مصنوعات پر بھگوان کے خاکے، بھارت میں امریکی کمپنی کے خلاف احتجاج

359

دنیا کی سب سے بڑی امریکی ریٹیلر کمپنی یعنی آن لائن مصنوعات فروخت کرنے والے اسٹور ایمازون نے ہندوؤں کے احتجاج کے بعد متنازع ’زیر جامہ‘ اور ’پائیدان‘ کو اپنی ویب سائٹ سے ہٹالیا۔

دنیا کے سب سے بڑے آن لائن اسٹور پر کچھ دن قبل ایسی زیر جامہ (انڈر ویئرز) اور پائیدان (ڈور میٹس) فروخت کیے جا رہے تھے جن پر ہندوؤں بھگوانوں کے خاکے شائع کیے گئے تھے۔

خاکے والی ’زیر جامہ‘ اور ’پائدان‘ کو فروخت کے لیے ایمازون پر پیش کیے جانے کے بعد بھارت میں لوگوں نے کمپنی کے خلاف احتجاج شروع کیا۔

بھارتی افراد نے سوشل میڈیا پر ایمازون کے بائیکاٹ کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے آن لائن اسٹور سے توہین آمیز ’زیر جامہ‘ و’پائدان‘ ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔

لوگوں کے شدید احتجاج کے بعد ایمازون نے ہندو مذہب کے پیروکاروں سے معذرت کرتے ہوئے فوری طور پر ’زیر جامہ‘ و’پائدان‘ کو ہٹادیا۔

متنازع زیر جامہ اور پائیدان کو بھارت سے باہر امریکا و یورپی ممالک میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا۔

فروخت کے لیے پیش کی گئیں زیر جامہ و پائدان پر بھگوان اوم اور بھگوان گنیشا کے خاکے بنائے گئے تھے۔

ایمازون نے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والی مصنوعات کو ویب سائٹ پر فروخت کے لیے پیش کیے جانے پر بھارتیوں سے معافی مانگتے ہوئے انہیں فوری طور پر ویب سائٹ سے ہٹادیا۔

ساتھ ہی ایمازون انتظامیہ نے واضح کیا کہ وہ کسی کے بھی مذہبی جذبات کو مجروح کرنے پر یقین نہیں رکھتی اور نہ ہی اپنی ویب سائٹ پر متنازع چیزوں کی فروخت کی اجازت دیتی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ایمازون نے بھارتی افراد سے معافی مانگی ہو، اس سے قبل 2017 میں بھی ایمازون پر بھارتی ترنگے سے سجے ’زیر جامہ‘ و’پائدان‘ کو فروخت کے لے پیش کرنے پر بھی ایمازون نے معافی مانگی تھی۔