سعودی استحکام کیلئے خطرہ بننے والوں کیساتھ سختی سے نمٹیں گے: محمد بن سلمان

221

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے انتباہی انداز میں کہا ہے کہ مملکت کو دھمکانے والوں اور سکیورٹی اور استحکام کے لیے خطرہ بننے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مملکت کے اعلی ترین مشاورتی ادارے، مجلس شوری، کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکوئی بھی ہماری سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کا خیال رکھتا ہو، ہم اس کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے

شہزادہ محمد بن سلمان نے شدت پسندی اور دہشت گردی کی تمام شکلوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ2017 میں وزارت داخلہ کی تنظیم نو اور سکیورٹی کے نظام میں اصلاحات کے بعد سے تیل ایکسپورٹ کرنے والے دنیا کے چوٹی کے ملک اور امریکا کے انتہائی اہم اتحادی سعودی عرب میں حقیقی دہشت گردانہ حملوں کی تعداد گھٹ کر  تقریباً صفر‘ رہ گئی ہے۔

 

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ولی عہدہ شہزادہ محمد بن سلمان 2017 میں شاہی محل میں بغاوت کے بعد اس وقت کے ولی عہد کو معزول کرکے خود ولی عہد بن گئے تھے۔

محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں بدعنوانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اگرچہ کرپشن عام ہے اور پہلے کینسر کے موذی مرض کی طرح پھیل رہی تھی لیکن انسداد بدعنوانی کی مہم بڑی کامیاب رہی ہے اور تین سال کے دوران قومی خزانے اور سرکاری ادروں سے لوٹ کھسوٹ کیے گئے 247 ارب ریال وصول کرلیے گئے ہیں اور یہ رقم غیر تیل آمدن کا 20 فیصد ہے۔