جوبائیڈن نے کورونا کیخلاف کمر کس لی

298

جوبائیڈن نے کورونا وبا سے نمٹنے کے لیے ماہرین پر مشتمل 13 رکنی ٹیم تشکیل دیدی ہے اور ایس او پیز کے حوالے سے بھی اہم اعلانات کیے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق حالیہ امریکی صدارتی الیکشن میں کانٹے دار مقابلے کے بعد کامیابی حاصل کرنے والے جوبائیڈن کی کامیابی کا اعلان 14 دسمبر کو ہونا ہے جب کہ وہ اپنی ذمہ داریاں 20 جنوری سے نبھانا شروع کریں گے تاہم انہوں نے اپنی ترجیحات کا اعلان کردیا ہے اور نائب صدر کاملا ہیرس کے ہمراہ ایک ویب سائٹ بھی متعارف کرائی ہے۔

صدر ٹرمپ کے کورونا وبا سے متعلق اقدامات کو سخت تنقید کا نشانہ بنانے والے جوبائیڈن نے کورونا وبا کو سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے 7 نکاتی ایجنڈا پیش کیا ہے جس میں تمام امریکیوں کو کورونا ٹیسٹ کی مفت سہولت اور ویکسین کی دستیابی کی صورت میں اس کی تقسیم کو مساوی بنانا شامل ہے۔

جوبائیڈن نے اقتدار کی منتقلی سے قبل ’ٹرانزٹ پیریڈ‘ کے دوران ڈاکٹر ووک مرتھی، سابق فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کمشنر ڈاکٹر ڈیوڈ کیسلر اور ییل یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور ایسوسی ایٹ ڈین ڈاکٹر مارسیلا نونیز اسمتھ پر مشتمل 13 رکنی ٹیم کا اعلان کیا ہے جو انہیں عالمی وبا کی صورتِ حال سے آگاہ کرتے رہیں گے۔

جوبائیڈن کے ان اقدامات پر صدر ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ اگر ملک کی باگ دوڑ ڈیموکریٹ کے ہاتھوں میں آگئی تو عوام کو مزید 4 سال کے لیے کورونا کی ویکسین دستیاب نہیں ہوگی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ اگر میں نے بیوروکریسی کو لگام نہ ڈالی ہوتی اور فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی پر دباؤ نہ ڈالا ہوتا تو یہ لاکھوں جانوں کو ضائع کردیتے لیکن ویکسین کی منظوری نہ دیتے۔

صدر ٹرمپ نے فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی پر الیکشن سے قبل ویکسین کی دستیابی میں تاخیری حربے استعمال کرنے کا الزام بھی عائد کیا تاکہ صدر ٹرمپ کو الیکشن میں سیاسی فوائد حاصل نہ ہوسکیں۔