کہ جمہوری تماشہ ہو!!

278

ہمارے وہ پاکستانی جنہوں نے امریکہ کو اپنا وطنِ ثانی بنایا ہے اگر یہ گلہ کریں کہ جس جاگیردارانہ مزاج کے سیاسی کلچر کو خیرباد کہہ کے وہ یہاں آکر آباد ہوئے ہیں لگتا ہے کہ ان کا پیچھا نہیں چھوڑا اور وہ ان کے تعاقب میں یہاں پیچھے پیچھے چلا آیا ہے!یہ حرکتیں تو پاکستان جیسے ان ممالک میں ہوتی ہیں اور یہ مناظر، جیسے جنابِ ٹرمپ اپنی اوچھی حرکتوں سے دنیا کو دکھارہے ہیں، تووہاں دیکھنے کو عام طور سے ملتے ہیں جہاں جمہوریت کی جڑیں مضبوط نہیں ہوتیں جبکہ امریکہ میں تو جمہوریت کا درخت بہت مضبوط اور توانا ہوچکا ہے اور ہونا بھی چاہئے کہ امریکہ جمہوریت کو اب کوئی ڈھائی صدیاں ہونے کو آرہی ہیں قائم ہوئے اور یہاں جمہوریت کی وہ شاندار روایات قائم ہوچکی ہیں جن پر امریکہ کو تو بجا طور پر فخر کرنا ہی چاہئے لیکن اس کی مثال تو دنیا بھر میں پیش کی جاتی ہے کہ جمہوریت اس سلیقہ سے کام کرتی ہے اور کام کرنی چاہئے!
امریکی جمہوریت کی سب سے روشن اور شاندار روایت یہ چلی آرہی ہے کہ جیسے ہی ہارنے والے امیدوار کو یہ اطلاع ملے کہ وہ ہار گیا ہے تو سب سے پہلا کام وہ یہ کرتا ہے کہ فون اٹھا کر جیتنے والے اپنے حریف کو مبارکباد دیتا ہے اور جب سے ٹیلیوثرن عام ہوا ہے وہ ٹی وی کے کیمروں کے سامنے جاکر اپنی شکست کا اعتراف کرتا ہے اور اپنے حریف کو جیتنے پر مبارکباد دیتا ہے اور دعا کرتا ہے کہ وہ اپنی صدارتی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا سکے! یہ روایت آج سے چار برس پہلے تک صحیح و سالم تھی، سلامت تھی، جب ۶۱۰۲ کے صدارتی انتخاب کا وہ نتیجہ سامنے آیا جس کی کسی کو توقع نہیں تھی اور ایک پراپرٹی ڈیلر اور ٹی وی پر ایک گھٹیا سا شو پیش کرنے والا ڈونالڈ ٹرمپ اپنی حریف، امریکہ کی ایک سابق خاتونِ اول اور انتہائی تجربہ کار ہلیری کلنٹن کے مقابلہ میں جیت گیا! اس وقت ہلیری کلنٹن نے ایک لمحہ کیلئے بھی یہ نہیں کہا کہ وہ اس حیرت انگیز نتیجہ کو قبول نہیں کرتیں یا یہ کہ ان کے خیال میں انتخابی عمل میں دھاندلی کی گئی ہے۔ انہوں نے فوری طور پر حادثاتی صدر کو کھلے دل سے مبارکباد دی اور ان کی اپنے نئے منصب میں کامیابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا!ہلیری کلنٹن نے جو کیا وہ انوکھا نہیں تھا بلکہ ان کا عمل وہی تھا جو روایات اور اخلاقیات کا تقاضہ تھا اور جس کی ان سے توقع تھی۔
