’’مجھے کیوں نکالا‘‘ ٹرمپ نواز شریف والی ہٹ دھرمی پر قائم ، ہلال پاکستان کے ایواڑڈ یافتہ بائیڈن کی جیت پر کشمیر میں خوشی لیکن بھارت میں صف ماتم

265

امریکی صدارتی الیکشن زبردست کانٹے دار مقابلے کے بعد عجیب و غریب سنسنی خیز صورتحال اختیار کر کے بالا آخر سابق نائب امریکی صدر بائیڈن کے سر پر فتح کا تاج رکھنے کا اعلان تو کر چکا ہے لیکن وائٹ ہاؤس میں بیٹھے امریکی صدر اپنی شکست ماننے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں اور امریکی جمہوری روایت کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے اور غیر قانونی انداز سے ڈالے گئے ووٹوں کے ذریعے ٹرمپ کی جیت کو ہار میں تبدیل کیا گیا ہے حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ ٹرمپ کے پاس اس الزام کو عوام میں قبولیت دلوانے کے لئے کوئی ثبوت بھی نہیں ہے اور خود اُن کی پارٹی کے رہنما بھی کہہ رہے کہ اگر ٹرمپ کے پاس کوئی ثبوت ہے تو ہمیں دکھائیں لیکن ٹرمپ نے عدالتوں میں دھاندلی کے خلاف کیس دائر کر دئیے ہیں مجھے تو یوں لگتا ہے کہ ٹرمپ نے نواز شریف والی رٹ لگانی ہے کہ’’ مجھے کیوں نکالا ‘‘
امریکی عوام نے تاریخ ساز ووٹ ڈالے ہیں آج تک امریکی تاریخ میں کسی صدارتی اُمیدوار کو چوہتر 74 ملین ووٹ نہیں ملے لیکن 77 سالہ بائیڈن نے یہ بھی کر دکھایااور ہاں آج تک کسی sitting صدر کو
71 ملین ووٹ نہیں ملے لیکن 74 سالہ ٹرمپ نے یہ بھی کر دکھایا۔اس وقت امریکی جمہوریت خطرے میں یوں دکھائی دے رہی ہے کہ اگر ٹرمپ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو پھر کیا ہو گا ؟؟ کیونکہ ٹرمپ عدالتوں میں نجانے کتنے عرصے تک دھاندلی کے کیسوں کو لٹکاتے رہیں۔ الیکٹرول کالج کے ووٹ بائیڈن ہی کو صدر بنا کر رہیں گے۔ ٹرمپ کو رو دھو کر وائٹ ہاؤس خالی کرنا ہی پڑے گا آپ ہمیں 0707-692-718 پر فون کر کے پاک یو ایس ٹریول @ جی میل ڈاٹ کام پر ای میل کر کے اپنی رائے ضرور دیں۔
جوبائیڈن کی جیت پر کشمیر میں خوشی جبکہ بھارت میں صف ماتم بِچھ گئی ، جوبائیڈن اخلاقی اقدارپر مبنی سیاست اور سویلین بالادستی پر یقین رکھتے ہیں، پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنے کے خواہشمند ہیں انہوں نے دومرتبہ پاکستان کا دورہ کیا اور ہلال پاکستان کے ایوارڈ سے بھی نوازا جاچکا ہے، جوبائیڈن کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے مخالف تھے، مودی سے حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔وہ پوری دنیا کی طرح پاکستان اور بھارت میں سیاست اور خطے کے حالات پر بھی اثرانداز ہوں گے، کیونکہ ڈیموکریٹک کی پالیسیاں اور سوچ مساوی نظام اور سویلین بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔جوبائیڈن جو کہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں پاکستان کا 2008ء اور 2011ء میں دوبار دورہ کرچکے ہیں، کیری لوگر بل کی مد میں پاکستان کوڈیڑھ بلین ڈالر کی امداد دلانے پر ان کو ہلال پاکستان کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔ اسی طرح پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر تنازع پر بھی ان کا غیرجانبدار مؤقف رہا ہے۔ انہوں نے 2019ء میں جب مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تبدیل کیا تو اس کی بھرپور مخالفت کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ اس حیثیت کو واپس کیا جائے۔اب ان کی جیت سے بھارت کے زیرتسلط کشمیر کی موجودہ صورتحال پر بھی مثبت اثرات پڑیں گے۔ جوبائیڈن کی جیت سے امریکی اسٹیبلشمنٹ کو ٹرمپ کی طرح انہیں دنیا میں متعارف کرانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اسی طرح پاک افغان ڈائیلاگ میں بھی جوبائیڈن نے اچھا کردار ادا کیا۔
نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن نے نسل پرستی اور شیطانیت کے خلاف جنگ کااعلان کیا ہے۔ڈیلاویئر میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب نسل پرستی کاخاتمہ کرنے کی جنگ کا وقت ہے، ہم لوگوں کو تقسیم نہیں متحد کریں گے اور امریکہ کو ایک بار پھر دنیا بھر میں قابل احترام بنائیں گے۔ جوبائیڈن نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ میں شیطانیت کا سنگین دور ختم ہونے دیا جائے، مخالفین کو دشمن کی طرح نہ دیکھیں، وہ بھی امریکی ہیں، انہیں امریکیوں کی طرح ہی دیکھیں، جنہوں نے مجھے ووٹ نہیںدیا ان کا بھی صدر ہوں، سخت بیانات کا سلسلہ ختم کیا جائے، کشیدگی کو کم کیا جائے اور ایک دوسرے پر دوبارہ نگاہ ڈالی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ جنوب ایشیائی تارک وطن کی بیٹی ملک کی پہلی نائب صدر بنی ہیں۔نومنتخب صدر کے بقول مڈل کلاس ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، انہیں مضبوط بنائیں گے۔عالمی وبا کورونا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نو منتخب امریکی صدر کا کہنا تھا کہ کورونا ٹاسک فورس کے لیے نامور سائنسدانوں کا اعلان پیر کو کروں گا۔اس موقع پر نومنتخب نائب صدر کمالا ہیرس نے کہا کہ الیکشن میں ڈالے گئے ہر ووٹ کو گنا گیا، امریکی عوام نے امید، اتحاد اور شائستگی کا انتخاب کیا۔کمالا ہیرس کا کہنا تھا کہ جمہوریت کے تحفظ کی کوششیں قربانیاں مانگتی ہیں،خواتین کاشکریہ جنہوں نے موجودہ نسل کے لیے راہ ہموار کی۔واضح رہے کہ جوبائیڈن20 جنوری 2021ء کو عہدہ صدارت پر براجمان ہوجائیں گے ،جو بائیڈن امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے صدر ہوں گے۔