آخر کارکورونا اور، ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں الیکشن 2020ء ہو گیا!!

324

سب کو انتظار تھا 2020ء کے آنے کا، پوری دنیا میں مختلف پلان تھے، 2020ء کو لے کر اور پھر یہ آیا اور ایسا آیا کہ جو کسی نے سوچا بھی نہیں تھا وہ لے کر آیا، کرونا آیا اور لگا کہ ’’مارچ‘‘ کا مہینہ پورے سال پر محیط ہو گیا، مارچ آیا تو لیکن ختم نہیں ہوا کیونکہ یہ اپنے ساتھ لایا ڈر، خوف، ماسک، ہینڈ سینی ٹائزر اور Social Distancing، ایسے فاصلے کے جن کی وجہ سے سکول، دفتر، بازار، سفر سب کچھ بند ہو گیا یعنی کہ دنیا بھر کی معیشت بیٹھ گئی اور ہزاروں، لاکھوں انسانی جانوں کا ناقابل تلافی نقصان ہوا۔

اب اس طرح کے وقت میں دنیا کے سب سے مضبوط لیڈر کون؟؟ ڈونلڈ ٹرمپ، وہ شخص جس کے بارے میں صدر اوبامہ بار بار کہہ چکے ہیں کہ اس شخص کا دماغی توازن درست نہیں، آج سے نہیں پچھلے چھ سال سے وہ مستقل یہی کہہ رہے ہیں۔اوبامہ جب پبلک ٹی وی پر بار بار یہ بات کہہ رہے ہیں تو اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں کیونکہ صدر ٹرمپ کا یہ مشورہ تو سب ہی کو یاد ہو گا جس میں انہوں نے نہ صرف اپنی قوم بلکہ پوری دنیا کو یہ بتایا کہ باتھ رومز کی صفائی کرنے والا لیکوڈ اگر آپ اپنے جسم میں انجکشن کے ذریعے داخل کر لیں تو آپ کرونا وائرس سے بچ سکتے ہیں!!!۔

صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں نے کئی سینئر سٹیزن سے بات کی ہے اور وہ اکانومی کی بحالی کیلئے کرونا سے مرنے کو تیار ہیں، پھر ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سکولوں میں سوشل ڈسٹنگ مت کرو، سکول کھول دوں گا، اگر سکول نہیں کھولے انتظامیہ نے تو میں فنڈنگ بند کر دوں گا، پھر یہ بھی کہ میں ماسک نہیں پہنوں گا یہ ضروری نہیں ہے۔!!!

صدر اوبامہ جو کچھ ٹرمپ کے بارے میں کہہ رہے تھے وہ غلط نہیں کہہ رہے تھے بلکہ ٹرمپ اپنے بیانات سے انہیں سچ بھی ثابت کررہے تھے، ایسے صدر کو اگر دوبارہ Electکیا جانا ہو تو عوام کیاکرے گی؟ وہ لوگ جو 30-40سال سے امریکہ میں رہ رہے تھے اور کبھی ووٹ ڈالنے نہیں گئے تھے وہ بھی میدان میں نکل پڑے اور اپنا حق رائے دہی استعمال کیا اور اسی وجہ سے 2020ء کا یہ الیکشن امریکہ کا وہ تاریخی الیکشن بن گیا جس میں سب سے زیادہ ووٹ کاسٹ ہوئے ہیں۔

چلیے اللہ اللہ کر کے الیکشن 2020ء تو ہو گئے مگر جس طرح اس سال میں بہت کچھ نیا ہوا ویسے ہی اس الیکشن میں بھی بہت کچھ نیا تھا اور تاریخ بھی رقم ہوئی۔

جب 1918ء میں اسپینش فلو کی وباء آئی تھی تو لوگ اتنے زیادہ ڈرے ہوئے تھے کہ الیکشن میں ووٹ ڈالنے جانے سے ڈر رہے تھے اور اسی لئے 20فیصد کم ووٹ پڑے تھے، 2020ء میں بھی لوگ ڈرے ہوئے تھے کہ لمبی لمبی قطاروں میں گھنٹوں کھڑا ہونا پڑے گا، اسی لئے Early votingاور میل ان ووٹس پرز یادہ فوکس تھا، اس سال ارلی ووٹنگ کیلئے لگ بھگ سو ملین لوگ گھروں سے نکل کر آئے اور ساتھ ہی میل ان ووٹس بھی کئے گئے جو آج تک کا سب سے بڑا ریکارڈ ہے۔

