امریکی تاریخ کے چار سیاہ ترین اور بھیانک سال جس دوران پوری دنیا میں امریکی اقدار اور وقار کو پامال کر دیا گیا!

227

خدا خدا کر کے آخر کار امریکی عوام نے متحد ہو کر امریکہ کے پہلے احمق ترین صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو گدی سے اتار دیا، اپنے گزشتہ چار سالہ دورمیں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے متنازعہ فیصلوں کا سلسلہ جاری رکھا، اندرونی طور پر میکسیکن بچوں پر پابندیاں لگانا اور امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر باڑ لگانا ایک بہت متنازعہ معاملہ رہا اور انہوں نے میکسیکن لوگوں کو چور، ڈاکو، قاتل اور زانی جیسے القابات سے نوازا۔ دوسری طرف انہوں نے چھ مسلم ممالک کے باشندوں کیلئے امریکہ میں آنے کیلئے ویزہ دینے سے اس وجہ سے انکار کر دیا کہ وہ دہشت گرد ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے سفید فام دہشت گردوں اور برتری کے دعوے کرنے والوں کی حمایت کی، ٹرمپ نے اس سال سیاہ فام تحریک ’’سیاہ فام کی زندگی اہم ہے‘‘ کے خلاف بھی زہر اگلتے ہوئے ان مظاہرین کو لوٹ مار کرنے والے ڈکیت اور لٹیرے قرار دیا اور اس تحریک کو کچلنے کیلئے فوج کو بلانے کا عندیہ دیا جس کی ان کے وزیر دفاع مائیک ایسپر نے مخالفت کی اور آج انہوں نے اپنے وزیر دفاع کو برطرف کر دیا، یاد رہے کہ اپنے چار سالہ دور میں ٹرمپ نے پانچ وزرائے دفاع کو برطرف کیا، ان کے غیر دانشمندانہ اقدامات کی جس کسی نے بھی مخالفت کی اس کو فارغ کر دیا گیا جبکہ کچھ افسران نے خود ہی اختلاف رائے اور ان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے استعفے دے دئیے، عالمی سطح پر سالوں کی بات چیت اور کوششوں کے بعد ایران نیو کلیئر معاہدہ طے پایا اور اوباما دور میں اس پر عملدرآمد بھی شروع ہو گیا مگر ٹرمپ نے اقتدار میں آتے ہی وہ معاہدہ منسوخ کر دیا جس سے دنیا ایک بار پھر خطروں سے دو چار ہو گئی، پیرس اکورڈ یعنی ماحولیات کا عالمی معاہدہ جو اوبامہ دور میں کیا گیا تھا ٹرمپ نے اسے بھی یکطرفہ طور پر منسوخ کر دیا، یورپی یونین اور نیٹو جیسے معاہدوں پر بھی عملدرآمد روک دیا گیا اور پھر کرونا کی وباء پر ناکامی کے بعد ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے بھی امریکہ کو نکال لیا۔ آخر میں چین کے ساتھ زبردست معاندانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے اس پر ٹیرف کی پابندیاں لگائیں جبکہ ایران پر مزید معاشی پابندیاں لگا دیں، جنوبی کوریا اور افغان طالبان کیساتھ مذاکرات میں امریکہ کو عالمی سطح پر سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا، غرض یہ کہ ایسے بے شمار احمقانہ اور جارحانہ رویے پچھلے چار سالوں میں امریکی عوام نے دل پر جبر کر کے اس امید پر سہہ لئے کہ وہ 2016ء کی غلطی کو 2020ء میں نہیں دھرائیں گے اور نتائج نے ثابت کر دیا کہ ؎
اب کے تجدیدِ وفاء کا نہیں امکاں جاناں
سچ پوچھے تو زندگی میں پہلی مرتبہ 2016ء کے امریکی انتخابی نتاج کے آنے کے بعد ہمیں امریکی عوام کے آئی کیو لیول پر شدید شبہات اور تحفظات کا اظہار کرنا پڑا تھامگر اب بھی پاکستان میں نواز شریف اور امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے رویوں اور حامیوں میں ایک قدر مشترک نظر آتی ہے، دونوں سیاستدان زمینی حقائق کوتسلیم کرنے سے عاری ہیں اور الیکشن پر فراڈ اور بے ضابطگیوں کے الزامات لگارہے ہیں جبکہ ان دونوں کے حامی افراد کا من سینس سے عاری لکیر کے فقیر اور ٹرک کے پیچھے لگی بتی کو اپنا رہنما سمجھتے ہیں اور برین واشڈ ہو چکے ہیں، ٹرمپ اور بائیڈن کی سوچ میں کس قدر زمین آسمان کا فرق ہے اس کا اندازہ جوزف بائیڈن کی وکٹری سپیج سے ہو جاتا ہے، یہاں ہمارے کچھ تحفظات وائس پریذیڈنٹ کملا ہیرس کے حوالے سے ہیں، یہ ہمارا تجزیہ بھی ہے اور تاریخ بھی بتاتی ہے کہ دنیا میں کسی بھی جگہ اگر کوئی یہودی یا ہندو جاتا ہے توہ اسرائیلی اور انڈین ایجنڈے کو بڑھاوا دیتا ہے، کملاہیرس بھلے امریکہ میں ہندوستانی نژاد دوسری نسل ہوں مگر وہ ماضی میں لگاتار انڈیا بھی جاتی رہی ہیں اور گہرے ثقافتی اور مذہبی اثرات رکھتی ہیں، وائٹ ہائوس میں دیوالی کی تقریبات شروع کرنے تک تو صحیح ہے مگر جب انہوں نے پاکستان کے مقابلے میں انڈین ایجنڈے کو بڑھانا شروع کیا تو وہ لمحہ فکریہ ہو گا، وہ لاکھ سیاسی طور پر اپنے آپ کو سیاہ فام خاتون کہیں مگر مودی نے انہیں انڈین کہہ کر مہر ثبت کر دی ہے۔