ٹرمپ کی شکست سے اسرائیلی وزیراعظم کو دھچکا،فلسطینیوں کے لئے امید کی کرن

245

یروشلم: جو بائیڈن کی امریکا کے صدارتی انتخاب میں جیت اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے لیے ایک دھچکا ہے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مضبوط حلیف ہیں جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے واشنگٹن اور فلسطینیوں کے درمیان نئے تعلقات کو فروغ مل سکتا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے کہا کہ وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ، اسرائیل کا اب تک کا سب سے مضبوط حلیف تھا جبکہ ریپبلکنز نے اسرائیلی وزیر اعظم کے حق میں پالیسیز اپنائی تھیں۔

نیتن یاہو نے اتوار کو ٹوئٹر پر اسرائیل کے مفادات کو آگے بڑھانے والے ٹرمپ کے اقدامات کا شکریہ ادا کرنے سے قبل جو بائیڈن اور نائب صدر کے لیے منتخب کمالا ہیرس کو مبارکباد پیش کی۔

ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر 2015 کے ایران جوہری معاہدے کو ختم کردیا تھا جو نیتن یاہو کا ناپسندیدہ تہران اور عالمی قوتوں کے درمیان ایک معاہدہ تھا۔

انہوں نے یروشلم کو اسرائیل کا ’غیر منقسم دارالحکومت‘ تسلیم کرنا، بین الاقوامی اتفاق رائے کو توڑتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو شہر میں منتقل کرنے جیسے اقدامات بھی کیے تھے۔

انہوں نے گولان کی پہاڑیوں پر بھی اسرائیلی خودمختاری کی حمایت کی – جسے شام سے قبضہ کر لیا گیا – اور مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاریوں پر تنقید کرنے سے گریز کیا۔

انہوں نے گولان کی پہاڑیوں پر بھی اسرائیلی خودمختاری کی حمایت کی تھی جسے شام سے قبضے میں لیا گیا تھا اور مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاریوں پر تنقید کرنے سے گریز کیا تھا۔

اسرائیلی ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کے تھنک ٹینک کے ووٹنگ سے قبل کے سروے کے مطابق 63 فیصد اسرائیلی چاہتے تھے کہ ٹرمپ دوسری مرتبہ کامیابی حاصل کریں۔

امریکی نتائج کے اعلان کے بعد 28 سالہ اسرائیلی ٹرک ڈرائیور شموئل نیمرووسکی نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ’ٹرمپ بہتر ہوتا‘ تاہم وہ جو بائیڈن سے بھی مطمئن ہیں کیونکہ منتخب صدر کی ’اسرائیل کے خلاف کوئی رائے نظر نہیں آتی‘۔

درحقیقت جو بائیڈن کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات گہرے ہیں اور وہ کئی دہائیوں سے یہودی ریاست کے حامی رہے ہیں۔

انہوں نے سینیٹ میں پہلی بار منتخب ہونے کے چند مہینوں بعد 1973 میں اسرائیل کا دورہ بھی کیا تھا۔

براک اوباما کے نائب صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے 2015 کے ایک تقریر میں جو بائیڈن نے کہا تھا کہ امریکا ’یہودی عوام کے وطن کی حفاظت کے مقدس وعدے‘ پر عمل پیرا ہے۔

2012 میں نائب صدر کی بحث کے وقت جو بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ اور بینجمن نیتن یاہو ’39 سال سے دوست ہیں‘۔

بینجمن نیتن یاہو نے اپنے بیان میں جو بائیڈن کو اسرائیل کا ایک بہت بڑا دوست‘ کہہ کر پکارا جس سے ان کے ’ایک لمبے اور گہرے ذاتی تعلقات‘ رہے ہیں۔

جو بائیڈن نے 1995 میں یروشلم میں امریکی سفارت خانہ قائم کرنے کے 1995 کے سینیٹ کے بل کی حمایت کی تھی۔

جو بائیڈن کی 2020 کی مہم میں کہا گیا کہ وہ ٹرمپ کے سفارت خانے کے اقدام کو تبدیل نہیں کریں گے بلکہ اسرائیل سے منسلک مشرقی یروشلم میں ’فلسطینیوں کو شامل کرنے‘ کے لیے ایک قونصل خانہ دوبارہ کھولیں گے۔