جوبائیڈن کا دفتر میں پہلے دن ہی مسلمانوں پر سے پابندی ہٹانے کا ارادہ

387

واشنگٹن: جوبائیڈن کے مہم چلانے والے منیجرز کا کہنا ہے کہ منتخب امریکی صدر عہدہ سنبھالنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے جن چار ایگزیکٹو آرڈرز کو منسوخ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ان میں کچھ مسلم اکثریتی ممالک کے افراد کی امریکا آمد پر پابندی کا آرڈر بھی شامل ہے۔

مہم چلانے والے منیجرز نے فوکس نیوز کو بتایا کہ ایگزیکٹو اقدامات میں ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق پیرس معاہدے میں دوبارہ شمولیت کو بھی شامل کیا گیا ہے جبکہ ڈیفرڈ ایکشن فار چائلڈہڈ ارائیولز پروگرام کو بحال کرنے اور عالمی ادارہ صحت میں دوبارہ شامل ہونے کے حوالے سے بھی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

واضح رہے کہ ہفتے کے روز فاکس نیوز اور بہت سے دوسرے امریکی ذرائع ابلاغ کی جانب سے جوبائیڈن کو امریکی صدارتی انتخابات 2020 کے فاتح کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

تاہم منگل کو ٹرمپ کی جانب سے انتخابات کے نتائج کو مسترد کرنے کی مہم جاری ہے اور بہت سی ریاستوں میں بیلٹ اور ووٹوں کی گنتی کو قانونی مقدمات دائر کرکے چیلنج بھی کیا گیا ہے۔

پیر کے روز سیاسی اعداد و شمار جمع کرنے والی نیوز سائٹ ریئل کلیئر پولیٹکس (آر پی سی) نے جوبائیڈن کو اس وقت منتخب صدر کی حیثیت سے واپس اتار دیا جب پنسلوینیا کے 20 الیکٹرورل ووٹس کا معاملہ سامنے آیا۔

ادھر گزشتہ روز امریکی محکمہ انصاف کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اٹارنی جنرل ولیم بار کے وفاقی پراسیکیوٹر کو انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کی اجازت دینے پر استعفیٰ دے دیا۔

عہدیدار رچرڈ پائلر ان تحقیقات کی نگرانی کریں گے، ان کا کہنا تھا کہ وہ اٹارنی جنرل کے حکم کے ردعمل میں مستعفی ہورہے ہیں، مزید یہ کہ وفاقی حکومت کے بجائے انتخابی بے ضابطگیوں کو انفرادی ریاستوں کے طور پر دیکھیں۔

خیال رہے کہ جوبائیڈن نے اپنی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جاری کی جانے والی بہت سی پالسیوں کو ختم کردیں گے۔