غداروں کی کمی نہیں!!

257

برطانوی ایک چالاک اور شاطر قوم ہیں، یہ جہاں گئے اپنی کالونیاں بنا لیں، تاجر کا بھیس بدل کر قابض ہوتے گئے اس لئے ایک زمانے میں کہا جاتا تھا کہ تاج برطانیہ کا سورج کہیں غروب نہیں ہوتا، سیدھے بھولے عوام کو چکمہ دے کر غدار بنایا اور اپنا الوسیدھا کیا، ہندوستان آئے تو بنگال میں انہیں میر جعفر مل گیا، اور دکن میں میر صادق بہت کام آیا، یہ دو ایسے بڑے غدار تھے کہ انہوں نے انگریزوں کو صدیوں تک کے لئے ہندوستان پر مسلط کر دیا، بادشاہ کو معزول کیا گیا، جلاوطن کر کے رنگون بھیج دیا گیا، شہزادوں کے سر قلم کر دئیے گئے، اب کون سر اٹھاتا، انہوں نے مقامی لوگوں سے جو سلوک کیا وہ تاریخ میں محفوظ ہے، میر جعفر اور میر صادق تو واصل جہنم ہوئے لیکن غداری کی مثال چھوڑ گئے جس نے ملک کی چولیں ہلا کر رکھ دی تھیں اور گوروں نے مقامی لوگوں میں قومیتوں کے خلاف نفرتوں کا وہ بیج بویا جس کے اثرات آج بھی قائم ہیں۔
انگریز کتا بھی خریدتا تو اس کا شجرہ معلوم کرتا تھا کم نسلا جانور بھی گوارہ نہیں کرتا تھا اس طرح جب سرکاری اہم عہدوں پر تقرری کرتا تو خفیہ طور پر پورے خانوادے کی انکوائری کروالیتا تھا، کسی میراثی، ڈھولچی کو عہدے نہیں ملا کرتے تھے، جیسے آرمی کے ایک (ر) بریگیڈیئر صاحب کیپٹن(ر) صفدر اعوان کے بارے میں فرمارہے تھے کہ مانسہرہ کا میراثی ہے، اس طرح ایاز صادق نے بھی غداری کر کے اپنی مٹی پلید کروائی ورنہ کسی کو ان کی وراثت کا کیسے پتہ چلتا، موصوف کے والد اپنے شہر کی سبزی منڈی میں ملازمت کرتے تھے، نام میں شیخ لگاتے تھے اور اپنے آپ کو آرائیں بھی کہتے تھے، صاحبزادے کی شادی کسی سرداروں کے خاندان میں ہو گئی تو انہوں نے اپنے نام کے آگے سردار ایاز صادق کر لیا، انہیں اس ملک نے بڑی عزت دی، اسمبلی کے سپیکر بھی رہے، مگر سوچ وہی گھٹیا رہی رہی کہتے ہیں نہ کہ ’’اصل سے دغانہیں، کم اصل سے وفا نہیں‘‘ تو اس غدار نے اپنی اصلیت عیاں کر دی، فوج کو گالی دینے کا مطلب اپنی ماں کو گالی دینے کے مترادف ہے، یہ دھرتی ماں کے محافظ عوام کے دلوں کی دھڑکن ہیں، پاکستانی عدلیہ اگر سخت قوانین نافذ نہیں کرے گی اس طرح کے ملعون پیدا ہوتے رہیں گے، نواز شریف نمک حرام جو تین دفعہ عوام کی بے وقوفی اور لالچ کا فائدہ اٹھا کر وزیراعظم بنا اور ایسا ڈاکہ ڈالا کہ سب کچھ صاف کر دیا، عوام اب اپنے شعور کو بیدار کریں اور کم نسلے ڈاکو، ڈکیت کو منتخب نہ کریں۔
ایک دانا بیچ چوک پر کھڑے سوکھی روٹیاں بڑے شوق سے چبارہے تھے، ایک شناسا کا گزا ہوا تو کہنے لگے ’’ حضرت یہ کیا کررہے ہیں، لوگ کیا کہیں گے‘‘ ’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘ دانا نے جواب دیا اور مزید کہا ’’لوگ تو بیل ہیں یہ کیا کہیں گے‘‘۔ شناسا نے پوچھا وہ کیسے ! ’’میں تمہیں دکھاتا ہوں‘‘ دانا نے جواب دیا اور گزرتے ہوئے لوگوں کو پکارنے لگے اور کہنے لگے ’ لوگو میرے بات سنو! میں تمہیں ایک بڑی اچھی بات بتاتا ہوں‘‘ لوگ ہجوم کی صورت میں جمع ہو گئے تو بزرگ نے کہا ’’جو اپنی زبان کی نوک سے اپنی ناک کی پھنگی چھو لے گا وہ جنت میں جائے گا‘‘ دانا کی زبان سے یہ الفاظ ادا ہی ہوئے تھے کہ سب لوگوں نے زبان سے اپنی ناک چھونے کی کوششیں شروع کر دیں، دانا نے شناسا سے کہا تم نے دیکھا میں نے صحیح کہا تھانہ کہ عوام تو بیل ہیں!