مسلمانوں کے عروج وزوال کے اسباب: تحقیق چاہیے!

431

ایک صدی پہلے علامہ محمد اقبال، شاعر مشرق، نے دعا مانگی تھی۔یارب !دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے: جو قلب کو گرما دے، جو روح کو تڑپا دے۔ اس وقت مسلمانان عالم ایک کس مپرسی کی حالت میں تھے۔ سلطنت عثمانیہ میں خلافت کا شیرازہ بکھر رہا تھا۔ مسلمان صلیبی جنگو ںسے پے در پے شکستیں کھا چکے تھے۔ ہندوستان میں مغلوں کی بادشاہت کا سورج کب سے غروب ہو چکا تھا وہاں مسلمانوں کی حکومت اس حد تک ناکارہ ہو گئی تھی کہ ہزاروں میل دور سے آنے والی ایک معمولی سی تجارتی کمپنی نے اس حکومت کو غلام بنا لیا تھا۔ یہ تو (1857) میں تھوڑے سے لوگوں نے کچھ جوش دکھایا ، اور دیسی سپاہیوں نے فرنگیوںکی کمپنی بہادر کے خلاف بغاوت کر دی، جس کے نتیجہ میں کمپنی بہادر کا بستر تو گول ہو گیا لیکن انکی جگہ ملکہ عالیہ نے خود حکومت سنبھال لی ، اور ہندوستاں پر حکومت کے لیے گورنر جنرل تعینات کر دیا۔
مسلمانوں کی تاریخ ایک مدت سے نرم گرم رہی ہے۔ ایک طرف مسلمانوں کی تعداد متواتر بڑھتی رہی، جس میں آبادی کی شرح افزائش ایک بڑی وجہ تھی، اور دوسری وجہ اسلام قبول کرنے والی آبادیوں میں اضافہ۔لیکن مسلمان آبادیوں میں تعلیم کا فقدان، خصوصاً اعلیٰ تعلیم اور سائینسی تعلیم کا ۔ اس کی کیا وجہ تھی؟ غالباً اس کی وجہ مسلمان علماء کا مغربی تعلیم کی طرف معاندانہ رویہ تھا۔اس تعلیم کو شیطانی تعلیم کا درجہ دیا گیا۔ ممکن ہے کہ سائینس کی تعلیم کو مذہب سے دور لے جانے کا سبب سمجھا گیا۔کم از کم جنوبی ایشیا اور سیاہ فام افریقہ میں مسلمانوں میں تعلیم کی عمومی کمی کی وجہ یہی معلوم ہوتی ہے۔ اس نظریہ کو اس بات سے تقویت پہنچتی ہے کہ وہابی مذہب کی کتاب میں صاف لکھا ہے کہ اسلام میں جو تعلیم حاصل کرنے کے حوالے ملتے ہیں، وہ مذہبی تعلیم کی طرف اشارہ کرتے ہیں نہ کہ حساب اور سائینس کی تعلیم کی طرف۔
اب اس امر کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں کہ مغرب کی ترقی میںجو سولھویں صدی سے شروع ہوئی، جسے نشاۃ ثانیہ کہتے ہیں، تعلیم کا بڑا ہاتھ تھا۔ اس میں جتنی دریافتیں ہوئیں اور صنعتی ترقی شروع ہوئی وہ تعلیم کا ہی شاخسانہ تھا خصوصاً سائینسی تعلیم کا۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں نے اس تعلیم کے دروازے اپنے لیے بند کر دئیے تھے۔اور اسلامی مفکرین اور علماء جیسے ابن خلدون، بوُ سینا،وغیرہ نے اسلام کے ابتدائی دور میں جو سائینسی، ریاضی، علم نجوم میں، اور دیگر ایجادات اور دریافتیں کی تھیں، ان کاوشوںپر ہمیشہ کے لیے دروازے بند کر دئیے گئے تھے۔ یہ دروازے مسلمان بادشاہوں کی خود غرضی نے بند کیے یا مسلمان علماء کی کم فہمی نے، یا دونوں نے؟ ان سوالوں کا جواب ڈھونڈنا ضروری ہے کیونکہ وہ عقاید و عوامل مسلمان ریاستوں میں آج بھی موجود ہیں ۔ اسلامی دنیا میں اسلامی مدرسوں کو کئی دہائیوں سے سعودی حکومت سے مالی امداد مل رہی ہے جو اس دیوبندی اور وہابی نقطۂ فکر کو پروان چڑھا رہی ہے ، جو تعلیم کو سائینس اور ریاضی سے منسلک نہیں کرتی۔ان مدرسوں کو چلانے والے ان ریاستوں میں ان پڑھ آبادیوں کے سہارے اہم سیاسی مقام حاصل کر چکے ہیں جن سے حکومتیں ان پر ہاتھ ڈالنے کی جرات نہیں کرتیں۔