دراصل یہ روایات اوراخلاقیات کے ساتھ ساتھ، بلکہ شاید ان سے کچھ زیادہ ہی، ظرف کی بات ہے کہ شکست کھانے کے بعد کوئی اپنی ہار کو کس طرح قبول کرتا ہے۔ انسان منصب اور دولت دو ہی چیزوں سے تو سب سے زیادہ آزمایا جاتا ہے کہ اس میں پیسے اور منصب کو سہنے اور ان کے ملنے کے بعد اپنی انسانیت کو برقرار رکھنے کا ماد ہ بھی ہے کہ نہیں۔ اپنی صدارت کے چار برس میں ٹرمپ نے شاید کسی بچے کو بھی اپنی کم ظرفی کے باب میں مغالطہ میں نہیں چھوڑا۔ دنیا غلط نہیں کہتی کہ امریکہ کی صدارت کا منصب ہماری دنیا میں جہاں جہاں جمہوریت کا دور دورہ ہے سب سے بڑا اور سب سے حساس ذمہ داری کا منصب ہے اور اسی اعتبار سے اس منصب کے تقاضے وہ ہیں جن کا اپنا ایک الگ ہی معیار ہے۔ صدر بارک اوباما کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہ پہلے رنگدار یا غیر سفید فام تھے جو اس منصب پر فائز ہوئے اور اس اعتبار سے ان سے جو توقعات تھیں وہ غیر معمولی تھیں ان توقعات سے کہیں زیادہ تھیں جو ایک سفید فام سے منسوب کی جاتی ہیں اور ان کا آٹھ برس کا دورِ صدارت اس پر گواہ ہے کہ انہوں نے اس کو کس خوش اسلوبی سے نبھایا اور اپنے عمل سے ہر اس خدشہ کو رد کیا جو نسل پرست سفید فاموں کے تنگ اذہان میں ہوسکتا تھا اور تھا بلکہ یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ نسل پرستوں کے تنگ ذہنوں میں آج بھی صدر اوباما کے متعلق بیشمار منفی خیالات ہیں اور یہ صرف اوباما کیلئے ہی مخصوص نہیں بلکہ نسل پرست ہر رنگدار کو حقیر اور کمتر انسان سمجھتے ہیں۔
یہی جنابِ ٹرمپ تھے جنہوں نے اوباما کے صدر منتخب ہونے کے بعد دو سال تک ان کے خلاف یہ ثابت کرنے کیلئے مہم چلائی کہ ان کے نسل پرست دماغ میں یہ شبہ کرید مچا رہا تھا کہ اوباما پیدائشی امریکی نہیں تھے بلکہ کینیا میں پیدا ہوئے تھے جہاں سے ان کے باپ کا تعلق تھا! تو ظرف کی کسوٹی پر ٹرمپ کا پورا نہ اترنا بھی کوئی تعجب کی بات نہیں۔ صدر بننے کے بعد سے ان کے عمل سے مسلسل اس ایک حقیقت کا ثبوت فراہم ہوتا رہا کہ وہ نہ صرف نسل پرست تھے بلکہ اپنے اس خام جنونِ برتری نے ان کو صرف سفید فاموں کا صدر بنادیا تھا۔ صدارت جیسے ذمہ داری کے منصب کو وہ مذاق سمجھتے رہے اور اس کے ساتھ ویسا ہی کھلواڑ بھی کرتے رہے۔ اپنے مخالفین اور حریفوں کے متعلق ان کی ہرزہ سرائی معمول کی بات بن گئی تھی۔ ان حالیہ انتخابات میں اپنے حریف جو بائیڈن کے خلاف انہوں نے جس طرزِ تخاطب کو اپنایا اور بائیڈن کا مذاق اڑانے کیلئے جو تضحیک آمیز زبان اور جملے استعمال کئے ان کا ذکر کرنا بھی ہمارے خیال سے بد تہذیبی ہوگی۔ قصہ مختصر یہ کہ انہوں نے علی الاعلان یہ کہا کہ ان کا مقابلہ ایک بدترین انسان سے تھا اور یہ کہ وہ اگر اس مقابلہ میں ہار گئے تو ان کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ اس کے جواب میں کیا کرینگے؟