شناسا نے سر جھکا لیا تو اس لطیفے کو لکھنے سے مقصد یہ ہے کہ پاکستان کے عوام بھی بیل ہی ہیں جو بے سوچے سمجھے یا کسی لالچ میں آ کر ووٹ دے آتے ہیں اور پھر سالوں سر پیٹتے رہتے ہیں، بنیاد کی اگر ایک اینٹ بھی ٹیڑھی رکھ دی جائے تو پوری عمارت خراب ہو جاتی ہے، عوام کو اپنی فلاح اور بہبود کے لئے اپنی آنے والی نسلوں کی راہیں ہموار کرنے کے لئے بہت سوچ سمجھ کر لیڈر کا چنائو کرنا چاہیے، ورنہ اسی طرح ہمیشہ لٹتے رہیں گے اور ملک کا اللہ حافظ ہے۔
روس اور امریکہ کی افواج کا جوسکریپ کا ملبہ کابل میں پڑا ہے یعنی وہ جنگی ساز و سامان جو جنگ میں تباہ ہوا حسین نواز چاہتا تھا کہ وہ خریدے اور بھارت میں سٹیل مل لگائے اور وہاں فوجی اسلحہ تیار کرے، اس سکریپ کو پاکستان کے راستے بھارت لے جانا تھا، جنرل کیانی نے اسے طورخم کے بارڈر پرروک دیا چونکہ بھارت میں اس اسلحے کو تیار کرنے کے بعد پاکستان کے خلاف استعمال کیا جانا تھا، فوج نے روک دیا پھر راحیل شریف آئے اور انہوں نے بھی اس سکریپ کو براستہ پاکستان بھارت جانے سے روک دیا، یہ سکرپپ ابھی تک کابل میں پڑا ہے، کچھ غدار پاک افغان بارڈر پر دہشت گردوں سے بچائو کے لئے جو باڑھ لگائی جارہی ہے اسے بھی اکھاڑنے کی باتیں کررہے ہیں، عوام پوری طرح غداروں اور ڈاکوئوں سے آگاہ ہو چکے ہیں اور چیخ رہے ہیں کہ انہیں سخت سے سخت سزائیں دی جائیں، اسلامی قوانین بھی ان کے لئے عبرت ناک سزائیں تجویز کرتے ہیں مگر ہمارا عدل وانصاف کا ترازو ڈانواں ڈول ہے۔ اسی وجہ سے جرائم کا قلع قمع نہ کیا جا سکا، بہرحال عوام نے ابھی آس کا دامن نہیں چھوڑا، ایسا نہ ہو کہ ان کی آس ٹوٹ جائے اور یہ قانون اپنے ہاتھ میں لے لیں کیونکہ اب مزید وعدوں پر انہیں ٹرخایا نہیں جا سکتا۔
ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی دبنگ انٹری ، ویلکم ویلکم خوش آمدید، اب کی دفعہ تو ڈاکٹر صاحبہ برنال بھی لیکر آئی ہیں تاکہ پھولن دیوی اور ان کی ہم نام زر خرید کی اچھی طرح مالش کی جا سکے، بیچارے فیاض الحسن مرد ہونے کے ناطے یہ سب نہیں کر سکتے تھے، بڑی دبی زبان سے ان پر تبصرہ کرتے تھے، انہیں بھی اچھی جگہ بھیجا گیا ہے، ہو سکتا ہے وہ بھی شوباز اور حمزہ کی اچھی طرح خبر گیری کر سکیں گے، سارے قیدی ان قیدیوں کو حیرت کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے کہ یہ تو ہم سے کئی گنا بڑے ڈاکو ہیں پورا ملک کھائے بیٹھے ہیںپھر ایسا استقبال کیوں؟ فیاض صاحب انصاف کے پلڑوں میں توازن پیدا کیجئے!
مہنگائی کی صدائیں بلند ہورہی ہیں ،قابل غور بات یہ ہے کہ جنہوں نے ٹنوں کے حساب سے گندم اور چینی کی ذخیرہ اندوزی کررکھی ہے وہ بھی مہنگائی کے خلاف نعرہ لگانے والوں میں شریک ہیں، شیخ فیاض الدین جو احتجاج میں شریک تھے ان کے گودام پر چھاپہ مارا گیا تو 62509من چینی برآمد ہوئی تو صاحبو ان پر لعنت بھیجو اب تو ’’گلی گلی میں شور ہے ساری ن لیگ چور ہے‘‘