ہندوستانی مسلمانوں کی خوش قسمتی تھی کہ انہیں سر سید احمد خان جیسا روشن خیال قائد ملا جس نے ہندوستان کے مسلمانوں کو اس وہابی عقیدہ سے جھنجھوڑ کر نکالنے کی کوشش کی، اور اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوا، لیکن آج بھی پاکستان، بھارت اور جنوبی ایشیا کی مسلمان ریاستوں میں ان پڑھوں کی تعداد تعلیم یافتہ سے زیادہ ہے۔اور تعلیم کی عمومی کمی، خصوصاً سائینسی تعلیم کی کمی اور تعلیم بھی جو دی گئی اس میں علم کے حصول سے زیادہ دفتری بابو بنانے پر زیادہ زور تھا۔ اس کے نتیجے میں آج تک نہ تو اسلامی ریاستوں میں کوئی عالمی معیار کی درسگا ہ بن سکی ، اور نہ ہی سائینسی ایجادات کی کوئی قابل غورپیش ورفت دیکھی گئی۔ سب اسلامی حکومتوں میںعلم حاصل کرنے پر نہ بہت وسائل لگائے جاتے ہیں اور نہ تحقیق پر۔ جس کے نتیجہ میں مسلمان ملکوں سے شاذ ونادر ہی کوئی مسلمان سائینسدان اور محقق کوئی ایسا کارنامہ سر انجام دیتا ہے کہ اسے نوبل پرائزسے نوازا جائے۔اور اگر ایک پاکستانی سائنسدان کو نوبل پرائز ملا بھی تو اس کو ہم نہ مسلمان مانتے ہیں اور نہ پاکستانی۔۵۷ اسلامی ممالک میں سے صرف ایک پاکستان ہے جس نے ایٹمی ہتھیار بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے جس کی وجہ سے یہ ملک مطعونِ زمانہ بنا ہوا ہے۔اور اس کی پیدائش سے ابتک اس کو بیرونی اور اندونی حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ فلسطینیوں کو ان کے اپنے ملک سے ملک بدر کیا گیا۔ جو رہ گئے انہیں عام انسانی حقوق بھی نہیں دئے جاتے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے ، خصوصاً ۱۱ ستمبر 2001 سے مسلمانوں پر جو آگ برسائی گئی ہے اس نے رستے بستے ملک، جو ترقی کی راہ پر گامزن تھے انہیں تباہ و برباد کر دیا گیا۔ عراق، لیبیا اور شام کے مسلمانوں کو صرف اسرائیل کی خوشنودی کے لیے تختہ مشق بنایا گیا۔ افغانستان جو ایک پسماندہ ملک تھا اور روسیوں کے ساتھ جنگ میں مٹی کا ڈھیر بن گیا تھا اس کو طالبان کے خلاف کاروائی میں زمانہء قدیم کا کھنڈر بنایا گیا۔ برما کے مسلمانوں کو اپنے گھروں میں نظر بند کر دیا اور ان کے انسانی حقوق کو پائمال کیا۔کشمیر سے باہر بھارت میں مسلمانوں کو اک دکا پکڑ پکڑ کر ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یہ تو مشتے از خروارے ہے۔ امریکہ ا وریوروپ میں تمام مسلمانوں کو دہشت گرد سمجھا جاتا ہے ۔ ان کے نبی پاک کے خاکے بنا کر ان کی تضحیک کی جاتی ہے۔ جب مسلمان احتجاج کرتے ہیں تو انہیں ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔ مسلمان تقریباً ہر غیر مسلم ریاست میں تختۂ مشق بن رہے ہیں اور ان کی داد رسی کے لیے سوائے چند آوازوں کے کوئی طاقتور قوم نہیں ابھرتی۔ ایسا کیوں ہے؟ مسلمان کیوں دنیا میں ایک درجہ سوم کا مذہبی طبقہ بن گئے ہیں؟ کیا مسلمانوں کی اس حالت زار کو صرف خادم ہی محسوس کرتا ہے یا اور بھی اس سے بہتر دانشمند اور ہمدرد بھی ہیں جو ان معاملات سے نا خوش ہیں؟ وہ ان مسائل کا کیا علاج بتاتے ہیں؟
مستقبل کا مورخ جب کبھی امت مسلمہ کے عروج و زوال کی داستان لکھے گا تو اس میں بہت کچھ لکھا جائے گا۔ اس راقم کے مطابق، مسلمانوں کی دنیا میں پسماندگی کی بڑی وجہ تعلیم کی کمی ہے اور اس وجہ سے سائینسی اور صنعتی ترقی نا ہونے کے برابر ہے۔اکثر ممالک میں اقتصادی ترقی بیرونی امداد کی مرہون منت ہے۔ بہت سے اسلامی ممالک کے سر براہان نے ملک کی خدمت کو پس پشت ڈال کر اپنی جیبیں بھریں۔ مسلمانوں کی اس سے بڑی بد قسمتی کیا ہو سکتی ہے؟ اور جب ملک کا سربراہ کرپٹ ہو تو اس کے مصاحبین اور کارکن کیا کچھ نہیں کرتے ہونگے؟ جب ملک کے خزانے لوٹے جائیں تو عوام کی ضروریات کیسے پوری ہوں گی؟ کیا یہی وجہ نہیں ہے کہ مسلمان ممالک کی اکثر آبادی بنیادی اور ثانوی تعلیم، صحت کی بنیادی سہولیات، ہسپتالوں اور حفظ عامہ کی سہولتوں جیسے پینے کا صاف پانی، لیٹرینز، خالص خوراک، مکانیت، اور روزگار جیسی ضروریات زندگی سے محروم ہوتی ہے۔ غیر مسلم قومیں کتنا آگے جا چکی ہیں،صرف اس لئے نہیں کہ ان پر مسلمانوں کی طرح دہشتگردی کا الزام نہیں لگتا۔یا اس لیے کہ ان کو امیر عیسائی ملک بڑھ چڑھ کر امداد دیتے ہیں۔بلکہ سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلواتے ہیں۔
سنی مسلمانوں کے چار اماموں، مالک، شافعی، ابو حنیفہ اور حنبل، جنہوں نے مذہب اسلام کی تعریف کی، انہوں نے اسلام کو پانچ عقاید تک محدود کر دیا، جو بیشک قران سے ماخوذ تھے۔ ہماری مراد ایمان یا وحدانیت، نماز، روزہ، حج اور زکوۃ۔اگر کوئی شخص ان پانچ ارکان کو تسلیم کرتا ہے اور ان پر عمل کرتا ہے، تو وہ مسلمان ہے۔ لیکن مسلمانوں کی بد قسمتی سے ان حضرات نے قران میں مندرج ان احکامات کو اسلام کاجزو نہیں بنایا جنہیں روز مرہ زندگی میں مسلمانوں کے معاملات میں اہم سمجھا گیا۔ جیسے یتیموں کے ساتھ سلوک، عورتوں کے ساتھ حسن سلوک، سچ بولنا،علم حاصل کرنا،مسلمانوں میں اتحاد رکھنا، عوام سے مشورہ کرنا،ملک میں جھگڑا فساد نہ کرنا، والدین سے اچھا سلوک، اپنے حالت خود سدھارنا، جو وعدہ کرنا اس کو پورا کرنا،قرابت داروں، یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، غرور نہ کرنا،آواز کو اونچا نہ کرنا،صحیح اور سیدھی بات کرنا، چغلی نہ کھانا، کسی قوم اور گروہ کا تمسخر نہ اڑانا، حکام کو رشوت نہ دینا، تجارت میں پورا تولنا، وغیرہ۔