تادمِ تحریر ان کے بقول اپنے مقابل بد ترین حریف سے ہارنے کے دو دن بعد بھی انہوں نے نہ اپنی شکست کو تسلیم کیا ہے اور نہ ہی نو منتخب صدر بائیڈن کو مبارکباد دی ہے۔ اب بھی بس ایک ہی رٹ ہے کہ وہ الیکشن جیتے ہیں اور دھاندلی سے انہیں اس انعام سے محروم کیا جارہا ہے! ٹرمپ کی یہ بالک ہٹ باعثِ حیرت نہیں ہے، بالکل نہیں ہے بلکہ حیرت ہوتی اگر وہ اس کے خلاف کرتے کیونکہ انسان کا کردار تو اس کے نام کے ساتھ چلتا ہے اور گذشتہ چار برس میں دنیا ٹرمپ کی فطرت اور طبیعت کو بہت اچھی طرح سمجھ چکی ہے۔ ان کا کردار اظہر من الشمس ہے۔ ایک اپنے سحر میں مبتلا شخص جسے لعن طعن کرنے میں تسکین ملتی ہے اور جس کے تکبر اور خود نمائی کی تلوار سے دوست زیادہ اور دشمن کم مجروح ہوئے ہیں۔ اس انتخاب کے بارے میں وہ مہینوں پہلے فیصلہ صادر کرچکے تھے کہ وہ اس کے نتیجہ کو صرف اس صورت میں قبول کرینگے جب جیت ان کی ہو ورنہ ہار جانے کی صورت میں وہ انتخابی نتیجہ کو رد کردینگے اور یہی وہ کر بھی رہے ہیں۔
تو ان کے حق میں کم از کم یہ تو وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے حریفوں اور ناقدین کو بھی مایوس نہیں کیا۔ لیکن ان کی بالک ہٹ امریکی جمہوری روایات کو کس طرح مجروح کررہی ہے اس کا اندازہ انہیں تو بالکل ہو نہیں سکتا اسلئے کہ اپنی ذات سے عشق اور جنون میں مبتلا فرد اپنی ذات سے باہر کسی اور کے بارے میں سوچتا ہی نہیں۔ اس میں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت ہی ختم ہوچکی ہوتی ہے۔ امریکہ میں کرونا وائرس کی وبا سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوچکی ہیں اور ان ہلاکتوں میں اس افسوسناک اضافہ کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بطورِ صدر ٹرمپ کے ہاں ان کی اس ہنگامی صورتِ حال میں کیا ذمہ داریاں تھیں اور کیا فرائض ہونے چاہئے تھے اس کا انھیںکوئی ادراک ہی نہیں ہوا اور وہ اس صورتِ حال کی سنگینی کو کبھی سمجھ ہی نہیں سکے بلکہ الٹا انہوں نے ماہرینِ صحت کا مذاق اڑایا۔ اپنے حریف بائیڈن کو وہ ہر موقع محل پر طعنے دیتے رہے اس بات کیلئے کہ بائیڈن جس تقریب میں جاتے تھے منہ پر ماسک لگا کر جاتے تھے جبکہ ٹرمپ ماسک لگانے کو اپنی توہین اور اپنی مردانگی کے خلاف طعنہ گردانتے تھے! امریکی عوام نے اپنی پہلی فرصت میں، پہلا موقع میسر آتے ہی ٹرمپ کو ان کی فرائض میں واضح ناکامی پر اپنے ووٹ کی طاقت سے رد کردیا ہے اور ان کی شکست اس کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ امریکی عوام انہیں قیادت کا اہل نہیں سمجھتے۔ لیکن ٹرمپ امریکی عوام کی اس جرأت کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں اور ان کا یہ طفلانہ فعل دنیا بھر میں امریکہ کی بدنامی اور رسوائی کا سبب بن رہا ہے جس کا انہیں کوئی شعور اور ادراک نہیں ہے۔
