وہی ہے چال!

380

پاکستان کی سیاسی منظر پر سوائے سہروردی اور بھٹو کے کوئی ذہین اور فطین قسم کا سیاست دان نہیں دکھائی دیا، باقی سب کے پیچھے عقل سے بیزار میڈیا ڈھول بجاتا رہا، پاکستان بننے کے بعد جو اردو لکھنا جانتا تھا اس کو نوکری نہیں ملی تو وہ صحافی بن گیا، سیاست نام کی کسی چڑیا سے یہ لوگ واقف ہی نہ تھے، جامعات میں بھی صحافت پڑھائی نہیں جاتی تھی، یہ سبجیکٹ جہاں تک مجھے یاد ہے ۱۹۶۷ سے پہلے کراچی یونیورسٹی میں بھی نہیں پڑھایا جاتا تھا، سو صحافت پسند نا پسند کی بنیاد پر ہی ہوتی رہی، ان لوگوں کو معلوم ہی نہ تھا قومی تقاضے کیا ہوتے ہیں اور صحافت کا ملکی ترقی میں کیا رول ہوتا ہے، مجید لاہوری کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں مگر یہ اندازہ تو یار لوگوں کو بہت بعد میں ہوا کہ مجید لاہوری نے بیگم رعنا لیاقت علی کی قائم کردہ APWAکو برباد کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور عورت کی تعلیم اور اس کی سماجی آزادی روک کر پاکستان کوکتنا نقصان پہنچایا، ان جیسے خود رو لکھاریوں کو معلوم ہی نہ تھا کہ ملکوں کی ترقی میں عورت کا کیا کردار ہوتا ہے، صحافت اور تعلیمی نصاب کی تیاری تمام تر باریش افراد کے ہاتھوں میں دی گئی جو فیصلے کرتے کہ کیا علم اسلامی اقدار کے خلاف ہے اور طلباء کا ذہن بنایا جانا چاہیے، اشتراکیت یوں ہی ملک میں حرام ہو چکی تھی، سو PROGRESSIVE LITERATUEطلباء کی دسترس سے باہر رکھا گیا اور ایسا تو تھا ہی نہیں کہ طلباء کی پہنچ THOUGHT PROVOKINGادب تک ہو، اس زمانے میں سید سبطِ حسن اور عباس جلالپوری کو لوگ چھپ چھپ کر پڑھتے تھے مگر محلے کی لائبریری سے کوک شاستر اور وہی وہانوی کے فحش ناول دستیاب تھے، کوئی ذہین اور فطین سیاست دان ہوتا اور اس کو ملکی معاملات سے آگہی بھی ہوتی تو وہ اس طرف توجہ دیتا، اور قوم کا مزاج اپنے وقت کے مطابق بھی بناتا، مگر اللہ تعالیٰ کے اقتدار اعلیٰ میں یہ کیسے ممکن تھا، ایک خاص سکیم کے تحت ESTABLISHMENTنے سیاست دانوں کو یہ کام کرنے سے روکا بھی، نئے افکار کو نئی نسل سے دور رکھنا ایک قومی جرم ہے، اس کا مقصد یہی تھا کہ ملک میں فیوڈلز کو طاقت ور ہونا چاہیے اور نئی نسل کو مذہب کے اعتقادات میں محبوس رکھ کر یہ کام کیا جا سکتا ہے، نئے افکار تعلیم کے ذریعہ ہی پھیلتے، تعلیم کی بربادی سے سماج کی ذہنی ترقی کے سارے راستے مسدود ہو گئے، پاکستان میں عالمی سطح کا نہ کوئی سیاست دان پیدا ہوا اور نہ ہی ادیب و شاعر، یہ سب جن کی پوجا کی جاتی ہے سب کے سب انگریزی نظام نے بنائے ہیں اور اب ان کی کھیپ ختم ہوتی جارہی ہے۔
دنیا میں جدید جمہورتیوں اور مہذب ممالک میں جو بھی نظام موجود ہے اس کا خاصہ یہ ہے کہ نئی نسل کی سیاسی تربیت کی جاتی ہے، ان کو نظام کی روح سے واقفیت ہوتی ہے اور وہ بتدریج اپنی فکر کو نئے وقت کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہیں پھر کہیں جا کر قومی سطح پر نمودار ہوتے ہیں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ آناً فاناً کوئی شخص اٹھا ہو اور وہ قومی سطح کا لیڈر بن گیا ہو، ایسا تو بھارت میں بھی نہیں ہوا، مگر عالمی اسٹیبلشمنٹ کسی بھی ملک کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر یہ اہتمام کرتی