اسد قیصر کا 11نومبر کو بلایا ہوا اجلاس کیا سیاسی مسائل کو حل کر پائے گا؟

243

جب یہ کالم آپ پڑھ رہے ہوں گے اس وقت تک سپیکر قومی اسمبلی کا کمیٹی روم میں بلایا ہوا اجلاس ختم ہو چکا ہو گا، ابھی تک جو خبر ہے کہ عمران خان اس اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے بلکہ ان کی جگہ شاہ محمود قریشی، اسد عمر، شبلی فراز اور دوسرے لوگ شرکت کریں گے، ن لیگ سے مریم صفدر کو نہیں بلایا گیا بلکہ خواجہ آصف ن لیگ کی نمائندگی کریں گے، دوسری پارٹیوں کے نمائندے بھی مدعو تھے، اس وقت سب سے بڑا مسئلہ سیاسی بداعتمادی کا ہے، پی ڈی ایم نے مریم کی ہدایت پر ایک سخت گیر موقف اپنایا ہوا ہے، مریم کو ہدایت نواز شریف سے مل رہی ہے، نواز شریف گوجرانوالہ اور کوئٹہ میں سیاسی تقریریں کر کے اپنا سیاسی کردار ملک سے ختم کر چکے ہیں، اب ان کے پاس ایک ہی رٹ رہ گئی ہے مجھے کیوں نکالا؟ یا ووٹ کو عزت دو، مجھے کیوں نکالا کا جواب تو سپریم کورٹ نے پہلے ہی دے دیا ہے، ووٹ کو عزت دو کے جواب میں ان کی پارٹی کا موقف ہے نوٹ کو عزت دو، لوٹ مار کرو اور ملک سے پیسہ باہر لے جائو،نواز شریف قمر جاوید باجوہ اور جنرل فیض حمید کو جتنا بدنام کرنا تھا وہ کر چکے لیکن اب فوج کی باری ہے وہ کس طرح ان کو جواب دیتی ہے، فوج بہت آہستہ آہستہ اقدام کررہی ہے اور جواب دینے کی تیاری کررہی ہے، یہ 11نومبر کا اجلاس بھی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے فوج دوسری پارٹیوں کو بھی اپنے ساتھ ملا کر نواز شریف کو جواب دینا چاہتی ہے، سب سے اہم پارٹی پیپلز پارٹی ہے اور بلاول بھٹو ہے، پاکستان کی موجودہ سیاسی قیادت میں زرداری سب سے شاطر اور چالاک سیاستدان ہے، وہ نواز شریف اور ن لیگ سے ہمیشہ کے لئے اقتدار چھیننے اور مریم کو سیاست سے آئوٹ کرنے کیلئے چالیں چل رہا ہے، اس نے فوج سے ڈائریکٹ رابطہ رکھا ہوا ہے، وہ پی ڈی ایم اور ن لیگ کا کندھا استعمال کر کے نواز شریف اور مریم کو کافی سالوں کے لئے سیاست سے آئوٹ کر دے گا، بلاول کو وہ بہت تیزی سے آگے لایا ہے اور اس کو مریم کے مقابل لا کھڑا کیا ہے، عوامی سطح پر اور سیاسی سطح پر نواز شریف نے ن لیگ کو کئی سال پیچھے کر دیا ہے، نواز شریف نے فوج کو بدنام کر کے کچھ بھی حاصل نہیں کیا بلکہ بہت کچھ کھو دیا ہے، اس کی پارٹی میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہو گئی ہے، بلوچستان میں اس کی پارٹی کا صفایا ہو گیا ہے، قادر بلوچ اور ثناء اللہ زہری کے الگ ہو جانے کے بعد پارٹی عملاً ختم ہو گئی ہے اس صوبہ میں۔
بات ہورہی تھی 11نومبر کے اجلاس کی، فوج کے سامنے بہت بڑا مسئلہ بھارت کے ساتھ جنگ کا ہے جو کسی وقت بھی شروع ہو سکتی ہے، چائنہ آہستہ آہستہ دنیا کی سپرپاور بننے جارہا ہے، وہ کسی قیمت پر بھی بھارت کو برداشت نہیں کرے گا، بھارت اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، بھارت کا ٹوٹنا اور کشمیر کا آزاد ہونا طے ہے، اس کے لئے جنگ ضرور ہو گی، فوج کی سب سے بڑی پریشانی یہی ہے، وہ ہر قیمت پر ملک میں امن رکھنا چاہتے ہیں، عمران خان کسی قیمت پر اپوزیشن سے بات چیت کرنے کیلئے تیار نہیں ہے، یہ کام فوج کو انجام دینا پڑ رہا ہے، ملک کی سلامتی فوج کو سب سے زیادہ عزیز ہے، بھارت پی ا وکے کے نام پر پاکستان کو مزید توڑنا چاہتا ہے لیکن چائنا نے اس کو روک دیا ہے، وہ بھارت کو طاقتور نہیں دیکھ سکتا، وہ سی پیک کی وجہ سے پاکستان کو محفوظ اور مضبوط رکھنا چاہتا ہے اسی لئے وہ پاکستان کیساتھ ہر حال میں کھڑا ہے، مولانا فضل الرحمن اور نواز شریف نے سیاسی طور پر انتقامی کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے اور عمران خان کو اقتدار سے ہٹانا چاہتے ہیں جو وہ کر نہیں سکتے ہیں، فوج کبھی بھی عمران کو اقتدار سے نہیں ہٹائے گی، وہ بلاول کو آگے بڑھا کر مریم اور مولانا کو شکست دینا چاہتی ہے،وہ بلاول کو آئندہ اقتدار کیلئے تیار کررہے ہیں، اگر کسی وقت عمران خان کو کچھ ہوتا ہے تو بلاول متبادل قیادت کے لئے موجود رہے، شاہ محمود اور دوسرے لوگ پی ٹی آئی میں جو امید لگائے بیٹھے ہیں کہ عمران خان کے بعد اقتدار ان کے پاس آ جائے گا یہ ان کی بھول ہے، آئندہ اقتدار پیپلز پارٹی کے پاس آئے گا، فوج ہر قیمت پر گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ بنانا چاہتی ہے، اس کے لئے سب کو راضی کرنا ضروری ہے، دیکھتے ہیں اس اجلاس کے بعد سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