عراق: داعش کا فوجی چوکی پرحملہ، گیارہ افراد ہلاک

411

عراق کے دارالحکومت میں بغداد ہوائی اڈے کے قریب ایک فوجی چوکی پر داعش کے حملے میں گیارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق داعش کے ایک گروپ نے الردوانیہ میں عراقی فوج کی جانچ چوکی پر حملہ کردیا، جس میں کم از کم گیارہ افراد ہلاک اور آٹھ دیگر زخمی ہوگئے۔ حملہ آور چار گاڑیوں میں سوار ہوکر آئے تھے۔ انہوں نے الردوانیہ میں فوجی جانچ چوکی پر گرینڈ اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کردیا۔ اس فوجی چوکی پر حاشد قبائلی فورسز کے جوان تعینات تھے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق داعش کے انتہا پسندوں نے مانیٹرنگ ٹاور کو نشانہ بنایا، جس میں حاشد قبیلے کے 5 جوان اور چھ مقامی افراد مارے گئے، جو اس حملے کو ناکام بنانے کے لیے وہاں آئے تھے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ آرمی اور پولیس فورسز نے حملہ آوروں کو پکڑنے کے لیے کارروائی شروع کردی ہے۔ ایک میڈیکل افسر نے اے ایف پی کو ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آٹھ زخمیوں کو وسطی بغداد کے ایک ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔

گوکہ فی الحال داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم سکیورٹی ذرائع اور طبی عملے کا کہنا ہے کہ یہ حملہ داعش کی ہی کارستانی ہے۔

ایک سکیورٹی افسر کا کہنا تھا کہ اعش نے مانیٹرنگ ٹاور پر حملہ کیا ہے۔ جس میں حاشد قبیلے کے چھ افراد مارے گئے جب کہ حملے کو ناکام بنانے کے لیے وہاں آنے والے چھ مقامی لوگ بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔

خیال رہے کہ داعش یا آئی ایس آئی ایس نے 2014 میں عراق کے ایک تہائی علاقے پر قبضہ کرلیا تھا۔ انہوں نے شمال اور مغربی عراق کے تقریباً تمام بڑے شہروں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا اور دارالحکومت بغداد کے نواحی علاقے تک پہنچ گئے تھے۔

امریکی قیادت والے فوجی اتحاد کی حمایت سے تین سال تک مسلسل زبردست جنگ کے بعد 2017 میں عراق نے آئی ایس آئی ایس کو شکست دے دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس فوجی اتحاد نے اس سال عراق سے اپنے بیشتر فوجی واپس بلالیے تھے اور اس نے خود کو اب صرف تین اہم علاقوں، بغداد، مغرب میں عین الاسعد اور شمال میں اربیل تک مرکوز کر رکھا ہے۔

لیکن داعش کے خفیہ سیل سکیورٹی فورسز اور ریاستی انفرااسٹرکچر کو اکثر و بیشتر نشانہ بناکر فرار ہوجاتے ہیں۔ وہ بالخصوص ریگستانی علاقوں کو نشانہ بناتے ہیں جہاں فوج بہت کم تعداد میں تعینات ہے۔

تاہم اتوار کی دیر رات داعش نے جس طرح دارالحکومت کے قریبی علاقے میں حملہ کرکے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو ہلاک کردیا اس طرح کے واقعات شاذ و نادر ہی پیش آتے ہیں۔