‘جوبائیڈن کی افغان پالیسی ٹرمپ انتظامیہ سے مختلف ہوگی’

331

امریکی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین اور تجریہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدارتی انتخابات 2020 کے غیر حتمی نتائج کے مطابق نو منتخب صدر جوبائیڈن کی افغان پالیسی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ سے مختلف ہو گی۔

اس طرح کے اشارے مل رہے ہیں کہ نو منتخب صدر کی پیرس ماحولیاتی تبدیلی معاہدہ، ایران جوہری معاہدہ، عالمی ادارۂ صحت، نیٹو، چین اور افغانستان کے حوالے سے حکمتِ عملی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی نسبت خاصی مختلف ہو گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان کا مسئلہ حالیہ امریکی انتخابات کا بڑا موضوع نہیں تھا اور دونوں سیاسی جماعتوں – ری پبلکن اور ڈیموکریٹس- افغانستان کے حالات سے واقف ہیں اور بڑی حد تک دونوں جماعتوں کے لیے افغان پالیسی ایک ہی تھی البتہ طریقہ کار میں معمولی اختلاف تھا۔

کابل میں مقیم سینئر صحافی اور تجزیہ کار صفت صافی کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کے بقول جو بائیڈن آٹھ سال بطور نائب صدر رہنے کے دوران افغانستان کا متعدد مرتبہ دورہ کر چکے ہیں۔ اس لحاظ سے وہ نہ صرف افغانستان کے مسائل سے آگاہ ہیں بلکہ افغانستان میں تمام دھڑوں سے بھی واقف ہیں۔