امریکہ کے دوست شرم سے منہ چھپاتے پھر رہے ہیں اور دشمنوں کی تو جیسے عید ہوگئی ہے اسلئے کہ اب وہ وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ امریکی جمہوریت ایک مذاق ہے اور ٹرمپ کا طفلانہ رو یہ اس کا منہ بولتا اعلان ہے۔ امریکی جمہوریت کے ناخدایان آجتک دنیا بھر کے غیر جمہوری معاشروں اور مطلق العنان حکمرانوں کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے آئے ہیں لیکن اب ان کے اپنے ملک میں ان کے اپنے صدر کے ہاتھوں جمہوریت ایک تماشہ بن کر رہ گئی ہے۔ ہمیں ٹرمپ کی ہٹ دھرمی دیکھ کر اپنے حکیم الامت علامہ اقبال یاد آگئے، ان کی حکمت اور بصیرت یاد آگئی اور حسنِ اتفاق کہ ۹ نومبر ان کی سالگرہ کی تاریخ بھی ہے۔ تو علامہ کی دور رس نظروں نے بہت پہلے دیکھ لیا تھا اور ان کی حکمت نے یہ ادراک کرلیا تھا کہ مغرب کی تہذیبِ کہن ایک دن اپنے ہی ہاتھوں سے خودکشی کریگی اور وہ جمہوری نظام جس کی چمک دمک اہالیانِ مشرق کی آنکھوں کو خیرہ کردیتی ہے وہ بھی فسطائیت کا شکار ہوجائے گا۔ علامہ کا وہ آفاقی شعر ہمیں اس صورتِ حال میں جو ٹرمپ نے اپنی ہٹ دھرمی سے بپا کی ہے بطورِ خاص پکار رہا ہے:
جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشہ ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی!
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اقبال ملائیت کے نظام کی ترویج یا تائید کررہے ہیں بلکہ یہ ہے کہ جب کسی بھی طرزِ حکمرانی سے وہ روح نکل جائے جو ہر مذہب کی بنیاد ہے، اساس ہے، یعنی انسانیت کا احترام اور شائستگی، انسانوں کے درمیان مساوات اور برابری کا سلوک اور قانون کی بالا دستی اور احترام تو پھر وہ چنگیزی رہ جاتی ہے اور چنگیزی تاریخِ انسانی میں ظلم و بربریت کی علامت ہے۔!
ٹرمپ کا رویہ اور یہ اصرار کہ وہ بھاری اکثریت سے ہارنے کے باوجود فاتح تسلیم کئے جائیں اس سوچ کی غمازہے کہ جو ہم چاہتے ہیں وہی کیا جائے اور عوامی رائے اور فیصلے کی ہماری سوچ کے سامنے کوئی اہمیت اور حقیقت نہیں ہے۔ یہ بیمار سوچ ہے اور یہ غیر جمہوری فکر ہے جس کا امریکہ جیسے جمہوری معاشرے میں پیدا ہونا حیرت سے بڑھ کر فکر کا مقام ہے۔ ٹرمپ کو اس انتخاب میں بھی، ان کی تمام تر اور منہ بولتی ناکامیوں کے باوجود، سات کڑوڑ لوگوں نے ووٹ دیا ہے جس کا صرف اور صرف ایک ہی مطلب ہے اور وہ یہ کہ ٹرمپ ایک فرد نہیں رہا بلکہ اس کی آمرانہ اور متکبرانہ سوچ امریکی عوام کے ایک بڑے حلقہ میں پذیرائی پاچکی ہے۔ ٹرمپ کا زوال نوشتۂ دیوار ہوچکا ہے لیکن امریکی جمہوریت کیلئے یہ لمحۂ فکریہ ہے ، اور بہت بڑا لمحۂ فکر ہونا چاہئے، کہ ان کی بیمار اور غیر جمہوری فکر امریکہ کے کڑوڑوں لوگوں سے پذیرائی پاچکی ہے اور امریکی جمہوریت، بلکہ امریکی سالمیت، کیلئے یہ مستقبلِ قریب میں بہت بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ !