پاکستان میں حب الوطنی اور غداری کی تقسیم اسناد

313

چونکہ پاکستان میں حب الوطنی اور غداری کے حقداروں کے درمیان جنگ جاری ہے جس کا پاکستانی میڈیا پر چرچا ہے پاکستان کا محب وطن کون اور غدار کو ن ہے ؟جس میں جمہوریت پسند، انصاف پسند، ترقی پسند، آمریت پسند، ملک گیریت پسند، سخت گیریت پسند اور فرسودیت پسند لوگ بحث کررہے ہیں، ویسے تو آغازِ پاکستان سے حب الوطنی اور غداری کی اسناد تقسیم کی گئی جس میں تحریک پاکستان کے بانی رکن اور قرارداد لاہور پیش کرنے والے مولوی فضل الحق شیر بنگال قائد کی درخواست پر پاکستان میں آباد ہونے والے حسین سہروردی، کلکتہ کی گلیوں میں بن کر رہے گا پاکستان کا جھنڈا لہرانے والے شیخ مجیب کو سب سے پہلے غداری کاسرٹیفکیٹ دیا گیا جو قائداعظم کے حمایتی اور ہمدرد تھے جن پر اگرتلہ سازش کیس بنایا گیا پھر ملک توڑنے کے لئے انہیں قید کیا گیا تاکہ وہ پاکستان کو بچا نہ پائیں، بعدازاں فاطمہ جناح اور ان کے تمام حمایت کرنے والوں اور حامیوں باچا خان، غوث بخش بزنجو، حبیب جالب کو غدار قرار دیا گیا، پاکستان میں ایٹم بم کی بنیاد رکھنے والے زیڈاے بھٹو، شمالی کوریا سے چوری چھپے میزائل ٹیکنالوجی لانے والی محترمہ بینظیر بھٹو،ایٹم بم کے دھماکے کرنے والے نواز شریف، قائداعظم کے حمایتی اکبر بگٹی، قائد کے دوست اور ساتھی قاضی عیسیٰ کے صاحبزادے قاضی فائز عیسیٰ کو غداری کے القابوں سے نوازا گیا، آج مسلم لیگ کی قیادت کو غدار کہا جارہا ہے جس میں حال ہی میں قومی اسمبلی کے ممبر اور سابقہ سپیکر ایاز صادق کو بھی اس بات پر غدار قرار دیتے ہوئے پورے ملک میں بینرز، پوسٹرز اور جھنڈے لگا دئیے گئے کہ انہوں نے وزیر خارجہ کے بارے میں کہا ہے کہ جب بھارت نے پاکستان پر بارہ جہازوں سے حملہ کیا جس میں ایک بھارتی پائلٹ ابھی نندن پکڑے گئے جن کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس بات پر چھوڑنے پر مجبور کیا کہ اگر ہم نے پائلٹ کو نہ چھوڑا تو بھارت 9بجے رات پاکستان پر حملہ کر دیگا جس پر انہیں بھارتی ایجنٹ اور غداری کے لقب سے نوازا گیا حالانکہ انہوں نے پاکستانی قوم پر بہت احسان کیا کہ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے ملک پر حملہ آور بھارتی پائلٹ کو اتنی عجلت اور جلدی میں کیوں دوسرے دن چھوڑ دیا تھا جبکہ اس پائلٹ کی وجہ سے پاکستان بھارت پر مقدمہ درج کرا سکتا تھا، اقوام متحدہ میں واویلا مچا سکتا تھا مگر حکومت نے نندن کو چھوڑ کر جان کی امان پائی جو نہایت بزدلی، بے غیرتی اور وطن دشمنی کا ثبوت ہے کہ عمران خان نے بھارت کے ساتھ خیر سگالی قائم کرتے ہوئے پائلٹ نندن کو چھوڑدیا تاکہ وہ دوبارہ پھر پاکستان پر حملے کرے، یہ بات پائلٹ نندن تک محدود نہیں رہی ہے اب حکومت پاکستان میں دہشت گردی مچانے والے جاسوس کلبھوشن کو بھی مختلف حیلوں، بہانوں ،عدالتی کارروائی سے چھوڑنے جارہی ہے جن کی پھانسی پر بھی عملدرآمد نہیں ہو گا، تاہم برعکس پاکستان کے پانچ مرتبہ آئین شکن منسوخ اور معطل کرنے والے جنرلوں کو محب وطن قرار دیا گیا جبکہ آئین پاکستان آئین شکنوں کے بارے میں مقدمہ غداری اور سزائے موت کا حکم دیتا ہے مگر بدقسمتی سے جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق کو جنرل مشرف کو اعلیٰ خصوصی عدالت نے آئین شکنی پر سزائے موت دی تو پاکستان کے درباروں ،ایوانوں، دربانوں اور بلوانوں میںماتم مچ گیا تھا کہ آئین شکنی کیسے غداری کہلا سکتی ہے جس کو جنرل پامال کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے، لہٰذا اگر ایک مقدمہ میں سزائے موت ہو گئی تو اس کی نظیر پر باقی زندہ اور مردہ جنرلوں کو قبروں سے نکال نکال کر پھانسیاں دی جائیں گی جس سے ثابت ہوا کہ آئین کے پاسداران اور محافظ سب کے سب غدار کہلائے جبکہ آئین شکن محب وطن بن بیٹھے ہیں، تاہم پاکستان میں آج ایک غیر جمہوری، غیر منتخب حکومت قائم ہے جس کو 25جولائی 2018ء کو ڈاکہ زنی مار کر اقتدار میں لایا گیا تھا جن کے وزیر اور مشیر تمام کے تمام نااہل اور نالائق ثابت ہوئے ہیں جو دن کو سوتے ہیں اور رات کو جاگتے ہیں، جن کے ایک وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے حال ہی میں اعلان کیا کہ جس طرح دہشتگردوں نے بلور خاندان کے افراد کو قتل کیا ہے اسی طرح وہی دہشت گرد شریف خاندان کو قتل کرے گا جس سے ملک بھر میں بحث و مباحثے چھڑ چکے ہیں کہ کیا وہ دہشتگرد مخصوص اداروں کے پروردہ ہیں جو اشاروں پر بے نظیر بھٹو اور بلور خاندان کو اور دوسرے سینکڑوں پاکستانیوں کو قتل کرتے رہے ہیں یا قتل کرینگے چونکہ بریگیڈیئر(ر) اعجازشاہ آئی بی کا سابقہ سربراہ رہ چکا ہے جن کے بارے میں محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنا حلفیہ وصیتی بیان امریکی صحافی مارک سیگل کو دیا تھا کہ اگر مجھے قتل کیا گیا تو میرے قاتل جنرل مشرف، جنرل حمید گل، بریگیڈیئر(ر) اعجاز شاہ اور پرویزالٰہی ہونگے جس کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو 27دسمبر 2007ء کو قتل کر دی گئیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اعجاز شاہ ایک پیشہ ور قاتل ہیں جو دہشتگردوں، قاتلوں کے سربراہ ہیں جن کے بیان کے بعد شریف خاندان کی جیل سے باہر مریم نواز نے شیر نوجوانوں کی مدد حاصل کر لی ہے جس کے بعد اعجاز شاہ اور فواد چودھری کے بیانات کہ ہم نے بھارت میں گھس کر پلوامہ پر حملہ کیا جو بھارت کے الزام کو ثابت کرتا ہے کہ پاکستان اردگرد کے ملکوں میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے، اب پاکستان گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں شامل کر دیا جائیگا جس سے ملک پوری دنیا میں تنہا رہ جائے گا جس پر سیاسی، معاشی اور مالی پابندیاں بھی عائد ہو سکتی ہیں جس سے ثابت ہورہا ہے کہ موجودہ حکومت کو زبردستی بندوق کے زور پر لایا گیا جو پاکستان کو اس نہج پر پہنچارہی ہے جس سے آئندہ کوئی حکومت واپس نہیں لا پائے گی، جس کی خارجی، داخلی، دفاعی اور معاشی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے ملکی خزانہ خالی پڑا ہے، قرضوں کی اقساط بھی سعودی عرب اور گلف کی ریاستوں سے ادھار لے کر دی جارہی ہیں، ملک میں مہنگائی، بیروزگاری، بھوک، ننگ اور غربت افلاس کا طوفان برپا ہو چکا ہے لوگ خودکشیاں کررہے ہیں مگر نیرو بانسری بجا بجا کر ملک کا خانہ خراب کررہا ہے۔