یہی وہ اللہ کے احکام ہیںجن سے اسلامی معاشرہ بنتا اور سنورتا ہے۔ان احکامات پر عمل نہ کرنے سے معاشرے میں ہر طرح کی برائیاں پیدا ہوتی ہیں، لیکن ہمارے مذہبی علماء نے ان احکامات پر زور دینا مناسب نہیں سمجھا۔اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہی مسلمانوں کی پستی کی کچھ وجوہات ہو سکتی ہیں۔
مسلمانوں نے جدید مغربی تعلیم کو مسترد کر کے قوم کے ساتھ ظلم کیا۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس ہیچمدان کی نظر میں کچھ مفروضہ ہیں جوپیشِ خدمت ہیں : جب یہودیوں نے رومن گورنر پر دباؤ ڈال کر یسوع مسیح کو صلیب پر چڑھا دیا تو ان کے پیرو کار وں نے دیکھا لیکن مجبوراً وہ حضرت عیسٰی کو نہیں بچا سکے۔ جب مسیح کے ماننے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھنا شروع ہوئی تو یہودیوں کو فکر لاحق ہوئی کہ ایک نہ ایک دن وہ ہم سے اس کا بدلہ ضرور لیں گے۔چنانچہ کچھ دانا یہودیوں نے عیسائیت قبول کر لی اور ان میں عالم کا درجہ حاصل کر لیا۔ اس طر ح انہوں نے مسحییت کے عقاید میں، بذریعہ انجیل رد و بدل کیا، جیسے یہ کہ مسیح نے اپنی جان اپنے پیروکاروں کو بچانے کے لیے دی۔ انسان بنیادی طور پر گناہ گار پیدا ہوتا ہے ۔ جب وہ عیسٰی کا صلیب پر جان دینے پر ایمان لاتا ہے تو وہ نو زائیدہ کی طرح ہو جاتا ہے۔ اس طرح یہودی اس گناہ سے بچ گئے۔دوسرا انہوں نے عیسائیوں کو یقین دلایا کہ ان کا مذہب انہیں تجار ت بشمول بینکنگ کی اجازت نہیں دیتا ۔ یہ کام یہودیوں کے لیے ہیں۔اب کہا جاتا ہے کہ اسلام کے پھیلنے سے بھی یہودیوں کو خطرہ محسوس ہوا۔ ان کے چند داناؤں نے اسلام قبول کیا اور براہ راست یا اماموں کے توسط سے مسلمانوں کو صرف دینی تعلیم حاصل کرنے کا حکم سنایا تا کہ یہ جاہل رہیں۔ دوسرا انہوں نے کچھ خود ساختہ احادیث کو شامل کیا جن سے مسلمانوں کو نقصانات ہوئے۔تیسرا، انہوں نے کچھ ایسی روایات شامل کیں جن سے تفرقات بڑھے۔نئے نئے فرقہ بنے۔کیا یہ ممکن ہے کہ ان میں سے کچھ مسلم نما یہودیوں نے اماموں کی راہنمائی کی یا ان اماموں کی کڑی ان سے ملتی تھی؟یہ مفروضات صحیح ہیں یا غلط، ان عقائدنے مسلمانوں کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا۔ اور ان عقائد میں توہین رسا لت سے متعلق احادیث بھی شامل ہو سکتی ہیں۔
راقم اعتراف کرتا ہے کہ اس کا علم محدود ہے۔ اور اس خیال آرائی سے کسی کی دل آزاری نہیں ہے۔ لیکن اس کے ساتھ اس کی دلی خواہش ہے کہ اسلامی حکماء اور عالم اسلامی تاریخ کو از سر نو کھنگالیں، اور مسلمانوں کے عروج و زوال پر ایک حتمی تحقیق کریں اور اس کے نتائج سے مسلمان امہ کو خبردار کریں تا کہ غلط عقاید کی تصیح ہو سکے۔ ہو سکتا ہے کہ اس تحقیق کے نتیجہ میں، اسلام میں تفرقہ بازی کا بھی خاتمہ ہو جائے؟