امریکا کے 46 ویں صدر جوبائیڈن اور کملا ہیرس کی زندگی پر ایک نظر

258

46ویں صدر منتخب ہونے والے جوبائیڈن 20 نومبر 1942 کو امریکی ریاست پنسلوانیا میں پیدا ہوئے۔

جوبائیڈن کے سیاسی کیرئیر کا آغاز 1972 میں ہوا جب وہ 30 برس کی عمر میں امریکا کے چھٹے کم عمر ترین سینیٹر منتخب ہوئے۔ جوبائیڈن 1973 سے 2009 تک مسلسلسینیٹر منتخب ہوتے رہے۔

 

سینیٹر منتخب ہونے کے صرف دو ہفتے بعد ان کی پہلی اہلیہ اور بیٹی ایک کار حادثے میں چل بسیں،دونوں بیٹے شدید زخمی ہوگئے۔ 1977 میں سینیٹر جو بائیڈن نے جِل سے دوسری شادی کی۔

1988 میں جوبائیڈن صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں شامل ہوئے لیکن ایک برطانوی سیاستدان کی تقریر کا اقتباس چرانے کے انکشاف پر دوڑ سے باہر ہوگئے۔

2007 میں بھی صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں شریک ہوئے لیکن جلد ہی باراک اوبامہ اور ہیلری کلنٹن کی مقبولیت کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے دوڑ سے باہر ہوگئے لیکن صدرباراک اوبامہ نے انہیں نائب صدارت کے لیے امیدوار چن لیا۔

20 جنوری 2009 کو جوبائیڈن نے سینتالیسویں نائب صدر کا حلف اٹھا لیا اور ساتھ سینیٹرشپ سے مستعفی ہوگئے، 20 جنوری 2013 کو جوبائیڈن دوسری بار امریکا کے نائب صدر منتخب ہوئے۔

2015 میں جوبائیڈن کے بیٹے بیو بائیڈن کا دماغ کے کینسر کے باعث انتقال ہوا، تو جو بائیڈن نے 2016 کے صدارتی انتخابات میں شرکت کرنے سے معذرت کر لی۔

 

12 جنوری 2017 کو سابق صدر باراک اوباما نے جو بائیڈن کو صدارتی میڈل آف فریڈم سے نوازا۔ 25اپریل 2019 کو جوبائیڈن نے 2020 میں صدارتی انتخابات لڑنے کا اعلان کردیا۔ جون 2020 کو انہیں مطلوبہ 1991 ڈیلگیٹس کی حمایت حاصل ہوگئی ۔ 18اگست 2020 کو ڈیموکریٹک پارٹی نے باقاعدہ طور پر جو بائیڈن کو صدارتی امیدوار نامزد کردیا۔

نائب صدر کمالہ ہیرس کون ہیں؟
امریکی صدارتی انتخاب کی تاریخ میں کمالہ ہیرس نائب صدر کے عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔

کمالہ ہیرس 20 اکتوبر1964امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر آکلینڈ میں پیدا ہوئیں۔کمالہ 2003 میں سان فرانسیکو کی اعلیٰ ڈسٹرکٹ اٹارنی منتخب کی گئیں، 2010 اور 2014 میں کمالہ نے کیلیفورنیا کی اٹارنی جنرل کی حیثیت سے فرائض انجام دیے ۔

کمالہ 1984 میں ڈیموکریٹک جیرالڈین فریرو اور 2008 میں ریپبلکن سارہ پیلن کے بعد کسی بڑی جماعت کے لیے تیسری خاتون اور پہلی سیاہ فام خاتون نائب صدارتی امیدوار تھیں جنہوں نے اب کامیابی حاصل کرلی ہے۔