ کا نام بھی بتا دیا۔

انٹرویو کی تفتیش کرنے والے جج کے حوالے سے بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ وہ اچھی شہرت رکھتےہیں، وہ برطانوی سپریم کورٹ کے سینیئر ترین ججز میں سے ایک تھے۔

لارڈ ڈائیسن 2016 میں ریٹائرڈ ہوچکے تھے، وہ اب بی بی سی کی جانب سے نشر کیے گئے انٹرویو کی تفتیش کی سربراہی کریں گے۔

تفتیشی ٹیم اس بات کی پڑتال کرے گی کہ بی بی سی کے صحافی مارٹن بشیر نے اس وقت لیڈی ڈیانا سے انٹرویو کرنے کے لیے کون سے اقدامات اٹھائے تھے؟ اور کیا واقعی انہوں نے جعلی دستاویزات کا سہارا بھی لیا؟