الیکشن 2020ء امریکہ کا اب تک کا سب سے مہنگا الیکشن تھا اس پر چودہ بلین ڈالرز خرچ کئے گئے ہیں، پچھلے دو الیکشنز کو ملا لیں تب بھی اتنا خرچہ نہیں ہوا تھا، 2012ء میں6.3بلین اور 2016ء میں 6.5بلین ڈالرز خرچ ہوئے تھے جو چودہ بلین سے کم ہیں۔جوبائیڈن،اوبامہ حکومت میں وائس پریذیڈنٹ رہے اوریہ پہلا موقع ہے کہ کسی V.Pنے صدر کو ہرا دیا۔

ٹرمپ کو تاریخ رقم کرنے کا شوق ہے، اس لئے ہار کر انہوں نے ہسٹری بنائی ہے، اگر بائیڈن 2024ء کے ری الیکشن میں 81سال کی عمر میں حصہ نہیں لیں گے تو 1889-79کے بعد یہ پہلا موقع ہو گا کہ دو صدور ایسے آئے جو صرف ایک ایک ہی ٹرم تک رہے، اس سے پہلے ایسا Benjamin Harrison اور Grover Clevelandکے ساتھ ہوا تھا۔

بائیدن، ٹرمپ کا ریکارڈ توڑیں گے وہ اس طرح کہ ٹرمپ نے سب سے عمر رسیدہ صدر امریکہ ہونے کا ریکارڈ بنایا تھا اب بائیڈن ان سے زیادہ عمر میں حلف اٹھائیں گے۔

بائیڈن نے ایک اور ریکارڈ بھی قائم کیا تھا یعنی وہ چھٹے سب سے کم عمر سینیٹر تھے جنہوں نے تیس سال کی عمر میں حلف لیا تھا اور اب وہ عمرر سیدہ ترین صدر کا حلف اٹھائیں گے یعنی 78سال کی عمر میں Serveکریں گے، صدر ریگن کا جب اوول آفس میں آخری دن تھا تو وہ 77سال اور گیارہ مہینے کے تھے۔

بائیڈن امریکہ کے پہلے وہ صدر ہیں جو Delwareسے تعلق رکھتے ہیں اور وہ سینیٹر بھی ہیں کہ جنہوںنے سینٹ کا اتنا لمبا کیریئر گزارا یعنی 1973-2009تک۔

بائیڈن پندرہویں ایسے وائس پزیذیڈنٹ ہیں جو پریذیڈنٹ بنیں گے لیکن چھٹے ایسے صدر جو صدر بنے مگر اس لئے نہیں کہ ان سے پہلے کے صدر نے استعفیٰ دے دیا مر گئے یا مار دئیے گئے۔

بائیڈن کے ساتھ ایک نئی تاریخ بھی بنی اور وہ یہ کہ کملا ہیرس پہلی خاتون نائب پریذیڈنٹ بنیں وہ بھی ایسی جن کا تعلق افریقن امریکن اور انڈیا دونوں سے بنتا ہے، کوئی خاتون اس عہدے پر فائز ہوں آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے امریکہ میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

2020ء بہت ہی عجیب سال تھا، جو بھی اس سال میں باہوش و حواس زندہ ہیں وہ جب تک زندہ ہیں انہیں یہ سال بھولے گا نہیں بلکہ آج کے موجود لوگوں کا کیا کہنا، لوگ جب جب تاریخ پڑھیں گے وہ بھی حیران ہو کر اس سال کو بھلا نہ پائیں گے، وہ سال جس میں کرونا وائرس ہے، ڈونلڈ ٹرمپ ہے، اللہ کا شکر ہے کہ الیکشن 2020ء ہو گیا۔