ہے اور کسی فرد کو پروجیکٹ کیا جاتا ہے اور بکا ہوا میڈیا عوام کو یقین دلاتا ہے کہ یہ تمہارا نجات دہندہ ہے اور تمہارے سارے مسائل حل کر دے گا، گزشتہ پچاس سالوںسے فوج کی فیکٹری میں ایسے لیڈر تیار ہوتے ہیں ان کو کرپشن کی طرف آمادہ کیا جاتا ہے جب تک وہ انگلی کے اشاروں پر چلتے ہیں جہاں وہ اپنی اڑان کی سمت خود متعین کرتے ہیں، کرپشن ان کا پیچھا کرتی ہے، بھٹو اور بینظیر عالمی ایجنڈے پر کام کررہے تھے جب ان کا کام ختم ہوا وہ بھی منظر سے ہٹا دئیے گئے، جو تابع فرمان رہے سیاست میں متحرک ہیں، سردار عبدالقیوم نے ایک بار کہا کہ پاکستان کی سیاست دو بچوں کے ہاتھوں میں ہے، ان کا اشارہ نواز شریف اور بے نظیر کی جانب تھا پھر الطاف حسین کی سیاسی ولادت ہوئی، اس وقت پاکستان میں بچوں کی سیاست عروج پر ہے، عمران اور ان کے سارے حواری، مسلم لیگ کی پہلی صف کی قیادت، خالد مقبول صدیقی ،عامر خان، کمال مصطفی، بزدار وغیرہ وغیرہ اس وقت پاکستان کے کسی نام نہاد لیڈر کے پاس قومی سوچ ہے ہی نہیں، صوبائیت لسانیت اور فرقہ واریت کا شجر جب پھل دینے لگا تو ۲۰۰۸ کے انتخابات میں پاکستان کے اندر چار پاکستان بن گئے تھے اور اب بارہ برس کے بعد یہ چار پاکستان کبھی ایک پاکستان نہیںبن سکتے، یہ سارے سیاسی بچونگڑے جو سارے ملک میں دندناتے پھرتے ہیں اور جن کے جلسوں کا اہتمام اور انصرام نادیدہ ہاتھ کرتے ہیں ان سب کے کاندھوں پر بہت بڑے جرائم کا بوجھ ہے، یہ جب بھی پٹڑی سے اتریں گے ان کی گردن پر آہنی ہاتھ آ جائے گا، عمران خان بھی اسٹیبلشمنٹ سے الگ راہیں جدا کرنا چاہیں تو فارن فنڈنگ کیس ان کی حکومت اور ان کی سیاست کا خاتمہ کر سکتا ہے۔
ابھی تک تو فوج یہ کہہ رہی ہے کہ عوام چین کی نیند ہماری وجہ سے سوتے ہیں وہ یہ بھی کہتی ہے کہ جہاں فوج نہیں تھی ان ممالک کا کیا حشر ہوااور مثال کے طور پر لیبیا، عراق اور افغانستان کا نام لیا جاتا ہے اور اب یہ بھی کہا جانے لگا ہے کہ اگر فوج نہ ہو تو بھارت اور افغانستان پاکستان کو کھا جائیں، یہ بھی دن دیکھنے تھے کہ پاکستان کو افغانستان سے ڈرایا جائے، مگر یہ بھی تو بتایا جائے کہ اس کی نوبت کس وجہ سے آئی؟اب جبکہ قومی سطح کا کوئی لیڈر موجود نہیں ہے ملک چار اکائیوں میں بٹا ہوا ہے اور ان چار صوبوں میں جو تم پیزار کبھی بھی ہو سکتی ہے، پنجاب کو فوج کی وجہ سے اَپر ہینڈ تو حاصل ہو گا ہی، ثناء اللہ زہری کی پنجاب کے خلاف گونج ابھی فضائوں میں ہے اور تادیر رہے گی، اور اس کا کوئی حل نہیں تو فوج یہ بھی کہتی نظر آئے گی کہ پاکستان کا سیاسی وجود ان کی وجہ سے قائم ہے اگر فوج نہ ہو تو صوبے ایک ساتھ رہنے کے لئے تیار نہیں ہونگے، عمران کی حکومت کا سب سے بڑا مسئلہ یا تو ناموس رسالت ہے یا پھر مغرب کا اسلامو فوبیا، حال ہی میں انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ وہ واحد لیڈر ہیں جنہوں نے دنیا میں اسلام کا مقدمہ لڑا ہے، اب عمران کو کون سمجھائے کہ آپ اپنے کئے گئے وعدے پورے کرنے آئے تھے اسلام کا مقدمہ لڑنے نہیں، اپنا اسلام او راپنا مقدمہ اپنے پاس رکھیں، عوام روٹی مانگتے ہیں، یہ ملک اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں ہی تادیر رہے گا اگر غیر معمولی حالات پیدا نہ ہوئے اورروٹی عوام کی دسترس سے دور ہی رہے گی۔